• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

24 فروری 2022 کو روس کے یوکرین پر حملے کے بعد اب یہ جنگ بے قابو ہو رہی ہے۔یہ بات بھی تشویشناک ہے کہ پوری دنیا میں اس جنگ کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔ عالمی رہنماؤں کی جانب سے مناسب اقدامات اور دانشمندانہ منصوبہ بندی دنیا کو افراتفری اور کسی بڑے سانحے سے بچا سکتی ہے۔ یہ صرف دو ملکوں کی جنگ نہیں بلکہ اس سے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے لاکھوں لوگوں کا مستقبل وابستہ ہے۔ اس تنازعہ کے مابعد اثرات انتہائی مہلک ہو سکتے ہیں جن کا کوئی ممکنہ مثبت نتیجہ نہیں نکل سکتا۔ یوکرین جنگ عالمی مداخلت اور بین الاقوامی سفارت کاری کی ناکامی ہے جو منصوبہ بندی، تحمل اور بامعنی بات چیت کے فقدان کی بدولت کسی عالمی سانحے کا موجب بن سکتی ہے۔

اب تک یوکرین سے 4 ملین سے زیادہ لوگ نقل مکانی کر چکے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر یورپ کا رُخ کر رہے ہیں۔ آنے والے ہفتوں میں یہ تعداد 10 ملین سے تجاوز کر سکتی ہے۔ متعدد ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ سوشل میڈیا پر دونوں اطراف سے ہر واقعے کی متضاد رپورٹیں اور خبریں سامنے آرہی ہیں۔ نیٹو ممالک سے ہتھیاروں کی سپلائی کا امکان، یورپ اور امریکی پشت پناہی سے حالات مزید بگڑ رہے ہیں۔ روسیوں کی بھی بڑی تعداد میں ہلاکتیں اور جنگی سازو سامان کا ضیاع ہوا ہے۔ دوسری طرف یوکرین کی فوج نے بڑی بہادری کا مظاہرہ کیا ہے۔ ولادیمیر پیوٹن اپنے عزائم پر قائم ہیں اور جنگ ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔روسی فوج اپنے ہتھیاروں کے بہت بڑے ذخیرے کے ساتھ 2019 سے تیار تھی، وہ یوکرین کی آخری عمارت تک تباہ کرنے کے لیے تیار ہے۔

دیکھنا ہوگا کہ یہ جنگ شروع کن وجوہات کی بنا پر ہوئی اور وہ کون سے اقدامات ہیں جو جنگ بندی میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں؟ تنازعہ کا ماخذ سوویت یونین کی تحلیل اور 1990 میں مغربی اتحادیوں کے ہاتھوں اس کی تذلیل ہے۔ روسیوں نے یوکرین کو روسی فیڈریشن سے متصل علاقہ قرار دیا۔ یہ جنگ یوکرین کے نیٹو اتحاد میں شامل ہونے کی کوشش اور روسی سرحد کے ساتھ امریکی فوجی تنصیبات سے شروع ہوئی۔ یہ پیوٹن کے لیے ناقابلِ قبول تھا وہ ان اقدامات کے اصل مقاصد سے آگاہ تھا۔ 2014 میں، روسیوں نے کیف کو واضح سبق سکھانے کے لیے کریمیا پر قبضہ کر لیا، لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔

اب جبکہ حملے نے یوکرین کا بڑا حصہ تباہ کر دیا ہے اور مغربی ممالک سے یوکرین کو متوقع فوجی مدد اب دستیاب نہیں ہے، ولادیمیر پیوٹن نے جنگ کے خاتمے کے لیے چار براہ راست مطالبات پیش کیے ہیں۔ اول یہ کہ یوکرین حکومت نیٹو اتحاد میں شمولیت کی مذمت کرے، دوسرا یہ کہ یوکرین کریمیا، لوہانسک اور ڈونیٹسک ریاستوں کو تسلیم کرے، سوم یہ کہ مشرقی سرحدی علاقوں کو روس کے حوالے کیا جائے اور خطے میں روسی مفادات کو نشانہ بنانے سے بھی احترازکیا جائے۔ پہلی کے علاوہ، باقی تمام شرائط کو ایک اور جنگ کے لیے جواز کے طور پراستعمال کیا جا سکتا ہے۔ اگر مطالبات پورے نہ کیے گئے تو یوکرین پر قبضہ کر لیا جائے گا۔

