• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وسطی ایشیا میں قطر کا صدر مقام، دوحا ’’22ویں عالمی فٹ بال کپ‘‘ کے فائنل راؤنڈز مقابلوں کا میزبان ہے،جہاں دنیائے فُٹ بال کی نام وَر ٹیموں کے درمیان ٹرافی کے حصول کی دل چسپ اور سنسنی خیز جنگ جاری ہے۔اس عالمی فٹ بال کپ کی انفرادیت یہ ہے کہ کسی عرب مُلک کو پہلی مرتبہ فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔ نیز، ٹورنامنٹ پر 220 ارب ڈالرز کے اخراجات آئے ہیں، جو 2018ء میں رُوس میں منعقدہ ورلڈ کپ کی لاگت سے قریباً 20گنا زیادہ ہے۔ اس طرح یہ کھیلوں کا منہگا ترین ٹورنامنٹ بن گیا ہے۔ یاد رہے، 20 نومبر سےشروع ہونے والا یہ ایونٹ18 دسمبر 2022ء تک جاری رہے گا، جس میں 32 ممالک کی ٹیمیں حصّہ لے رہی ہیں۔ 

واضح رہے، یہ تمام ٹیمیں فیفا ایوسی ایشن کی رُکنیت بھی رکھتی ہیں۔ میزبان قطر اور دفاعی چیمپئن،فرانس کے علاوہ یورپ سے12 ، جنوبی امریکا سے 4، افریقا سے4 ، ایشیا سے 5 ، شمالی وسطی امریکا اور جزائر عرب الہند سے 4 اور بحرالکاہل کے ممالک سے آسٹریلیا کی ٹیم ٹورنامنٹ کاحصّہ ہیں۔افسوس ناک امر یہ ہے کہ اس عالمی فٹ بال کپ کے فائنل راؤنڈ میں کوالیفائی کرنے والی ٹیموں میں اٹلی اس بار بھی جگہ بنانے میں ناکام رہی۔2018 ء کے بعد یہ مسلسل دوسرا موقع ہے کہ جب چار بار عالمی چیمپئن بننے والی ٹیم اٹلی، بائیسویں عالمی فٹ بال کپ کے لیے کوالیفائی نہیں کرسکی۔

اس کے علاوہ باقی تمام سات عالمی کپ جیتنے والی ٹیمیں اس ٹورنامنٹ کے لیے کوالیفائی کرکے فائنل راؤنڈ مقابلوں کا حصّہ ہیں، جن میں برازیل سب سے زیادہ، یعنی پانچ بار عالمی ٹائٹل اپنے نام کرچُکا ہے، جب کہ جرمنی 4بار، ارجنٹائن، فرانس اور یورا گوئے2,2 مرتبہ اور انگلستان اور اسپین ایک، ایک بار یہ اعزاز اپنے نام کر چُکے ہیں۔ عالمی کپ کے فائنل راؤنڈز کا افتتاحی میچ گروپ اے میں میزبان قطر اور ایکوواڈور کے درمیان کھیلا گیا اور ٹورنامنٹ کی افتتاحی تقریب کے لیے دوحا کے خوب صُورت ترین ’’البائیت اسٹیڈیم‘‘ کا انتخاب کیا گیا، جس میں گزشتہ کئی ماہ سے مقابلوں کی تیاریاں کی جا رہی تھیں۔

یاد رہے، پانچ برّاعظموں اور کئی جزائرپر مشتمل لگ بھگ 21ممالک کے فیفا ارکان ممالک نے دو سال قبل شروع ہونے والے کوالیفائنگ راؤنڈ مقابلوں میں اپنے اپنے زونز سے حصّہ لیا۔ان طویل مقابلوں کے بعد31ٹیموں نے فائنل راؤنڈز کے لیے کوالیفائی کیا، جب کہ قطرمیزبان کی حیثیت سے براہِ راست شرکت کا حق داربنا۔22 ویں عالمی فٹ بال کپ کے فائنل راؤنڈز میں قطر کے دس مقامات پر 32 ٹیموں کے درمیان (افتتاحی میچ سے فائنل تک)کُل64مقابلے ہوں گے۔ 

یہاں یہ امر بھی قابلِ توجّہ ہے کہ فائنل راؤنڈز کے انعقاد کے ساتھ ہونے والا یہ ساتواں عالمی کپ ہے، جب کہ اس سے قبل اوّلین عالمی فُٹ بال کپ میں 13،1934ءمیں16 ، 1938ء میں 15، 1950ءمیں 13 ممالک کی ٹیموں نے حصّہ لیا۔1954 ء سے 1978ء تک عالمی فٹ بال کپ فائنل راؤنڈزمقابلوں میں ٹیموں کی تعداد16 رہی،جو آئندہ تین فائنل راؤنڈز تک برقرار رہی، جب کہ1982 ءکے اسپین ورلڈ کپ سے ممالک کی تعداد24 کردی گئی اور 1998ء میں فرانس میں منعقد ہونے والے16 ویں فائنل راؤنڈز سے یہ تعداد 32 ہوگئی۔

22 ویں عالمی فٹ بال کپ فائنل راؤنڈزمقابلوں کے لیے بنائے گئے آٹھ گروپس میں سے گروپ اے میں میزبان قطر کے ساتھ ایکواڈور، سینیگال اور ہالینڈ شامل ہیں۔ جب کہ گروپ بی، انگلستان، ایران، امریکا اورویلز کی ٹیموں پر مشتمل ہے۔گروپ سی ارجنٹائن، سعودی عرب،میکسیکو اور پولینڈ کی ٹیموں پر،گروپ ڈی دفاعی چیمپیئن فرانس، آسٹریلیا، ڈنمارک اور تیونس کی ٹیموں پر،گروپ ای چار بار کی فاتح ٹیم جرمنی،اسپین، کوسٹاریکا اور جاپان کی ٹیموں پر،گروپ ایف، بیلجیئم، کینیڈا، مراکش اور کروشیا کی ٹیموں پر،گروپ جی،پانچ مرتبہ کے فاتح، برازیل،سربیا،سوئٹزرلینڈ،کیمرون کی ٹیموں پر،گروپ ایچ، پرتگال،گھانا، جنوبی کوریا اور پہلے عالمی فٹ بال کپ کے فاتح یوراگوئے کی ٹیموں پر مشتمل ہے۔واضح رہے،22 ویں عالمی فٹ بال کپ کے فائنل راؤنڈز میں سات عالمی چیمپئن ممالک کوالیفائی کرنے میں کام یاب ہوئے ہیں۔

یوراگوئے 1930ء، 1950 ءکا عالمی چیمپئن ہے،جب کہ جرمنی 1954ء، 1974ء، 1990ء اور 2014 کااور برازیل سب سے زیادہ بار 1958ء، 1962ء، 1970ء، 1994ء اور 2002ء کاعالمی کپ ہولڈررہا ہے۔اسی طرح ارجنٹائن کی ٹیم 1978 ءاور 1986 ء میں فاتح رہی،تو دفاعی چیمپئن فرانس کو 1998 ء کے عالمی کپ کا فاتح ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ انگلستان کی ٹیم نے اپنے مُلک میں ہونے والے1966ء کے فائنل راؤنڈز مقابلوں میں عالمی کپ جیتا تھا۔

