• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وہ 28اپریل اور 27رمضان المبارک کا دن تھا ، نماز مغرب سے کچھ دیر قبل میں مسجد نبویﷺ کے قدمین شریف میں باادب طریقے سے بیٹھ کر ہلکی آواز میںدرود شریف کا ورد اور دعائوں میں مگن تھا ،قدمین شریف مسجد نبویﷺ میں دراصل وہ جگہ ہے جہاں سے عاشقانِ رسولﷺ آقائے دو جہاں کے روضہ مبارک کو سلام پیش کرنے کے بعد باہر آتے ہیں اسی رخ پر آپ ﷺ کے قدم مبارک کا رخ ہے یہی وجہ ہے کہ ہر عاشقِ رسولﷺ آپﷺ کے قدموں میں بیٹھ کر روزہ افطار کرنا اور نماز ادا کرنااپنی خوش نصیبی سمجھتا ہے یہاں سے گنبد خضریٰ بھی پوری طرح نظر آتا ہے ، اس روز بھی قدمین شریف میں ہزاروں کی تعداد میں عاشقانِ رسولﷺ موجود تھے اور کسی بھی وقت مغرب کی اذان ہوا چاہتی تھی کہ اچانک سعودی سکیورٹی اہلکاروں کی بھاگ دوڑ بہت زیادہ بڑھ گئی اندازہ ہوچکا تھا کہ کسی خوش قسمت شخصیت کی سن لی گئی ہےاس کے لیے روضہ رسولﷺ کے احاطے میں افطار کا اہتمام کیا گیا ہے ، جس کے لیے روضہ رسول ﷺ کا دروازہ کھولا جائے گا، چند لمحوں میں وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف مسجد نبوی ﷺ میں مہمانوں کے لیے مختص خصوصی الیکٹرک گاڑی میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ وہاں سے گزرے اسی اثنامیں پہلے وزیر اعظم شہباز شریف کی صدائے بلند ہوئیں پھر اچانک چند لوگوں نے چور چور کے نعرے لگانا شروع کردیے اور لوگوں کی بہت بڑی تعداد نے افطار چھوڑ کر موبائل اٹھائے اور چور چور کے نعرے لگانے کےساتھ ساتھ وڈیوز بنانا شروع کردیں ، جیسے جیسے لوگوں کی آوازیں بلند ہورہی تھیں ویسے ویسے میری ہیجانی کیفیت میں اضافہ ہورہا تھا یہ ہمارے لوگ کہاں موجود ہیں اور کیا کررہے ہیں ،لیکن افسوس کہ ان کے سیاسی قائدین نے ان کو اتنا زیادہ برین واش کردیا ہے اچھائی ،برائی، ادب واحترام کا فرق ختم ہوگیا ہے ، بطور مسلمان ہمارا ایمان یہ ہے کہ کوئی بھی مسلمان اس در پر بغیر اجازت اور بلاوے کے نہیں آسکتا پھر میاں شہباز شریف بھی اس پاک اور بابرکت جگہ بلاوے پر ہی آئے ،ان کی خوش قسمتی کہ انھیں آقا کے در پر خصوصی پروٹوکول ملا ، ان کے لیے رمضان المبارک میں روضہ رسول ﷺ کے دروازے کھلوائے گئے جو بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے جبکہ باہر جن لوگوں نے اپنا روزہ برباد کرکے مسجد نبوی ﷺ کی بے حرمتی کی ،جو بد تہذیبی کی ، ان کی ہدایت کے لیے دعا گو ہوں۔

میں اس موقع پر بلوچ سردار نوابزادہ شاہ زین بگٹی کو بھی سلام پیش کرتا ہوں جنھوں نے مریم اورنگزیب کی ایسے حفاظت کی جیسے ایک بھائی اپنی بہنوں کی کرتا ہے ، انھوں نے ثابت کیا کہ بلوچ قوم اپنی ماں بیٹی بہنوں کی حفاظت کے لیے جان تک دے سکتے ہیں ،مجھے شاہ زین بگٹی نے اسی رات کو ایک ملاقات میں بتایا تھا کہ ان کے ساتھ بدتہذیبی کرنے والا شخص باآسانی ان کی گرفت میں آسکتا تھا لیکن انھوں نے مسجد نبوی ﷺ کے تقدس کا خیال رکھا اور اسے جانے دیا ، شاہ زین بگٹی بلوچ سردار ہیں ان کے لاکھوں چاہنے والے ہیں اور سب اپنے سردار کے ساتھ دنیا کے سردار کے دربار میں ہونے والی بے حرمتی پر ناراض ہیں ، میں اس مو قع پر وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کو سلام پیش کرتا ہوں جو پہلی دفعہ اس پاک سرزمین اور آقائے دوجہاں کے در پر آئی تھیں انھوں نے اپنے ساتھ ہونے والی بدتمیزی اور زیادتی پر اپنے مخالفین کو صرف ہدایت کی دعائیں پیش کی ہیں، انھوں نے توشہ خانہ سمیت مخالفین کے بارے گفتگو کرنے سے صاف انکار کردیا کہ وہ اس پاک جگہ پر سیاست نہیں کرنا چاہتیں ،بلکہ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ مسجد نبوی ﷺ میں بے حرمتی کرنے والے جن پاکستانیوں کو سعودی حکومت نے گرفتار کیا تھا ،وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے انھیں معاف کردیا ہے ، اس وقت شاہ زین بگٹی اور مریم اورنگزیب کا مقام قوم کی نظروں میں بہت بلند ہوچکا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان خصوصاََ عمران خان سیاست کو جس راستے پر لے جارہے ہیں اس کی منزل صرف تباہی ہوسکتی ہے ،خدارا سیاست کو اتنا گندا نہ کریں کہ لوگ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوجائیں ، آپ اپنی خود غرضی کے خول سے نکلیں کہ آپ نہیں تو کچھ نہیں ، اس وقت نہ صرف پاکستان بلکہ اوورسیز والوں کو بھی ایک دوسرے کا دشمن بنوا دیا گیا ہے صرف اپنے مفاد کے لیے جو ناقابلِ قبول ہے ،حکمرانوں کے لیے اوورسیز والوں کا پیغام ہے کہ سابقہ حکومت نے ذاتی استعمال کا ایک موبائل فون پاکستان لانے پر بھی بہت زیادہ ڈیوٹی عائد کردی تھی جسے فوراً ختم کیا جائے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس

ایپ رائےدیں00923004647998)

تازہ ترین