روس کی شدید مذمت کی جا رہی ہے لیکن تضاد دیکھیے کہ جب فلسطین اور کشمیر میں اسرائیلی یا بھارتی فوج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں ہوتی ہیں تو ان میں سے کوئی بھی اس پر آواز اٹھانے کو تیار نہیں ہوتا۔ ان خطوں کی مسلم آبادیوں پر ہونے والے مظالم کا ذکر تک نہیں کیا جاتا، لیکن یہ آگ جیسے ہی یورپ کے دروازے تک پہنچی ہے،روس کے خلاف پنڈورا باکس کھل گیا۔دنیا انصاف اور اخلاقیات کے بدترین بحران کا شکار ہو چکی ہے۔ نام نہاد جمہوریت نواز ممالک اور ترقی یافتہ دنیا اس ایکٹ میں شریک نظر آتے ہیں۔ اس کے برعکس، چین محتاط راستہ اختیار کر رہا ہے کیونکہ اسے بھی تائیوان اور ہانگ کانگ کے حوالے سے شدید تنقیدکا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

یوکرین پر حملہ عالمی تنائو پیدا کر رہا ہے۔ ہم اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے کتراتے ہیں لیکن ہم ایک دوسرے کی بقا سے جڑے ہیں۔ کورونا نے اس بات کو ثابت کیا۔یوکرینی مہاجرین کی یورپ آمد سے مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے مہاجرین کے لیے دروازے بند ہو گئے ہیں۔ یورپی حکومتوں کی طرف سے فنڈز فراہم کرنے والے متعدد فلاحی منصوبوں کو اب بند کیا جا رہا ہے اور فنڈز کو دفاعی بجٹ بڑھانے اور روس کے خلاف حفاظتی انتظامات کی طرف موڑ دیا گیاہے۔ دوسری طرف روس اور یوکرین کی جنگ دنیابھر کی خوراک اور ایندھن کی سپلائی چین کو متاثر کر رہی ہے۔ اناج کی پیداوار کا 34فیصد روس اور یوکرین سے آتا ہے جو قیمتوں میں عدم استحکام پیدا کرنے کا باعث بنے گا۔ مہنگائی میں اضافہ اور ایندھن کی فراہمی میں تعطل توانائی کے بحران کو جنم دے گا۔ وہ ممالک جو ایندھن کی درآمد پر انحصار کرتے ہیں تجارتی خسارے میں اضافہ دیکھیں گے، جس سے افراط زر میں اضافہ ہوگا، جو معاشرے کے غریب ترین طبقے کو نقصان پہنچائے گا۔ خوراک کی کمی، اجناس کی قیمتیں اور توانائی بحران درپیش سب سے بڑے چیلنجز ہوں گے۔

ہر روز جنگ جاری ہے، یہ نہ صرف یوکرین بلکہ پوری دنیا میں غربت، مصائب، افراتفری اور محرومیوں کو جنم دے رہی ہے۔ افریقی اور مشرق وسطیٰ کے بچے آج سے دو ماہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ غریب ہیں، وسطی ایشیا میں یتیموں کو فراہم کی جانے والی خوراک اور طبی سامان یوکرین پر حملے سے پہلے کی نسبت کم ہوگیاہے۔ سیاسی قوتوں کی ناکامی ایک معاشی طوفان کو جنم دے رہی ہے جس کو ٹھیک کرنے کے لیے یوکرین حملے کی آگ بجھانے کے کافی عرصے بعدبھی کئی دہائیوں کی ضرورت ہوگی۔

(مصنف جناح رفیع فائونڈیشن کے چیئرمین ہیں)

تازہ ترین