• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کووِڈ-19کی تشخیص کا ریپڈ اینٹیجن ٹیسٹ کتنا مؤثر ہے؟

ریپڈ اینٹیجن ٹیسٹ (RAT)کی دستیابی نے کووِڈ-19کے پھیلاؤ کو روکنے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔ تاہم ماہرین کو اب بھی خدشہ رہتا ہے کہ اگر آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں اس وبا کی نئی اقسام سامنے آئیں تو کیا یہ ٹیسٹ ان نئے ویرینٹس کی تشخیص کے لیے اسی قدر مؤثر ثابت ہوگا یا نہیں؟ ایک نئے مطالعہ میں ان سوالوں کے جوابات تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

محققین نے اس بات کا جائزہ لینے کے لیے ایک نیا طریقہ اختیار کیا کہ کس طرح SARS-CoV-2میں ہونے والی تبدیلیاں ریپڈ اینٹیجن ٹیسٹ میں استعمال ہونے والی اینٹی باڈیز کے ذریعے تشخیص کے عمل کو متاثر کر سکتی ہیں۔ چونکہ ریپڈ اینٹیجن ٹیسٹ SARS-CoV-2 نیوکلیو کیپسڈ پروٹین (N پروٹین) کا پتہ لگاتے ہیں، اس لیے ٹیم نے براہ راست پیمائش کی کہ N پروٹین میں ہونے والے تغیرات نے تشخیصی اینٹی باڈیز کی اپنے ہدف کو پہچاننے کی صلاحیت کو کس طرح متاثر کیا۔

تحقیق کے مصنف اسسٹنٹ پروفیسر فلیپ فرینک کہتے ہیں، ’’ہمارے نتائج کی بنیاد پرSARS-CoV-2 کے ماضی اور موجودہ باعثِ تشویش کسی بھی قسم کا وائرس ایسا نہیں ہے جو اینٹی باڈیز کا پتہ لگانے کے لیے موجودہ ریپڈ اینٹیجن ٹیسٹ کی تشخیصی صلاحیت کو متاثر کرتا ہو۔ مزید برآں، یہ اعداد و شمار ہمیں ایک قدم آگے جاتے ہوئے یہ صلاحیت فراہم کرتے ہیں کہ ہم یہ پیشگوئی کرسکیں کہ یہ مستقبل میں وبائی مرض پھیلانے والے کسی بھی نئے قسم کے وائرس کے خلاف کیسی کارکردگی دِکھائے گا‘‘۔

مطالعہ میں ایک طریقہ استعمال کیا گیا جسے ’ڈِیپ میوٹیشنل اسکیننگ‘ کہا جاتا ہے تاکہ N پروٹین میں تمام ممکنہ تغیرات کا ایک ہی ’ہائی تھرو پٹ‘ تجربہ میں جائزہ لیا جا سکے۔ اس کے بعد محققین نے 11 تجارتی طور پر دستیاب ریپڈ اینٹیجن ٹیسٹ میں استعمال ہونے والے اینٹی باڈیز کے ساتھ ان کے تعامل پر تغیرات کے اثرات کی پیمائش کی اور ایسے تغیرات کی نشاندہی کی جو اینٹی باڈی سے بچنے کی اجازت دے سکتے ہیں۔

اس سلسلے میں مطالعہ کے مصنف کا کہنا ہے، ’’متاثرہ افراد کی درست اور مو ثر تشخیص کووِڈ-19کی تخفیف کے لیے ایک انتہائی اہم حکمت عملی ہے، اور ہمارا مطالعہ مستقبل میں ہونے والی SARS-CoV-2 کی تبدیلیوں کے بارے میں معلومات فراہم کرتا ہے۔ یہاں بیان کردہ نتائج ہمیں وائرس کے ساتھ تیزی سے موافقت کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں کیونکہ نئی اقسام اُبھرتی رہتی ہیں، جو کہ طبی اور صحت عامہ کے فوری اثرات کو ظاہر کرتی ہیں‘‘۔

نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ یہ نسبتاً نایاب ہے کہ وائرس کے مختلف ویرینٹ Nپروٹین کے خلاف تبدیلی کی صلاحیت رکھتے ہوں، جس سے تشخیصی ٹیسٹ میں ان کا پتہ نہ چل سکے، تاہم ترتیب کا ایک چھوٹا سا تناسب ایسا ہے جو تشخیص کی صلاحیت پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ محققین، صحت عامہ کے حکام، اور ٹیسٹ مینوفیکچررز ان اعداد و شمار کا استعمال اس بات کا تعین کرنے کے لیے کر سکتے ہیں کہ آیا ان تغیرات کا پتہ لگانے یا مستقبل کے ٹیسٹ ڈیزائن میں مطلوبہ تبدیلی لانے کے لیے تشخیصی ٹیسٹ کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ نئے ویرینٹس کے ممکنہ طور پر کبھی ختم نہ ہونے والے سلسلے سے لگتا ہے کہ اس مطالعہ کے نتائج آنے والے کئی برسوں تک مؤثر رہیں گے۔

ریپڈ اینٹیجن ٹیسٹ کیا ہے؟

ریپڈ اینٹی جن ٹیسٹ ایسی کِٹس ہیں جنہیں آپ گھر لا کر یہ پتہ کر سکتے ہیں کہ کہیں آپ کو کووِڈ-19تو نہیں ہے ۔ ریپڈ اینٹی جن ٹیسٹ کو مکمل کرنے کے لیے ذیل میں درج ہدایات پر عمل کریں۔

پہلا قدم - نمونہ حاصل کریں

ہاتھ دھوکر ٹیسٹ کِٹ کھولیں، کِٹ کو صاف سطح پر رکھیں۔ صرف ڈنڈی کا ہنڈیل چھوکر سواب (swab)کی ڈنڈی کو پیکیج سے نکالیں۔ سواب کی ڈنڈی کو 2 سینٹی میٹر تک نتھنے میں ڈالیں، نمونہ لینے کے لیے اسے پانچ بار گھمائیں اور یہی عمل دوسرے نتھنے میں دُہرائیں۔

دوسرا قدم - نمونہ محفوظ کریں

نمونہ لینے کے بعد اسے محفوظ کرنے کے لیے سواب کی ڈنڈی کو پلاسٹک کی ٹیوب میں ڈالیں اور اسے 10بار گھمائیں۔ ٹیوب میں سوراخ کریں اور سواب کی ڈنڈی کو باہر نکالیں، ٹیوب کو باہر نکالنے والے ڈھکنے سے فوری بند کردیں۔

تیسرا قدم - نمونے کا ٹیسٹ کریں

ٹیسٹنگ اسٹرِپ کو اپنے سامنے رکھیں۔ باہر نکالنے والی ٹیوب کو دبائیں اور لئے گئے نمونے کے تین قطرے ٹیسٹنگ اسٹریپ میں ڈالیں، نتیجے کے لیے 15منٹ انتظار کریں۔

چوتھا قدم - اپنا نتیجہ سمجھیں

اگر Cکے بعد ایک لائین نمودار ہو تو آپ کا نتیجہ منفی ہے، اگر Cاور Tکے بعد دو لائنیں نمودار ہوں تو آپ کا نتیجہ مثبت ہے۔ اب اپنی ٹیسٹنگ کِٹ کو تلف کردیں اور مزید معلومات کے لیے اپنے مقامی صحت کی خدمات کے مرکز سے رابطہ کریں۔ بہتر ہے کہ اگر آپ کا کووڈ-19 ٹیسٹ مثبت آیا ہے ، تو آپ اپنے ٹیسٹ کا نتیجہ محکمہ صحت کو رپورٹ کریں۔