• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسٹاک مارکیٹ، نئے ٹیکس کے نفاذ کی اطلاعات، 195 پوائنٹس کم

کراچی ( اسٹاف رپورٹر) پاکستان اسٹاک ایکس چینج،نئے ٹیکس اور ڈیوٹیزکے نفاذ کی اطلاعات پر مارکیٹ میں مندی کا رحجان ، کے ایس ای100انڈیکس میں 195 پوائنٹس کی کمی ، 57.63 فیصد کمپنیوں کے شیئرز کی قیمت کم ہو گئی،سرمایہ کاری مالیت 35 ارب 60 کروڑ 67 لاکھ روپے گھٹ گئی ، تاہم کاروباری حجم 2.17 فیصد زیادہ رہا، تفصیلات کے مطابق جمعرات کو مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی جانب سے سرگرمی دیکھنے میں آئی ، ایک جانب آئی ایم ایف کی میٹنگ شیڈول ہوجانے کی وجہ سے خریداری میں اضافہ ہوا تو دوسری جانب حکومت کی جانب سے نئے ٹیکس اور ڈیوٹی میں اضافے کی اطلاعات سے فروخت کا دباو بھی دیکھنے میں آیا ،ٹریڈنگ کا آغاز مثبت زون میں ہوا جس کے بعد 100انڈیکس میں203 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا لیکن پھرآئی ایم ایف کی دباو پر حکومت کی جانب سے نئے ٹیکس عائد کرنے کی اطلاعات آنا شروع ہو گئیں جس سےفروخت کا دباو بڑھنے سے مارکیٹ میں 286 پوائنٹس کی مندی بھی نوٹ کی گئی تاہم اختتام پر اس اتار چڑھاو کے بعد کے ایس ای100انڈیکس 195.06 پوائنٹس کی کمی سے 43481.50 پوائنٹس پر آکر بند ہوا، کے ایس ای30انڈیکس بھی 56.57 پوائنٹس کی کمی سے 16475.63 پوائنٹس پر آگیا اور آل شیئرز انڈیکس 146.57 پوائنٹس کم ہو جانے سے 29776.30 پوائنٹس ہو گیا ، مارکیٹ میں مجموعی طور پر 347 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، 128 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمت بڑھ گئی 200.00 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمت کم ہو گئی اور 19 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمت برقرار رہی ،سرمایہ کاری مالیت 35 ارب 60 کروڑ 67 لاکھ 63ہزار روپے کی کمی سے 7234 ارب 20 کروڑ 88 لاکھ 81ہزار روپے ہو گئی ،مارکیٹ میں خرید وفروخت میں اضافے کے سبب کاروباری حجم ایک کروڑ 32 لاکھ 20ہزار شیئرز کے اضافے سے 62 کروڑ 12 لاکھ 16ہزار شیئرز پر پہنچ گیا، جمعرات کو کاروباری حجم کے لحاظ سے ورلڈ کال، سنرجیکو پاک، کے۔الیکٹرک، پاک ریفائنری اور پی آئی اے سی سر فہرست رہے ، مارکیٹ میں سب سے زیادہ شیئرز کی قیمت میں اضافہ باٹا پاکستان اور گیٹرون اندسٹریز کے شیئرز کی قیمت میں ہوا جو کہ 54.89 روپے اور 26.58 روپے فی شیئرز تھا دوسری جانب سب سے زیادہ کمی رفحان میز اور سنوفی ایونٹس کے شیئرز کی قیمت میں ہو ئی جو کہ 539.99 روپے اور 79.00 روپے فی شیئرز تھی۔

بزنس سے مزید