• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یہ بات تو اب رہنے ہی دیجئے کہ نون کی جگہ شین کی آمد ہے، اب تو سیدھا سیدھا سوال یہ ہے کہ میاں نواز شریف چوتھی باروزارتِ عظمیٰ کے افتخار میں آرہے یا سیاسی حصار میں؟ اب چاہ کر بھی میاں شہباز شریف کا دل لالچ کی آماجگاہ نہیں بن سکتا اور نہ ہی حمزہ کے دل میں کسی خوش فہمی و غلط فہمی کا بسیرا رہ گیا ہو گا۔ اس کا قطعاً یہ مطلب نہیں کہ شہباز شریف یا حمزہ شہباز بڑے میاں صاحب سے کسی قسم کی بے وفائی و بے اعتنائی کا ارادہ رکھتے ہیں، پھر بھی بندۂ بشر ہونا ایک حقیقت ہے۔ معاشی معاملات کی سنگینی اور دگرگوںسیاسی معاملات نے اقتصادی جادوگر کی قَلعی بھی کھول کر رکھ دی ہے، اسحاق ڈار اس سوچ بچار اور بخار میں ہیں کہ برطانیہ سے آکر پھنس گیا، حالانکہ صاف کہنا چاہئے تھا آئی ایم ایف کی شرائط تسلیم کرنا گناہ ناگزیر ہے۔ بھید تو خیر اس سے قبل شوکت ترین، حفیظ شیخ، اسد عمر وغیرہ کے بھی کُھل چکے تھےاور بھانڈہ عمران کی کارکردگی و منصوبہ بندی کا بھی پھوٹا لیکن بدقسمت عوام مقبول و غیر مقبول کے بھنور سے نہیں نکل پا رہے اور کتنی شیخیاں کر کری ہوتے دیکھیں ؟جب سے لوگ ایف اے ٹی ایف سے سرخرو ہونے اور دیوالیہ ہونے کی فکر میں مبتلا ہیں ، فقیر اس دن سے کہہ رہا ہے ہم سری لنکا بہرحال نہیں۔ چکن، چینی، آٹا اور پیاز مہنگے ہوتے ہی لوگ بلبلا اٹھتے ہیں ،’’پاکستان ناکام ریاست ہے‘‘ مگر ہم دست بستہ کہتے پاکستان کہیں نہیں گیا ، ہم باصلاحیت اور غیور قوم ہیں، فکر نہ کیجئے پاکستان کہیں نہیں جاتا، بس جو ہماری نیت گھاس چرنے گئی ہے ذرا اسے بلا لیجئے، آج قیادت کی نیت اچھی ہو جائے، آج ہی بگاڑ پاش پاش اور بناؤ سربلند ہو جائے۔ یہ جو ٹاک آف دی ٹاؤن ہے کہ عمران خان کے احتجاج، آگ اُگلتی تقاریر اور دل لبھاتی تصاویر ریاست اور معیشت کے خلاف سوچی سمجھی اسکیم ہے جس کے سبب ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک، آئی ایم ایف اور دوست ممالک ہمیں قرض دیتے ہوئے گھبراتے ہیں کہ واپسی کیسے ہوگی یا مدد کرتے ہوئے ہچکچاتے ہیں، انہوں نے معیشت کو پھر سے نیست ونابود کر دینا ہے:ایسا ہرگز نہیں ہے !خیر، عمران خان سے کس کی مجال تھی کہ بذریعہ عدم اعتماد حکومت چھینتا، سچ تو یہ ہے عمران خان سے حکومت سنبھالی ہی نہیں گئی تھی۔ بزدار ایجاد سے بہتر ہوتا کہ پی ٹی آئی کے اندر سے کوئی پرویزالٰہی دریافت کیا جاتا۔ محمود خان کے بجائے پرویز خٹک یا پرویز خٹک نما کو کے پی کی وزارتِ اعلیٰ سونپی جاتی تو عمران خان کو بیسیوں سیاسی و حکومتی وزرائے دفاع میسر ہوتے۔ حالیہ پرویزالٰہی سرکار عمران کی بولی بولتے ہوئے یہاں تک کہہ گئے کہ نگران وزارتِ اعلیٰ کیلئے الیکشن کمیشن کی تجویزنہیں مانیں گے، جو کبھی کہتے تھے پرویز مشرف وردی ہی میں نہیں کئی بار وردی کے بغیر بھی قبول ہیں، پی ٹی آئی کے سراب سے سیراب ہونے سے چند گھنٹے قبل ’’خان نیپیاں بدلنا‘‘ کی زیبِ داستاں سے شگفتگی پھیلاتے رہے تاہم باجوہ حکم کے سامنے سر تسلیم خم کا عندیہ دے کر خفگی مٹا گئے۔ کوئی ان سے یہ پوچھے جو ہر کام عدالت سے کرانے کا ان پر بھوت سوار ہے ( کہہ بھی دیا نگران وزیر اعلیٰ کیلئے سپریم کورٹ جائیں گے، اجی محمود خان ہی سے سیکھئے چوہدری صاحب ) پھر یہ کبھی وزیر اعلیٰ ، کبھی ڈپٹی وزیرِاعظم اور ایوانوں میں قانون ساز نہ تھے تو کیا تھے ؟ محمود خان بھی فرما رہے تھے کہ اپوزیشن سے مشاورت نہیں کرنی، تو کیا گورنر نے کسی خصوصی حکم سے فیض یاب ہونا تھا یا عدالت سے ریلیف مانگنے کیلئے کمر کسنی تھی، کہتے ہیں محمود خان نے کسی سیانے کے کہنے پر درانی سے مل کر اعظم خان کے نام پر اتفاق کیا ؟ سیاست کار تو فراست، ریاضت اور عجز کا منبع ہوتا ہے، بیوروکریسی یا عدالت کا پجاری و بیوپاری نہیں! مانا کہ ہر حکمران واوڈا ، زلفی بخاری، شہباز گل اور فواد چوہدری رکھتا ہے کہ نرگسیت کی آبیاری اور ملمع کاری سدا بہاری قائم رہے ، یہ سب کیفیات نواز شریف کی انجمن ستائش باہمی میں بھی تھیں بہرحال یہ وہ لوگ ہیں جو اقتدار کو دوام بخشنے کی بجائے اس کی چولیں ہلاتے رہتے ہیں، ایسے دوستوں کے ہوتے ہوئے دشمنوں کا الگ بوجھ اٹھانے کی ضرورت ہی کب ہوتی ہے۔ بہرحال، یہ جو اُڑتی ہوئی ملی ہے خبر بزمِ ناز سے کہ میاں نوازشریف نے پاکستان کیلئے تختِ سفر باندھ لیا ہے، گر حقیقت ہے ، تو بہت خوب۔ پھر ان کا یہ کہنا کہ ’’ ذاتی مفاد کی خاطر پاکستان کے ساتھ گھناؤنا مذاق کیا گیا۔‘‘ یہ بات بہت اہم ہے، گو ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ اپنے اس عمدہ قول پر وہ بھی ضرور سوچیں، بسم اللہ کریں، پاکستان واپس آئیں، میثاقِ جمہوریت کے تجربے کو آگے بڑھاتے ہوئے میثاقِ معیشت کی داغ بیل ڈالیں کہ اسی میں اسٹیٹس مین کی دھنک اور جھلک ہے۔ میاں صاحب کی وطن واپسی پارٹی کے لیے یقیناً تقویت کا ایک دریچہ کھولے گی، ناراض لوگ راضی ہوں گے، حکمتِ عملی بہتر ہوگی، مقبولیت کا در بھی وا ہوگا لیکن اس بات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا کہ عمران خان اور ہم نوا صرف اور صرف اقتدار چاہتے ہیں اور بحث و تمحیص میں اپنے وجود ہی کو قوم کیلئے ناگزیر سمجھتے اور ثابت کرتے دکھائی دیتے ہیں ، مطلب یہ کہ وہ کورٹ کچہری اور سڑک پر فیصلے چاہتے ہیں، سب کا احتساب چاہتے ہیں خود کو خود احتسابی سے مبرا سمجھتے ہیں، مشاورت سے بھی گریزاں ہیں اور بیٹھک سے بھی۔ وہ ایک پوراا سکول آف تھاٹ بن چکے جو آئین سازوں اور قانون سازوں کے بجائے قانون کو ڈیفائن کرنے والوں سے امید رکھتے ہیں جو اپنی جگہ ایک اہم سوال ہے۔ میاں نواز شریف یہ سب یقیناً جانتے ہیں کہ تحریکِ انصاف کا ارادہ نیم جوڈیشل مارشل لا کے لیےراستہ ہموار کرنا ہے۔ تحریک انصاف والےاگر اپنے مقاصد میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو بڑے میاں کی آمد حصار میں پھنسے گی ، اگر پارلیمانی نظام کو استقامت ملتی ہے تو میاں کی آمد اقتدار کا افتخار بھی ہو سکتی ہے، کچھ بھی ہو لیڈر وہی ہوتا ہے جو سیاسی میدان میں بیک وقت ذہنی اور طبعی طور پر جلوہ افروز ہوتے ہوئے بند گلی سے راستہ بنائے!

تازہ ترین