• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مجتبیٰ خامنہ ای کے سپریم لیڈر بننے کی بنیاد 17 برس کی عمر میں رکھی جا چکی تھی

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

امریکی اور اسرائیلی حملوں میں والد کی شہادت کے دس دن بعد، 8 مارچ 2026 کو مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا تیسرا سپریم لیڈر مقرر کیا گیا۔ 56 برس کی عمر میں وہ 9 کروڑ آبادی والے اس ملک کی سب سے طاقتور شخصیت بن گئے جو اس وقت جنگ اور شدید دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے کبھی عوامی تقریر نہیں کی اور نہ ہی کبھی کسی منتخب عہدے پر فائز رہے۔ تاہم ان کے اقتدار کی بنیاد 4 دہائیاں پہلے خاموشی سے رکھی جا چکی تھی۔

جنگ سے شروع ہونے والا سفر

1986 میں، صرف 17 سال کی عمر میں مجتبیٰ خامنہ ای نے ایران عراق جنگ میں رضاکارانہ طور پر شرکت کی۔ اس وقت ان کے والد علی خامنہ ای ایران کے صدر تھے اور سپریم لیڈر روح اللّٰہ خمینی کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے محقق ڈینیئل ہرزبرگ کے مطابق حبیب بٹالین میں گزارے گئے سالوں نے انہیں آئی آر جی سی کے ادارہ جاتی حلقوں میں حمایت فراہم کی، لیکن ان کی اصل طاقت عوامی مقبولیت یا مذہبی حیثیت کے بجائے سیکیورٹی اداروں سے ہم آہنگی پر مبنی ہے۔

مجتبیٰ کو پاسدارانِ انقلاب کے 27ویں محمد رسول اللہ ڈویژن کی حبیب ابن مظاہر بٹالین میں تعینات کیا گیا تھا، جو مغربی محاذ پر لڑ رہی تھی۔ اس بٹالین کا نام بھی تاریخی علامت رکھتا ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے مختصر عرصہ جنگ میں حصہ لیا، حقیقی لڑائی دیکھی اور ایک مرحلے پر شہر مہرن کی واپسی کے دوران مبینہ طور پر کچھ وقت کے لیے روپوش بھی رہے۔ بعد میں وہ واپس تہران آ گئے، مگر ان کے ساتھ لڑنے والے کئی افراد بعد میں ایران کی طاقتور عسکری قیادت کا حصہ بنے۔

وہ 4 شخصیات جنہوں نے مجتبیٰ خامنہ ای کے اقتدار کی راہ ہموار کی

اسی فوجی ڈویژن سے تعلق رکھنے والی 4 شخصیات بعد میں ایران کے سیکیورٹی ڈھانچے میں انتہائی اثرورسوخ حاصل کر گئیں اور بالآخر مجتبیٰ خامنہ ای کے اقتدار کی راہ ہموار کرنے میں کردار ادا کیا۔

حُسین طائب

1982 میں آئی آر جی سی میں شامل ہونے والے حُسین طائب نے جنگ کے بعد انٹیلی جنس کے شعبے میں اہم کردار ادا کیا۔ بعدازاں انہیں بسیج ملیشیا کا کمانڈر اور پھر آئی آر جی سی کی انٹیلی جنس آرگنائزیشن کا سربراہ مقرر کیا گیا۔

حُسین نژاد

محمدحسین زیبایی‌نژاد المعروف حُسین نژاد جنگ کے دوران کاؤنٹر انٹیلی جنس افسر تھے اور بعد میں ولی امر کور کے سربراہ بنے، جو سپریم لیڈر کی ذاتی سیکیورٹی کے ذمہ دار ہیں۔ انہیں 2022 میں مہسا امینی کی موت کے بعد ہونے والے احتجاج کو کچلنے میں کردار کے باعث امریکا، برطانیہ اور یورپی یونین سمیت کئی ممالک کی جانب سے پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

قاسم سُلیمانی

قاسم سُلیمانی آئی آر جی سی کی قدس فورس کے سربراہ بنے اور مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے اتحادی گروپوں کا وسیع نیٹ ورک قائم کیا۔ انہیں 3 جنوری 2020 کو بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب امریکی ڈرون حملے میں شہید کر دیا گیا۔

حُسین حمدانی

حُسین حمدانی بھی اسی ڈویژن سے ابھرے اور بعد میں شام میں ایرانی افواج کی قیادت کی جہاں انہوں نے بشار الاسد کی حکومت کی حمایت کی۔ 2015 میں حلب کے قریب فضائی حملے میں مارے گئے۔

ان چاروں شخصیات کو مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ ابتدائی جنگی حالات نے جوڑا، اور یہی نیٹ ورک بعد میں طاقت کے مرکز میں تبدیل ہو گیا۔

عہدے کے بغیر طاقت

جنگ کے بعد کئی برسوں تک مجتبیٰ خامنہ ای عوامی منظرنامے سے دور رہے۔ انہوں نے کوئی سرکاری عہدہ نہیں سنبھالا اور نہ ہی عوامی تقریریں کیں۔ ان کی تصاویر بھی شاذ و نادر ہی منظرعام پر آئیں۔ تاہم امریکی سفارتی مراسلوں، جو بعد میں وکی لیکس کے ذریعے منظرعام پر آئے، میں انہیں پردے کے پیچھے طاقت رکھنے والی شخصیت قرار دیا گیا۔

2019 میں امریکی محکمہ خزانہ نے انہیں پابندیوں کی فہرست میں شامل کر لیا۔ ٹرمپ کے اس اقدام کا مقصد سپریم لیڈر کے قریبی حلقے کو نشانہ بنانا تھا۔

امریکی حکام کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای نے آئی آر جی سی کی قدس فورس اور بسیج ملیشیا کے ساتھ مل کر حکومتی پالیسیوں کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کیا۔

انتخابی سیاست اور تنازعات

مجتبیٰ خامنہ ای کا اثر پہلی بار کھل کر 2005 کے صدارتی انتخابات کے دوران سامنے آیا، جب سخت گیر رہنما محمود احمدی نژاد اقتدار میں آئے۔ اصلاح پسند امیدوار مہدی کروبی نے الزام لگایا کہ مجتبیٰ خامنہ ای نے آئی آر جی سی اور بسیج کے ذریعے انتخابی عمل میں مداخلت کی۔

چار سال بعد احمدی نژاد کی حکومت کے خلاف ملک گیر احتجاج پھوٹ پڑے۔ اس تحریک کو بعد میں سختی سے کچل دیا گیا اور اپوزیشن رہنما میر حسین موسوی کو 2011 میں نظر بند کر دیا گیا، جہاں وہ آج تک قید میں ہیں۔

نظریاتی تضاد

مجتبیٰ خامنہ ای کی تقرری موروثی جانشینی جیسے اہم نظریاتی تضاد بھی سامنے لاتی ہے۔ ایران کا اسلامی انقلاب دراصل بادشاہت کے خاتمے کے لیے برپا ہوا تھا۔ خود روح اللّٰہ خمینی نے لکھا تھا کہ اسلام بادشاہت اور موروثی اقتدار کو غلط اور ناجائز قرار دیتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق سپریم لیڈر کے انتخاب کے ذمہ دار ادارے مجلس خبرگان کے ارکان پر آئی آر جی سی نے ووٹنگ سے قبل دباؤ ڈالا۔

خاص رپورٹ سے مزید