فٹ بال ورلڈ کپ جسے گزشتہ روزارجنٹائن نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد دفاعی چمپئن فرانس کو پنالٹی ککس پرشکست دیکر تیسری مرتبہ اپنے نام کرلیا اس بار کئی اعتبار سے تاریخی اور منفرد رہا۔ٹیم کی مثالی کارکردگی خصوصا کپتان کے کیے ہوئے دو گول 36سال بعد ورلڈکپ میں ارجنٹائن کی فتح کا سبب بن گئے، اس طرح عالمی شہرت یافتہ فٹبالر لیونل میسی کا خواب پایہ تکمیل کو پہنچا اور اس کے شاندار کیرئیر کا فاتحانہ اختتام ہوا،یورپ کی چار دہائیوں سے جاری برتری ختم ہوئی اور یہ اعزاز جنوبی امریکہ کو منتقل ہوگیا۔ تاہم فرانس کی ٹیم نے بھی شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا اور ہر اعتبار سے فاتح ٹیم کے ہم پلہ ثابت ہوئی۔لیکن اس کے علاوہ بھی یہ ورلڈ کپ متعدد حوالوں سے منفرد رہا جن میں سب سے اہم ان مقابلوں کا پہلی بار ایک مسلم ملک میں انعقاد ہے جس کی وجہ سے پوری مسلم دنیا میں یہ مقابلے غیرمعمولی دلچسپی سے دیکھے گئے جبکہ مراکش کا سیمی فائنل تک جاپہنچنا ان مقابلوں سے مسلمانوں کی مزید جذباتی وابستگی کا باعث بنا اور اس امید کو تقویت ملی کہ آئندہ برسوں میں کوئی مسلم ملک بھی دنیا کے اس انتہائی مقبول کھیل کا عالمی چمپئن بن سکتا ہے ۔ پھر قطر نے جس اعلیٰ پیمانے پر ان مقابلوں کیلئے انتظامات کیے اور دنیا بھر سے آئے ہوئے مہمانوں کی اسلامی اقدار اور عرب روایات کی مکمل پاسداری کرتے ہوئے میزبانی کی اس نے ان مقابلوں کو کھیلوں کی تاریخ میں فقید المثال بنادیا ہے۔ سب سے بڑی بات یہ کہ قطر نے یہ موقع دنیا کو بندگی رب کی بنیاد پرپوری انسانیت کے اتحاد کی دعوت پر مبنی اسلام کے حقیقی پیغام سے روشناس کرانے کیلئے استعمال کیا ۔ وقت کا تقاضا ہے کہ پاکستان میں بھی فٹ بال کے فروغ پر توجہ دی جائے کیونکہ عرب ممالک سمیت دنیا بھر میں مقبول یہ کھیل نہ صرف نوجوانوں کی صحت کے معیار میں بہتری کا ضامن ہے بلکہ دوسرے تمام کھیلوں کی نسبت انتہائی کم خرچ ہونے کی وجہ سے ملک بھر میں اسے عام کرنا بھی بہت آسان ہے۔