• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بچوں کی تربیت میں چند باتوں کو ضرور مدِ مظر رکھیں

بچوں کی تعلیم کا ایک اہم دائرہ وہ تربیت ہے جو انھیں اپنے خاندان سے حاصل ہوتی ہے۔ اس تربیت کا اہم ترین پہلو بچوں (اولاد) کے ساتھ والدین کے طرزِ عمل سے متعلق ہے۔ اس ضمن میں چند مفید مشورے درج ذیل ہیں:

اخلاقی تربیت: بچوں کو ابتدائی عمر سے ہی اعلیٰ اخلاق کا عادی بنانے کی کوشش کی جائے، کیونکہ بچپن کی عادتیں بڑے ہونے پر پختہ ہوتی ہیں، اس لئے ضروری ہے کہ بچپن ہی سے انھیں سچائی، دیانت داری، بہادری، احسان، بزرگوں کی عزت، پڑوسیوں سے بہتر سلوک، دوستوں کے حقوق کی پاسداری اور مستحق لوگوں کی مدد جیسے اعلیٰ اخلاقی اوصاف کا حامل بنایا جائے، پھر انھیں برے اخلاق مثلاً جھوٹ، چوری، گالی گلوچ اور بے راہ روی سے سختی سے بچایا جائے اوائل عمر سے ہی محنت و مشقت کا عادی بنایا جائے اور عیش و آرام پسندی سے دور رکھا جائے۔

جسمانی تربیت: والدین کی طرف سے بچوں کی جسمانی نشو و نما، غذا اور آرام کا خیال رکھا جائے اور انھیں ورزش کا عادی بنایا جائے۔ جسمانی بیماریوں اور جائز ضروریات کو پورا کرنے کی حتی المقدور کوشش کی جائے۔

چار بنیادی باتیں جن سے والدین کیلئے پرہیز کرنا لازم ہے:

تحقیر آمیز سلوک: بچوں کی اصلاح و تربیت میں عجلت اور جلد بازی کے بجائے صبر و استقامت کے ساتھ یہ کام کیا جائے۔ بچوں کی اہانت یا تحقیر کرنے سے گریز کیا جائے۔

سزا میں بے اعتدالی: بالکل سزا نہ دینا اور بہت زیادہ سزا دینا ، دونوں غلط ہیں۔ معقول حد تک سرزنش بھی بسا اوقات ضروری ہوتی ہے۔ بچوں کے ساتھ محبت و شفقت اور نرمی کا برتاؤ ہمارے نبی ﷺ کی سنت بھی ہے۔ لہٰذا ان دونوں رویوں میں اعتدال لازم ہے۔

بے جا لاڈ پیار: بچوں کی ہر خواہش کو پورا کرنا اور غیر ضروری لاڈ پیار انھیں ضدی اور خود سر بناتا ہے۔ اس میں اعتدال ضروری ہے۔

بچوں کو ایک دوسرے پر ترجیح دینا: ایک ہی گھر میں دو بچوں یا لڑکوں اور لڑکیوں میں سے ایک کو دوسرے پر فوقیت دینا غیر اسلامی اور غیرمعقول رویہ ہے، جس سے بچے بہت سے نفسیاتی عوارض میں مبتلا ہوکر انتہا پسندی اور انتقام پسندی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اس منفی رویے سے اجتناب لازم ہے۔

ان اصولی نکات کے علاوہ چند عملی اقدامات جن پر والدین آسانی سے عمل کرسکتے ہیں:

اپنے خاندان میں، بالخصوص بچوں کے ساتھ ممکنہ حد تک زیادہ وقت گزارا جائے۔ اپنی معاشی جدوجہد و دیگر مصروفیات کو اس طرح ترتیب دیا جائے کہ روزانہ لازماً کچھ وقت اپنے اہل خانہ کے ساتھ گزارا جاسکے۔ بچوں کی تعلیم و تربیت ماں اور باپ دونوں کی ذمہ داری ہے، تربیت کا تمام تر بوجھ ماں پر ڈال دینا نامناسب اور غیر معقول طریقہ ہے۔

