انٹربینک میں آج روپے کے مقابلے میں ڈالر کے بھاؤ میں 3 روپے 48 پیسے کی کمی ہوئی ہے۔
انٹربینک میں کاروبار کی بندش پر ڈالر کا بھاؤ 184 روپے 68 پیسے ہے۔
دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں ڈالر کا بھاؤ ڈھائی روپے کم ہوکر 188 روپے ہے۔
ذرائع اوگرا کا کہنا ہے کہ پیٹرول 375روپے 82 پیسے فی لیٹر تک پہنچنے کا امکان ہے، ڈیزل کی نئی قیمت 403 روپے 35 پیسے فی لیٹر تک پہنچنے کا تخمینہ ہے۔
100 انڈیکس نے کاروبار کا اختتام ایک ہزار 646 پوائنٹس اضافے سے ایک لاکھ 70 ہزار 511 پر کیا۔
امریکی خام تیل 100 ڈالر پر پہنچ گیا جبکہ اماراتی مربن کی 120 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈنگ جاری ہے۔
عالمی بازار میں سونے کی قیمت 56 ڈالرز کم ہو کر 4342 ڈالرز فی اونس ہو گئی۔
ایران جنگ اور روسی آئل ریفائنریوں پر یوکرینی حملوں کے باعث عالمی سطح پر تیل کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر کئی روز سے مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے۔
ڈیزل اور پیٹرول کی نئی قیمتیں 11ستمبر کے لیے ہوں گی۔
پی ایس ایکس بینچ مارک 100 انڈیکس کاروبار کے اختتام پر 3078 پوائنٹس کم ہوکر ایک لاکھ 68 ہزار 856 پر بند ہوا۔
حکام کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے 390 ارب روپے ریفنڈز رکھنے کی حد مقرر کی ہے، 390 ارب روپے سے زیادہ کے ریفنڈز ایف بی آر اپنے پاس نہیں رکھ سکتا، گزشتہ مالی سال500 ارب روپے کے ریفنڈز جاری کیے گئے ۔
پرویز ملک کا کہنا ہے کہ قطر نے یقین دہانی کروائی ہے کہ حالات کی بہتری کے ساتھ ایل این جی سپلائی میں بھرپور تعاون کرے گا۔
چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم نے کہا ہے کہ موجودہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عوام کی برداشت سے باہر ہیں۔
ذرائع کے مطابق آٹو پالیسی کا اعلان اگلے ہفتے آئی ایم ایف سے منظوری کے بعد کیا جائے گا۔
ترجمان پورٹ قاسم اتھارٹی اسد وارثی نے تصدیق کی ہے کہ جہاز پورٹ قاسم ٹرمینل 2 پر لنگر انداز ہوا ہے۔
پاکستانی سی فوڈ چین، جاپان، سعودی عرب، یو اے ای اور امریکا سمیت عالمی منڈیوں تک جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھنے کے ساتھ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 367 روپے 75پیسے فی لیٹر ہو جائے گی، ڈیزل کی نئی قیمت 392 روپے67 پیسے فی لیٹر مقرر ہوگی۔