نیز، پہلی بار افریقا میں ہونے والے عالمی کپ2010 ء میں ایک نئی یورپی ٹیم، اسپین نے فائنل میںنیدرلینڈز کو ایک،صفر سے شکست دے کر عالمی کپ اپنے نام کیا تھا۔جب کہ چار مرتبہ کی فاتح ٹیم، اٹلی اس ٹورنامنٹ میں شامل نہیں تھی۔ واضح رہے، رواں سال عالمی کپ،فائنل راؤنڈز مقابلوں میں کوالیفائی نہ کرنے والی ٹیم اٹلی 1934ء،1938 ء ،1982ء اور 2006ء کے عالمی فُٹ بال کپ کی فاتح رہ چُکی ہے۔ 2006ء کے عالمی کپ فائنل راؤنڈز کے مقابلے جرمنی میں منعقد ہوئے تھے، جہاں فائنل میچ فرانس اور اٹلی کے درمیان کھیلا گیا تھا، جو اٹلی کی ٹیم نے پینالٹی کی بنیاد پر تین کے مقابلے میں پانچ گول سےجیتا تھا۔ اس طرح یہ چوتھا موقع تھا کہ جب اٹلی کی ٹیم عالمی کپ کی فاتح قرار پائی۔

عالمی فُٹ بال کپ کی تاریخ کی روشنی میں21فائنل راؤنڈز مقابلوں کا جائزہ لیا جائے، تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس مرتبہ آخری معرکہ یورپ اور جنوبی امریکا کے درمیان ہوسکتا ہے۔ یورپ میں منعقد ہونے والے گیارہ فائنل راؤنڈز میں دس بار عالمی کپ یورپ میں رہا۔ دوسری طرف جنوبی امریکا میں منعقد ہونے والے چار فائنل راؤنڈز مقابلوں میں میدان جنوبی امریکی ٹیموں نے اپنے نام کیا۔ جنوبی امریکی ٹیم، شمالی وسطی امریکا میں ہونے والے تین فائنل راؤنڈز کی بھی فاتح رہی ہے۔ 

جنوبی امریکا کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اس خطّے کی ٹیم، برازیل نے یورپ میں1956 ءکے سوئیڈن میں ہونے والے فائنل راؤنڈز مقابلوں میں عالمی کپ اپنے نام کیا تھا۔ جنوبی امریکا نے ایشیا میں ہونے والے واحدفائنل راؤنڈز مقابلوں میں، جو 2022 ء میں مشترکہ طور پر جاپان اور جنوبی کوریا میں منعقد ہوئے تھے،اپنالوہا منوایا،جب کہ برازیل نے فائنل میچ میں جرمنی کی ٹیم کو صفر-2 سے شکست دی تھی۔ یورپی ممالک کی یورپ سے باہر واحد کام یابی،2010 ء میں پہلی بار جنوبی افریقامیں ہونے والے عالمی کپ کے فائنل راؤنڈز میں اسپین کی ٹیم نے ایک اور یورپی ٹیم نیدرلینڈزکو زیر کرکےحاصل کی تھی۔

پہلے عالمی فٹ بال کپ کی ایک یاد گار تصویر
پہلے عالمی فٹ بال کپ کی ایک یاد گار تصویر 

اب اگر بات کریں حالیہ عالمی فٹ بال کپ کی، تو اس دَوڑ میں فٹ بال جائنٹس برازیل،جرمنی کے علاوہ دفاعی چیمپئن فرانس اور ارجنٹائن کی ٹیمیں نمایاں نمایاں نظر آرہی ہیں، جب کہ پرتگال، کروشیا، بیلجیئم کی ٹیمیں بھی اَپ سیٹ کرسکتی ہیں، تو انگلستان کی اچھی فارم سے بھی صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا۔22 ویں عالمی کپ کے حصول کے لیے دفاعی چیمپئن فرانس کو گزشتہ چار سالہ بہترین کارکردگی کی بنیاد پرفیورٹ قرار دیا جا رہا ہے، لیکن اگر عالمی کپ کی روایت دیکھیں، تو ہوسکتا ہے کہ یورپ سے باہر، عرب دنیا میں جنوبی امریکی ٹیم کوئی نیا ریکارڈ بنانے میں کام یاب ہوجائے۔جب کہ برازیل کی ٹیم چھٹی بار عالمی ٹائٹل اپنے نام کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ یاد رہے، یہ وہ واحد مُلک ہے، جو اب تک تمام فائنل راؤنڈز تک پہنچاہے۔ 

