• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چراغِ زندگی (شوکت صدیقی۔ احوال و آثار اور منتخب افسانے)

تحریر و انتخاب: محمّد علی منظر

صفحات: 208، قیمت: 800 روپے

ناشر: رنگِ ادب پبلی کیشنز،کراچی۔

شوکت صدیقی کا شمار عہد شاز شخصیات میں ہوتا ہے، اُن کی زندگی کے کئی حوالے ہیں اور ہر حوالہ معتبر ہے۔ اُنہوں نے افسانہ نگاری سے اپنے ادبی سفر کا آغاز کیا۔ اُن کا پہلا افسانوں کا مجموعہ’’تیسرا آدمی‘‘ 1952ء میں شائع ہوا تھا، بعدازاں اُن کے جو افسانوی مجموعے منظرِ عام پر آئے، اُن میں’’ اندھیر اور اندھیرا‘‘، ’’راتوں کا شہر‘‘ اور’’ کیمیا گر‘‘ شامل ہیں۔ اُن کے ناولز میں’’ خدا کی بستی‘‘، ’’جانگلوس‘‘ اور’’ چار دیواری‘‘ کو عالم گیر شہرت ملی۔ واضح رہے کہ ’’خدا کی بستی‘‘ کے اب تک 46اردو ایڈیشنز شائع ہوچُکے ہیں، جب کہ دنیا کی تقریباً 26زبانوں میں ترجمہ ہوچُکا ہے۔

یہ اعزاز دنیائے اردو کے کسی اور رائٹر کو نہ مل سکا۔’’ یہ اُس کی دین ہے، جسے پروردگار دے‘‘۔ خدا کی بستی کو ’’آدم جی ادبی ایوارڈ‘‘ سے بھی نوازا گیا، جو پاکستان رائٹرز گلڈ کی جانب سے تھا۔ اُن کی طویل ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے 1997ء میں ’’تمغہ برائے حُسنِ کارکردگی‘‘عطا کیا، جب کہ 2002ء میں اُنہیں ’’مجلس فروغِ اردو‘‘ (دوحا/قطر) کی جانب سے ساتواں عالمی فروغِ اردو ادب ایوارڈ پیش کیا گیا۔ اُن کی صحافتی خدمات بھی اپنا ایک تاریخی پس منظر رکھتی ہیں۔ اُنہوں نے مختلف اخبارات میں بحیثیت ایڈیٹر خدمات انجام دیں۔ 

وہ کمیٹڈ ترقّی پسند تھے، اُن کی تحریروں میں بھی نظریاتی طرزِ فکر نمایاں ہے، لیکن اُن کے مداحوں میں تمام مکاتبِ فکر کے لوگ شامل ہیں۔ اُنہیں اُن کی زندگی میں بھی ہر سطح پر سراہا گیا اور بعداز مرگ بھی اُن کی کتابیں ذوق و شوق سے پڑھی جاتی ہیں۔ اُن کا نام ’’پاکستان رائٹرز گلڈ‘‘ کے بنیاد گزاروں میں سرِفہرست ہے۔ ہمارے پیشِ نظر جواں فکر شاعر، ادیب اور معلّم، محمّد علی منظر کا ایم اے کا مقالہ ہے، جو اُنہوں نے پروفیسر مرزا اسلم بیگ کی زیرِ نگرانی تحریر کیا تھا۔ اس مقالے کو کتابی صُورت دینے پر اُنہیں جتنی داد دی جائے، کم ہے۔ 

ایسا مربوط اور معیاری مقالہ وہی لکھ سکتا ہے، جس نے علم و ادب کو اپنا نصب العین بنا لیا ہو۔ محمّد علی منظر کی یہ کتاب پانچ ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے باب میں شوکت صدیقی کے خاندانی پس منظر اور حالاتِ زندگی پر روشنی ڈالی گئی ہے، دوسرے باب میں اُن کے ناولز کا تعارف اور تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے۔ تیسرے باب میں اُن کے افسانوں کا موضوعاتی مطالعہ ہے، چوتھے باب میں ’’ادبی و تخلیقی نظریات‘‘ کے عنوان کے تحت لیا گیا اُن کا ایک تفصیلی انٹرویو ہے، جو محمّد علی منظر نے اُن سے کیا تھا۔ 

پانچویں باب میں اُن کے افسانوں سے انتخاب پیش کیا گیا ہے۔ شوکت صدیقی کے فن اور شخصیت کے حوالے سے یہ کتاب ایک دستاویز کا درجہ رکھتی ہے، جس میں اُن کی زندگی کے ہر رُخ کو اجاگر کیا گیا ہے۔ ان پر مزید تحقیقی کام کرنے والوں کے لیے یہ کتاب ایک تحفہ ہے۔