• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران نے زیرِ زمین ’میزائل سٹی‘ میں وسیع ’خودکش ڈرون کشتیوں کے بیڑے‘ کی نقاب کشائی کر دی

— ایکس ویڈیو گریب
— ایکس ویڈیو گریب

ایرانی سرکاری ٹی وی چینل نے زیرِ زمین ایک پیچیدہ تنصیب سے فوٹیج جاری کی ہے، جسے ایرانی حکام ’میزائل سٹی‘ قرار دے رہے ہیں۔

ایرانی فوج نے اعلان کیا کہ ان کے پاس اب خودکش ڈرون کشتیوں کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے، جو اب آبنائے ہرمز کے ذریعے گزرنے والے جہازوں کی نقل و حرکت محدود کرنے کے لیے تعینات کیا جا رہا ہے۔

جاری کردہ ویڈیو میں لمبے سرنگ نما راستے دکھائے گئے ہیں جن میں نیول ڈرونز، اینٹی شپ میزائلز اور سی مائنز سجی ہوئی ہیں، فوٹیج میں کچھ ہتھیاروں کے لانچ ہونے کے مناظر بھی دکھائے گئے ہیں، تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ یہ ریکارڈنگ کب کی گئی تھی اور آیا اس کے بعد اس مقام پر امریکی یا اسرائیلی حملے ہوئے ہیں یا نہیں۔

ایک تصویر میں سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی تصویر کے نیچے ٹریلر پر نصب نیول ڈرون پر مشتمل ایک سرنگ دکھائی دیتی ہے۔

یہ نیول ڈرونز جنہیں انمینڈ سرفیس وہیکلز (USVs) بھی کہا جاتا ہے، پہلے ہی خلیج فارس میں 2 آئل ٹینکروں کو نشانہ بنا چکے ہیں، یہ چھوٹی کشتیاں پانی کی سطح پر یا اس کے قریب چلتی ہیں اور ان میں دھماکا خیز مواد ہوتا ہے جو ٹکرانے پر پھٹتا ہے۔

یکم مارچ کو مارشل آئی لینڈز میں رجسٹرڈ خام تیل کے ٹینکر کو عمان کے ساحل سے 44 ناٹیکل میل کے فاصلے پر نشانہ بنایا گیا، برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشن کے مطابق ایک USV نے جہاز کے پانی کے اوپر کی سطح کو نشانہ بنایا، جس سے انجن روم میں دھماکا ہوا اور آگ بھڑک گئی، اس حملے میں عملے کا 1 رکن ہلاک ہوا۔

چند دن بعد بہاماس کے پرچم کے تحت چلنے والے خام تیل کے ٹینکر سونانگول نامیبے کو عراق کی خور الزبیر بندرگاہ کے قریب لنگر انداز ہونے کے دوران نشانہ بنایا گیا، آپریٹر سونانگول میرین سروس نے بتایا ہے کہ حملے میں 23 رکنی عملہ محفوظ رہا، جبکہ حملہ آور جہاز کے بارے میں تفصیل فراہم نہیں کی گئی کیونکہ تحقیقات جاری ہیں۔

آن لائن گردش کرنے والی ویڈیوز میں ایک چھوٹی رفتار والی کشتی ٹینکر کی طرف بڑھتی ہے، جو جہاز کے ایک جانب ٹکراتی ہے اور اس سے ایک بڑا دھماکا ہوتا ہے جس سے کافی دھواں اٹھتا ہے۔

سمندری حکام کے مطابق موجودہ ایران، امریکا-اسرائیل کشیدگی کے دوران کم از کم 2 آئل ٹینکروں پر USVs کے ذریعے حملے ہو چکے ہیں۔

ایران نے آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل روکنے کی دھمکی بھی دی ہے، جو عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کا پانچوایں حصہ اسی راستے سے ہوتا ہے۔

ایرانی حکام نے کہا کہ دنیا کو تیاری کرنی چاہیے کہ تیل کی قیمت 200 ڈالرز فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے، کیونکہ ایرانی فورسز نے تجارتی جہازوں پر حملہ کر کے ہرمز کے ذریعے نقل و حرکت تقریباً روک دی ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید