بھارتی معروف انجینئرنگ اداروں خصوصاً انڈین انسٹی ٹیوٹس آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹیز) کو جہاں تعلیمی کامیابی اور روشن مستقبل کی علامت سمجھا جاتا ہے وہیں حالیہ برسوں میں طلبہ کی بڑھتی ہوئی خودکش کی شرح نے نظامِ تعلیم پر سنگین سوالات اُٹھا دیے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گزشتہ 20 برسوں میں آئی آئی ٹیز میں کم از کم 160 طلبہ اپنی جان لے چکے ہیں جن میں سے 69 اموات صرف گزشتہ 5 سال میں رپورٹ ہوئی ہیں۔
رپورٹ میں ایک لاچار باپ کی کہانی شیئر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ مہاراشٹر کے شہر ناسک سے تعلق رکھنے والے سرکاری ملازم سنجے نیرکر آج بھی اپنے بیٹے ورد نیرکر کی روزانہ شام کی فون کال کا انتظار کرتے ہیں جو اب کبھی نہیں آئے گی۔
ورد نے 2022ء میں آئی آئی ٹی دہلی میں ایم ٹیک پروگرام میں داخلہ حاصل کیا تھا جو اس کا بچپن کا خواب تھا، مگر فروری 2024ء میں اس نے مبینہ طور پر خودکشی کر لی۔
وَرد کے اہلِ خانہ کے مطابق اس نے موت سے چند روز پہلے شدید تعلیمی دباؤ اور سپروائزر کے رویے کی شکایت کی تھی۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارت میں آئی آئی ٹی میں داخلہ غیر معمولی کامیابی تصور کیا جاتا ہے، 2025ء میں تقریباً 13 لاکھ طلبہ نے جے ای ای مین کا امتحان دیا تھا جس میں سے صرف 18 ہزار نشستیں بی ٹیک پروگرام کے لیے دستیاب تھیں۔
ایم ٹیک داخلے کے لیے ہر سال تقریباً 10 لاکھ امیدوار امتحان دیتے ہیں، ان اداروں سے فارغ التحصیل افراد میں عالمی کمپنیوں کے سربراہ بھی شامل ہیں جیسے سندر پچائی اور اروند کرشنا۔
بین الاقوامی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ احمد آباد کے طالب علم درشن سولنکی نے 2023ء میں آئی آئی ٹی بمبئی میں داخلہ لیا مگر چند ماہ بعد خودکشی کر لی۔
ان کے والد رمیش سولنکی کا کہنا ہے کہ بیٹے کو ذات پات کی بنیاد پر تضحیک کا سامنا تھا، سولنکی خاندان دلت برادری سے تعلق رکھتا ہے جو بھارت میں سماجی طور پر پسماندہ طبقہ سمجھا جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بھارتی سرکاری اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں خودکشی کرنے والے طلبہ کی بڑی تعداد پسماندہ طبقات سے تعلق رکھتی ہے۔
بھارتی سپریم کورٹ کے سابق جج ایس رویندر بھٹ کی سربراہی میں قائم قومی ٹاسک فورس نے صورتِ حال کو ’انتہائی تشویشناک‘ قرار دیا ہے۔
دوسری جانب خود کشی کرنے والے طُلبہ کے والدین کا کہنا ہے کہ صرف کونسلرز مقرر کرنا کافی نہیں، اداروں کو خطرے میں موجود طلبہ کی خود نشاندہی کرنی ہو گی۔