• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
شہزادی ڈیانا— فائل فوٹو
شہزادی ڈیانا— فائل فوٹو  

پرنسز آف ویلز لیڈی ڈیانا کی موت کی حقیقت کو اتنے برسوں کے بعد آخر کار ایک مشہور وکیل سامنے لے آئے۔

بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق لندن سے تعلق رکھنے والے 80 سالہ بیرسٹر مائیکل مینسفیلڈ نے شہزادی ڈیانا اور ان کے بوائے فرینڈ دودی فائد کی موت کے حقائق کے بارے میں بات کی ہے۔

یاد رہے کہ مائیکل مینسفیلڈ ایک ’قتل کیس‘ میں دودی فائد کے والد کی نمائندگی کرتے رہے ہیں۔

مائیکل مینسفیلڈ نے برطانوی میڈیا کو بتایا کہ پچھلے مقدمات کو اب دوبارہ بھی کھولا جاسکتا ہے جس سے شائد کچھ نئی معلومات سامنے آئیں تو شاید سالوں قبل سنائے گئے فیصلے پر تنقید بھی کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ یہ خیال کہ شہزادی ڈیانا کی موت محض ایک حادثہ ہے، درست نہیں، میں اس غلط فہمی کو دور کرنا چاہتا ہوں۔ 

مائیکل مینسفیلڈ نے کہا کہ سچ آخر کار سامنے آ ہی جاتا ہے، لیکن اس کے لیے کسی کو اس سچ کی تلاش کرنی ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ مجھے لگتا ہے کہ یہ کیس ابھی بند نہیں ہوا، طویل عرصے سے چلنے والے اس کیس سے نکلنے کے لیے ابھی اور بھی بہت کچھ ہے جو کسی نہ کسی طرح سامنے آ جائے گا۔

مائیکل مینسفیلڈ نے اس کیس کے حوالے سے 2008ء میں کی گئی انکوائری کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ جب آپ لوگوں سے پوچھتے ہیں کہ جیوری کا فیصلہ کیا تھا، تو وہ یا تو نہیں جانتے یا کہتے ہیں کہ یہ ایک حادثہ تھا۔

اُنہوں نے کہا کہ جیوری نے فیصلے میں یہ نہیں کہا تھا کہ یہ حادثہ ہے،  یہی وہ چیز ہے جسے پولیس اور دیگر لوگ یاد رکھنا چاہیں گے۔

مائیکل مینسفیلڈ نے مزید کہا کہ کورونر نے جیوری کے لیے 5 اختیارات کا مسودہ تیار کیا، یہ پہلا قتل تھا جس کا تعلق مشہور فوٹو گرافر گروپ پاپا رازی اور ڈیانا کے کار کے ڈرائیور کی انتہائی لاپروائی سے ڈرائیونگ سے تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ہم نے عرض کیا کہ یہ بات شواہد کی بنیاد پر پیدا نہیں ہوئی کیونکہ برطانوی پولیس نے تمام پاپارازی فوٹوگرافرز کو مرسڈیز کو قریب آنے اور ٹنل میں داخل ہونے سے روک دیا تھا۔

مائیکل مینسفیلڈ نے کہا کہ اس بارے میں سوالات اب بھی باقی ہیں کہ آیا یہ سوچی سمجھی سازش کے تحت کیا گیا حادثہ تھا جس کے بارے میں شہزادی نے خود پیش گوئی کی تھی، کیونکہ ٹنل میں جہاں ڈیانا کی کار کا حادثہ ہوا وہاں اور بھی بہت سی گاڑیاں موجود تھیں۔

خاص رپورٹ سے مزید