• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کیا آپ جانتے ہیں کہ روزانہ 10ہزار قدم چل کر کینسر، دل کے امراض اور قبل از وقت موت کے خطرات کو کم کیا جاسکتا ہے؟ جی ہاں، یونیورسٹی آف ساؤتھ ڈنمارک کے محققین کی حالیہ تحقیق میں یہ بات بتائی گئی ہے۔ تو پھر انتظار کس چیز کا ہے، جوتے پہنیں اور چہل قدمی کے لیے کھُلی فضا میں نکل جائیں لیکن اپنے قدم گننا نہ بھولیں۔

ماہرین مزید یہ بھی کہتے ہیں کہ چاہے آپ 10 ہزار قدم چلیں یا اس سے کم، بس اچھی صحت اور طویل عمر کیلئے روزانہ تیز رفتار چہل قدمی کرنا مت بھولیں، تاہم صحت کے فوائد ہر اضافی قدم کے ساتھ بڑھتے جاتے ہیں اور 10ہزارویں قدم پر انتہا کو پہنچتے ہیں۔ اس کے بعد اثرات معدوم پڑنے لگتے ہیں۔ قدم گننا خصوصاً ان لوگوں کیلئے اہمیت رکھتا ہے، جو غیر منظم سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں جیسے گھر کا کام کاج، باغبانی اور پالتو جانور کو واک پر لے جانا وغیرہ۔

’’اس تحقیق کے دوران سب سے زیادہ غور طلب بات جو دیکھی گئی وہ روز مرہ زندگی کے کام کاج انجام دینے کے لیے اُٹھائے گئے قدموں اور کینسر اور دل کے امراض کے کم خطرات کے درمیان تعلق ہے‘‘، یہ بات اس مطالعہ کے شریک مصنف اسسٹنٹ پروفیسر بورجا ڈیل پوزو کرز نے کہی۔

اس مطالعہ پر اپنی رائے دیتے ہوئے امریکی سی ڈی سی میں ڈائریکٹر برائے کارڈیو ویسکیولر پریوینشن اینڈریو فری مین کہتے ہیں، ’’میں سمجھتا ہوں کہ یہ مطالعہ بڑی حد تک اس بات کے سائنسی ثبوت پیش کرنے میں کامیاب رہا ہے کہ ورزش کرنا ایک اچھی عادت ہے۔ جسمانی سرگرمی ایک زبردست کام ہے اور جب اس کے ساتھ آپ پودوں پر مبنی غذالیں، ذہنی دباؤ سے دور رہنے کی کوشش کریں، باقاعدگی سے مناسب نیند لیں اور اپنوں کے ساتھ جُڑے رہیں تو آپ کی صحت و تندرستی کے لیے ایک جادوئی ترکیب تیار ہے۔ اگر آپ اس پر عمل کرلیں تو یہ آپ کی سدابہار جوانی کا چشمہ ثابت ہوسکتی ہے‘‘۔

چہل قدمی کے ڈیمینشیا پر اثرات 

ڈیل پوزو کرز کی تحقیق سے یہ بات بھی ثابت ہوئی ہے کہ روزانہ 10ہزار قدم چلنے سے ڈیمینشیا کے خطرات بھی 50فی صد تک کم ہوجاتے ہیں۔ اس سے قبل ایک اور تحقیق میں کہا گیا تھا کہ تین ہزار 800سو قدم چلنے سے ڈیمینشیا کا خطرہ 25فی صد تک کم ہوجاتا ہے۔ تاہم، اگر 30منٹ تک تیز رفتار چہل قدمی 112قدم فی منٹ کی جائے تو اس سے ڈیمینشیا کا خطرہ 62فی صد تک کم ہوجاتا ہے۔ ضروری نہیں کہ 30منٹ تک تیز رفتار چہل قدمی ایک ہی دفعہ میں کی جائے بلکہ اس دورانیہ کو دن بھر کے دوران مختلف اوقات میں بھی پورا کیا جاسکتا ہے۔

یہ تحقیق انگلینڈ، اسکاٹ لینڈ اور ویلز سے تعلق رکھنے والے 78ہزار 500افراد کے مطالعے پر مبنی ہے جن کی عمریں 40سے 79 برس کے درمیان تھیں۔ ان افراد کو بغیر کسی وقفے کے سات روز تک کلائی پر اسٹیپ کاؤنٹر (قدم گننے والا آلہ) پہنایا گیا۔ ہر فرد کے روزانہ کے قدموں کی تعداد گننے کے بعد محققین نے انھیں دو گروہوں میں تقسیم کیا۔ 40قدم فی منٹ سے کم رفتار (جیسے ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں جانا) اور 40قدم فی منٹ سے زائد رفتار یا جسے ہم ’’بامقصد‘‘ چہل قدمی کہہ سکتے ہیں۔

ایک تیسرا گروہ ’’اعلیٰ کارکردگی‘‘ کے حامل افراد کا بنایا گیا، جو دن بھر کے دوران 30منٹ تک زیادہ سے زیادہ فی منٹ قدم چلنے والے تھے۔ اس مطالعہ کے سات سال بعد، محققین نے ان افراد کا میڈیکل ریکارڈ دیکھا جو دن بھر کے دوران 30منٹ تک تیزرفتار قدموں کے ساتھ چلتے تھے (تقریباً 80قدم فی منٹ)، ان میں کینسر، دل کے امراض اور قبل از وقت موت کے خطرات سب سے کم دیکھے گئے۔

جسمانی سرگرمی کے نتیجے میں پٹھوں اور دل کا حجم بڑھتا ہے اور فٹنس میں بہتری آتی ہے اور یہ تمام عوامل دل کے امراض، کینسر اور صحت کے دیگر مسائل سے بچاؤ کے اہم عناصر میں شامل ہیں۔ مطالعہ میں کہا گیا کہ وہ افراد جو بڑی عمر میں ڈیمینشیا کے خطرے سے محفوط رہنا چاہتے ہیں انھیں چہل قدمی میں فاصلے کے بجائے رفتار پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ماہرین کا بھی یہی ماننا ہے کہ یہ ایک انتہائی دلچسپ دریافت ہے کہ زیادہ فاصلہ چلنے کے بجائے چلنے کی رفتار زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ تاہم اس سلسلے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

فری مین کہتے ہیں کہ ہر قدم کی اہمیت ہے۔ تیز رفتاری کے ساتھ چہل قدمی میں اٹھایا جانے والا ہر قدم بلڈ پریشر میں کمی اور کارڈیو ویسکیولر ٹریننگ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ’’آپ کا ہدف یہ ہونا چاہیے کہ آپ نے ہر روز خود کو 30منٹ تک بے دم حالت میں لانا ہے۔ چہل قدمی میں سانس پھولنے سے مراد یہ نہیں ہے کہ آپ اس تیزی سے سانس لے رہے ہوں کہ سانس ہی نہ لے پا ئیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی آپ کوئی کے ساتھ چہل قدمی کررہا ہے اور وہ آپ سے بات کرے لیکن آپ کو اس سے گفتگو کرنے میں دقت پیش آئے۔