مجموعی کارکردگی دیکھیں، تو اس میں بھی برازیلین سب سے آگے نظرآتے ہیں۔ برازیل نے 1930 ءسے 2018 ء تک مجموعی طو رپر 109 میچز کھیلے ہیں، جن میں سے 73 میں فاتح رہا، جب کہ 18میں شکست مقدّر بنی،تو 18 برابری پر ختم ہوگئے۔ یاد رہے،عالمی کپ میں11 ممالک کی ٹیموں کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ ناقابلِ شکست رہتے ہوئے فائنل میچ تک پہنچیں،جن میں برازیل کی ٹیم1930 ء، 1950ء، 1958ء، 1982ء، 1994ء،1998ء اور 2002 ء میں کوئی میچ ہارے بغیر کام یاب ہوئی۔ 

ٹیم جرمنی 1954،1974،1994 ءاور 2014ء تک فائنل تک ناقابلِ شکست رہی۔ اٹلی کی ٹیم 1934ء، 1938ء، 1970ء، 1978،1982ء، 1994 ء اور2006 ءعالمی کپ فائنل میچ کھیلنے والی ٹیم ہے۔ جنوبی امریکا کی دوسری ٹیم ارجنٹائن چار بار، 1978،1986ء،1990 ءاور 2014 ء تک فائنل میچ تک پہنچی۔جنوبی امریکا سے تعلق رکھنے والی ایک اور ٹیم، یوراگوئے دوبار1930ءاور 1950ء میں فائنل تک پہنچی اور دونوں ہی بار ٹائٹل اپنے نام کرنے میں کام یاب رہی۔

زیکو سلواکیا کی ٹیم 1934 ءاور 1962 ء کے عالمی کپ فائنل راؤنڈز کے فائنل میچ تک ناقابلِ شکست رہی، لیکن1934ء میں اٹلی اور1962ء میں برازیل سے شکست سے دوچار ہوئی۔ یہی حال ہنگری کی ٹیم کا بھی ہے،گو کہ وہ دونوں مرتبہ یعنی1938 ءاور1954 ء کے عالمی کپ کی مضبوط ترین ٹیموں میں شامل تھی اور ٹائٹل جیتنے کے لیے پسندیدہ بھی قرار دی جا رہی تھی، لیکن پہلی بار میزبان ٹیم اٹلی اور دوسری مرتبہ جرمنی سےشکست کھا گئی۔ عالمی کپ1954 ء کے مقابلوں میں ہنگری کی ٹیم نے مجموعی طور پر27 گول اسکور کیے تھے،جو آج بھی عالمی کپ میں ایک ریکارڈ ہےکہ کوئی ٹیم آج تک یہ ریکارڈ نہیں توڑ پائی ہے۔ 

سوئیڈن کی ٹیم صرف ایک بار 1958 ء میں اپنے مُلک میں ہونے والے عالمی کپ فائنل میچ تک پہنچی تھی، جہاں اس کا مقابلہ برازیل سے ہوا۔ برازیل نے میزبان ٹیم کو 2 کے مقابلے میں5 گول سے شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا تھا۔ اسی طرح ہالینڈ کی ٹیم تین بار اس میگا ایونٹ میں فائنل میچ کھیل چُکی ہے، جس میں 1974 ء اور1978 ء میں بالترتیب جرمنی اور ارجنٹائن کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہوئی۔ اسی طرح 2010ء میں جنوبی افریقا میں ہونے والے عالمی فٹ بال مقابلے میں اسپین نے نیدرلینڈز کو ایک ۔صفر سے ہرا کر پہلی مرتبہ عالمی کپ اپنے نام کیا تھا۔