اوّل تو جیب خرچ دینے سے بچاجائے اور بچوں کی ایسی ضروریات کو خود پورا کیا جائے اور اگر بچوں کو جیب خرچ دیا جائے تو پھر اسے ڈسپلن کا پابند بنایا جائے۔ بچوں سے اس رقم کا حساب بھی پوچھا جائے، تاکہ ان میں بچپن ہی سے کفایت شعاری، بچت اور غیر ضروری اخراجات سے گریز کی عادت پروان چڑھے اور جواب دہی کا احساس پیدا ہو۔ والدین کی طرف سے اپنے بچوں کو آرام پہنچانے کی خواہش بجا ہے، مگر ابتدا سے بغیر محنت کے آرام طلب بنانا، ان کے مستقبل کے ساتھ سنگین مذاق ثابت ہوسکتا ہے۔ اسی طرح ان کے کپڑوں اور جوتوں پر اخراجات میں اعتدال رکھنا ضروری ہے، کیونکہ تعلیمی ادارے میں مختلف معاشی و سماجی پس منظر رکھنے والے طلبا و طالبات ہوتے ہیں، اس طرح ان میں غیر مطلوب مقابلہ آرائی کو روکا جاسکتا ہے۔

ابتدا ہی سے بچوں سے خود انحصاری یعنی اپنی مدد آپ کے اصول پر عمل کرایا جائے۔ اگر معاشی وسائل میں وسعت حاصل ہو تب بھی بچوں کو اپنے کام کرنے یعنی جوتے صاف کرنے، کمرے کو ترتیب دینے کی عادت ڈالی جائے۔ والدین کا یہ بھی فرض ہے کہ بچوں کو اپنے بزرگوں کی خدمت کی طرف متوجہ کرتے رہیں۔ بچوں کی مصروفیات اور ان کے دوستوں کو جاننا ضروری ہے۔ جرائم کا ارتکاب اور نشہ آور چیزوں کا استعمال غلط صحبت کا نتیجہ ہوتا ہے، اس لئے بچے کے دوستوں پر گہری نظر رکھنا والدین کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

ٹی وی اور کمپیوٹر، کتابوں کا نعم البدل نہیں بن سکتے۔ اچھی کتب اور رسالے، بچوں کی شخصیت سازی میں غیر معمولی کردار ادا کرتے ہیں، اپنے بچوں میں مطالعے کی عادت ڈالنی چاہئے۔ والدین انھیں اچھی کتابیں اور رسائل فراہم کریں اور ان کیلئے ذاتی لائبریری بنائیں۔ بچوں میں احساس ذمہ داری پیدا کیا جائے، تاکہ ملک وملت اور انسانیت کو ان کی ذات سے فائدہ ہو۔ موجودہ دور میں ہر شخص اپنے حقوق کے بارے میں بہت حساس ہے مگر اپنے فرائض کی ادائیگی کے بارے میں انجان بن جاتا ہے، اس رویے کو تعلیمی عمل کے دوران ہی تبدیل کرنا ہوگا۔

بچوں میں قومی املاک کی حفاظت کا احساس پیدا کرنا چاہئے۔ ملک میں پارک، عوامی ٹرانسپورٹ، راستوں اور سرکاری عمارتوں وغیرہ کا حال سب کے سامنے ہے۔ ہر کوئی اس کے نقصان پر تلا ہوا ہے۔ ہمارے معاشرے میں قومی جائیداد کا تصور بیدار نہیں ہے۔ اسلام ان املاک کے بارے میں امانت دار ہونے اور اللہ کے سامنے جواب دہی کا تصور دے کر اس کی حفاظت کرنے کا حکم دیتا ہے۔

بچوں میں سماجی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کا احساس پیدا کرنا چاہئے۔ اسکول کی فیس ہو، میونسپل ٹیکس ہو یا انکم ٹیکس، اس ضمن میں والدین اپنے عمل سے بچوں کیلئے نمونہ پیش کریں اور انھیں عوامی واجبات کو بروقت ادا کرنے کی تلقین کی جائے۔ ناکامی کو کامیابی کا زینہ بنانے کی تربیت دی جائے۔ زندگی میں ہر فرد کو کسی نہ کسی بحران سے واسطہ پڑتا ہے، اس لئے بچوں کی ذہن سازی ضروری ہے۔ انھیں مسائل سے فرار کے بجائے ان سے نبرد آزما ہونے کی تربیت دینی چاہئے۔ عزم محکم، عمل پیہم اور سخت محنت کامیابی کی شرائط ہیں۔ مشکلات کی صورت میں حسب موقع بچوں سے مشاورت بھی ان کی تربیت اور ان میں خود اعتمادی پیدا کرنے میں معاون ہوتی ہے۔

بچوں کو اپنی زندگی کے مقصد کا شعور دیا جائے۔ مقصدِ زندگی کا واضح تصور انھیں دنیا میں اپنا مقام متعین کرنے میں مدد دے گا۔ مستقبل کیلئے بلند عزائم اور ان عزائم کی تکمیل کیلئے بچوں میں شوق، محنت اور جستجو کے جذبات پیدا کرنے میں والدین کا کردار نہایت اہم ہوتا ہے۔