عالمی فٹ بال فیڈریشن(فیفا)نے1930 ء میں پہلے عالمی کپ کے لیے یوراگوئے کا انتخاب کیا تھا، جس میں دنیا کے 13 ممالک نے شرکت کی۔ اس مقابلے میں میزبان مُلک، یوراگوئے کے علاوہ ارجنٹائن، برازیل، پیرو، بولیویا، چلی اور پیراگوئے نے شرکت کی، جب کہ یورپ سے فرانس، رومانیہ، بیلجیئم اور سابق یوگو سلاویا نے حصّہ لیا تھا۔ 

پہلے عالمی کپ کے تمام میچز یوراگوئے کے صدر مقام، مونٹے ویڈیو کے کینڈیو اسٹیڈیم میں کھیلے گئے تھے اور فائنل میچ میزبان یوراگوئے اور ارجنٹائن کے درمیان ہوا تھا، جویوراگوئے نے جیتا تھا۔ یادرہے، 30 جولائی 1930 ءکو کھیلے گئے اس پہلے فائنل میں دونوں ٹیموں نے 1924ء اور 1928 ء اولمپکس مقابلوں کی یادتازہ کردی تھی کہ ان مقابلوں میں بھی یہی دونوں ٹیمیں فائنلز میں ایک دوسرے کے مدّمقابل تھیں۔

فٹبال فائنل میچ دیکھنے کے لیے ارجنٹائن سے فٹ بال شائقین کے دس بحری جہاز مونٹے ویڈیو کے لیے روانہ ہوئے تھے، لیکن صرف 2 جہاز ہی یوراگوئے پہنچ پائے تھے کہ باقی جہازوں کو موسم کی خرابی کے باعث واپس جانا پڑا تھا۔واضح رہے، پہلے فائنل میچ میں یوراگوئے نے ارجنٹائن کو2 کے مقابلے میں4 گولز سے شکست دے کر دنیائے فٹ بال کے پہلے عالمی چیمپئن کا اعزاز اپنے نام کیا تھا۔ میچ کے پہلے ہاف میں ارجنٹائن کی ٹیم ایک کے مقابلے میں دو گولز سے جیت رہی تھی، لیکن وقفے کے بعد میزبان ٹیم نے شان دار کھیل کامظاہرہ کرتے ہوئے ہاری ہوئی بازی اپنے نام کرلی۔ عالمی کپ فائنل میچ نوّے ہزار تماشائیوں نے دیکھا تھا۔ 

یوراگوئے کی طرف سے ان کے سیاہ فام کھلاڑی اینڈ ریڈنے ایک بار پھر اپنی ٹیم کی کام یابیوں میں نمایاں حصّہ لیا اور 1924 ءاور 1928 ءکے میچوں میں شان دار کارکردگی کامظاہرہ کرکے دنیا کے بہترین کھلاڑی ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔گوکہ عالمی فٹ بال کپ میں پاکستانی ٹیم حصّہ نہیں لے رہی، لیکن پھر بھی اس میگاایونٹ میں پاکستان کی نمایندگی نمایاں ہے کہ ایک تو ٹورنامنٹ کی سیکیوریٹی میں پاکستانی فورسز کی خدمات حاصل کی جارہی ہیں ، توماضی کی طرح اس بار بھی عالمی کپ میں پاکستان کی تیار کردہ فُٹ بالزہی استعمال ہو رہی ہیں۔ دل چسپ امر یہ ہے کہ 20 دسمبر 2022ء کو ’’بائیس ویں عالمی فٹ بال کپ ‘‘ کا جو فائنل میچ دوحا سے پندرہ کلومیٹر ز کی مسافت پر یوسل آئیکونک اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا،وہ ٹورنامنٹ کی 92 سالہ تاریخ کا بائیسواں میچ ہوگا۔ یعنی اس میگا ایونٹ کا فائنل 22 واں میچ، 2022ء ہی میں کھیلا جارہا ہے۔