پاکستان ہم سب کی ضرورت ہے، اس کا تحفظ اور اسے طاقتور بنانا ہم سب کا فرض ہے مگر ہم سب کا یہ بھی فرض ہے کہ ہم اس بات کا گہرائی سے جائزہ لیں کہ اس فرض کی ادائیگی میں ہمارا، مختلف صوبوں کا اور مختلف اداروں کا کیا کردار رہا ہے۔ مشرقی پاکستان کیوں الگ ہوا اور بلوچستان میں اتنی شدید ناراضی کیوں ہے کہ وہاں کے نوجوان اسلحہ اٹھانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ یہ بڑا آسان ہے کہ اس سلسلے میں بنگالیوں کو یا بلوچ نوجوانوں کو مورد الزام ٹھہرائیں۔ میرا خیال ہے کہ یہ رویہ پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے۔اس رویّے سے پاکستان کو پھر ایسا بڑا نقصان پہنچ سکتا ہے جو مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی وجہ سے پہنچا۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم سب نہ صرف اپنی نیتوں کو درست کریں بلکہ ایک ایسا نظام وضع کریں جو صرف کسی ایک صوبے، کسی ایک ادارے یا کسی ایک خاص طبقے کے مفاد میں نہ ہو بلکہ یہ نظام ملک کے مفاد میں ہو۔ میرے خیال میں صرف ایک حقیقی وفاق اور قومی فوج کا قیام ہی پاکستان کی بقا اور استحکام کی ضمانت دے سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ میں ’’وفاق‘‘ کے بجائے ’’حقیقی وفاق‘‘ کی اصطلاح کیوں استعمال کر رہا ہوں۔ اس کی وجہ ہے، ایک تو اب تک پاکستان پر یا تو مارشل لا اور فوجی حکومتیں مسلط رہی ہیں یا 1973ء تک سویلین سیٹ اپ میں بھی وفاقی طرز حکومت کے بجائے وحدانی طرز حکومت مسلط رہا ہے مگر کیا 73ء کے آئین کو بھی ہم حقیقی وفاقی آئین کہہ سکتے ہیں؟ کیا یہ آئین بھی کم و بیش وحدانی نظام حکومت متعارف نہیں کراتا؟ اس طرز حکومت اور فوجی حکومتوں سے چھوٹے صوبوں کو بے پناہ شکایتیں ہیں۔ اس سلسلے میں اگر ریفرنڈم کرالیا جائے تو چھوٹے صوبے یہی رائے ظاہر کریں گے کہ وحدانی طرز حکومت اور فوجی حکومتوں میں ان کی حیثیت ایک کالونی سے زیادہ نہیں تھی۔ اس قسم کے سیٹ اپ میں ان چھوٹے صوبوں کے ساتھ سیاسی اور انتظامی حوالے سے جو سلوک کیا گیا وہ تو سب کے سامنے ہے مگر اقتصادی میدان میں بھی ان کا استحصال ہوتا رہا اور ان کے وسائل متعلقہ صوبوں کے بجائے دوسروں کے استعمال میں تھے۔ اس سلسلے میں بلوچستان سے نکلنے والی سوئی گیس کی مثال ہی کافی ہے۔ دوسری طرف سندھ کے عوام کی رائے یہ ہے کہ ان کے وسائل ایک صوبے کو Pass on ہوتے رہے۔ سندھ کے لوگ چاہتے ہیں کہ اس سلسلے میں ایک غیر جانبدار اور اعلیٰ سطحی کمیشن بنایا جائے اور 1947ء سے اب تک ان کے وسائل کے ساتھ کئے گئے حشر کے بارے میں تحقیقات کر کے اپنی رپورٹ پیش کرے۔ سندھ کے لوگ یہ بھی چاہیں گے کہ اگر اس تحقیقات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سندھ کے وسائل زیادہ تر سندھ کے بجائے کہیں اور استعمال ہوئے ہیں تو 67 سالوں کے دوران ان کے ساتھ ہونے والے حشر کا حساب کتاب سندھ کو دیا جائے۔ یہی مطالبہ باقی 2چھوٹے صوبے بھی کرنے میں حق بجانب ہوں گے۔ اس صورتحال کو اب درست کرنے کی ضرورت ہے۔ اس صورتحال کو درست نہ کرنے کی وجہ سے بلوچستان میں ہونے والے ردعمل کو ہم سب آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ پتہ نہیں کیوں سندھ میں Currents and under-currents کسی کو نظر نہیں آ رہے ہیں۔ انتخابات سے پہلے میاں نواز شریف سندھ کے قوم پرستوں کے قریب آئے تھے اور خاص طور پر سید جلال محمود شاہ کی پارٹی سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے ساتھ چند نکاتی فارمولے پر دستخط بھی کئے گئے تھے، مگر لگتا ہے کہ ان کو کسی نے روک دیا ہے اور وہ اس سلسلے میں آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے ہٹتے ہوئے محسوس ہو رہے ہیں۔ اس پس منظر میں اب سندھ کے اندر ایک طاقتور رائے پیدا ہو رہی ہے کہ پاکستان میں ایک حقیقی وفاق قائم کیا جائے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پچھلی حکومت میں پارلیمنٹ سے منظور کی گئی 18ویں آئینی ترمیم کو ملک میں حقیقی وفاق قائم کرنے کے سلسلے میں پہلا مثبت قدم قرار دیا جا سکتا ہے مگر تازہ اطلاعات کے مطابق موجودہ حکومت اس ترمیم کو کافی حد تک واپس کرنے کی تیاریاں کر رہی ہے۔ یہ بات کسی سے چھپی نہیں کہ اسلام آباد کے موجودہ حکمران اور افسر شاہی جس کا کافی حد تک ایک صوبے ہی سے تعلق ہے، اس ترمیم کی کئی شقوں پر عمل درآمد کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کر رہی ہے۔ اگر ان عزائم کو عملی شکل دی جاتی ہے تو یہ عمل پاکستان کو ایک مستحکم ملک بنانے کیلئے ایک منفی علامت ثابت ہو سکتا ہے۔ ضرورت یہ ہے کہ نہ صرف اٹھارویں ترمیم پر ایمانداری سے عمل کیا جائے بلکہ پاکستان کو ایک حقیقی وفاق بنانے کیلئے آئین میں کچھ اور ترامیم بھی کی جائیں۔ ان ترامیم کا رخ کیا ہونا چاہئے؟ اس سلسلے میں ہمارے پاس دو آپشن ہیں یا تو 1940ء کی قرارداد پر مکمل عمل درآمد کیا جائے یا چاروں صوبوں اور ملک کے نظام کی بنیاد ایک بار پھر پیرٹی پر رکھی جائے۔ اگر پیرٹی کُل ملک کیلئے اچھی تھی تو اب بھی ہو سکتی ہے۔
قومی فوج: پاکستان کی بقا کیلئے نہ صرف ایک حقیقی وفاقی ڈھانچے کی ضرورت ہے بلکہ ایک قومی فوج کی بھی ضرورت ہے۔ فوج ہر ملک کا ایک قابل احترام ادارہ ہوتا ہے۔پاکستان میں تو فوج انتہائی قابل احترام ہے مگر اس پر تو بات کی جا سکتی ہے کہ ملک کے مفاد میں کسی بھی ادارے کا جس میں فوج بھی شامل ہے ،ڈھانچہ کیسا ہونا چاہئے۔ آج اگر کوئی اس میں تبدیلی کی بات کرتا ہے تو یہ بات نہ ملک کے اور نہ ادارے کے خلاف ہے۔ اس وقت ملک میں جمہوریت ہے اور منتخب پارلیمنٹ ہے۔ اس فورم پر یا پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹیوں میں ایسے ایشوز پر محفوظ انداز میں بحث کرنے میں کیا حرج ہے؟ اگر پاکستان کا شہری کوئی ایسی رائے رکھتا ہے تو اس کا ایک پس منظر ہے۔ ہمارے ملک میں عرصہ دراز تک جمہوریت کو پنپنے ہی نہیں دیا گیا جبکہ وقت کی ضرورت ہے کہ جمہوریت کو نہ صرف بچایا جائے بلکہ اسے مستحکم سے مستحکم تر کیا جائے لہٰذا پاکستان کے مفاد کا تقاضا ہے کہ ایسے انتظامات کئے جائیں کہ کوئی مہم جو ایک بار پھر جمہوریت اور پاکستان کی قسمت سے دو دو ہاتھ کرنے کی ہمت نہ کر سکے۔ اب چند دنوں سے جس طرح جنرل(ر) پرویز مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت بغاوت کے مقدمے کے بعد مختلف حکمران حلقوں، عسکری حلقوں اور ریٹائرڈ عسکری عناصر کی طرف سے اس کیس کو ہینڈل کیا جا رہا ہے یا جو تبصرے اور مطالبے کئے جا رہے ہیں ان کے بعد محب وطن جمہوریت پسند حلقوں اور خاص طور پر چھوٹے صوبوں میں یہ خوف پیدا ہو سکتا ہے کہ کیا یہ جمہوریت بھی ناپائیدار ہے اور اسے کسی وقت بھی ختم کیا جا سکتا ہے؟کیا ایک منتخب وزیراعظم کو پھانسی دی جا سکتی ہے یا اس کو عہدے سے ہٹا کر اسے بھی سزائیں سنانے کے بعد ملک بدر کیا جا سکتا ہے یا ایک اور منتخب وزیراعظم کو عدالت ایک مختصر سزا سنا سکتی ہے مگر ایک ریٹائرڈ جنرل پر عدالت عالیہ میں مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا اور اگر ایسا مقدمہ دائر ہو گیا ہے تو ریٹائرڈ جنرل عدالت میں حاضری سے مبرا ہیں؟ جنرل صاحب کو عدالت میں پیش ہونا تھا مگر وہ راولپنڈی کے فوجی اسپتال پہنچ گئے اور عدلیہ انتظار کرتی رہ گئی۔ یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ اور کیا پیغام دیا جا رہا ہے؟ عسکری ذرائع خود اس کارروائی کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیں۔ پھرریٹائرڈعسکری افسران کی تنظیم کی طرف سے اس سلسلے میں کیا کیا بیانات نہ دیئے گئے۔ کیا ایسی تنظیمیں بنانے کا کوئی جواز ہے؟ ٹی وی چینلز کے ٹاک شوز میں فوج اور ایئر فورس کے ریٹائرڈ اعلیٰ افسران کی طرف سے کیا کیا نہ کہا گیا۔ کیا دنیا کے کسی اور جمہوری ملک میں کوئی ایکس سروس مین یہ سب کچھ ٹی وی چینلز پر آ کر کہہ سکتا ہے۔ اس مرحلے پر یہ رائے پیدا ہو رہی تھی کہ یہ سب کچھ عدالت اور حکومت کو علم میں لائے بغیر کیا گیا۔ مگر اب دو تین دن پہلے پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ نہ صرف انہیں بلکہ وزیراعظم کو بھی پرویز مشرف کے فوجی اسپتال منتقلی کا مکمل علم تھا۔ تو کیا اس سلسلے میں عدلیہ سے اجازت قبل از وقت لی گئی تھی؟ چوہدری صاحب نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ اسپتال منتقلی کے بعد پرویز مشرف کو ٹرپل ون بریگیڈ کی سیکورٹی فراہم کی گئی۔ ان ساری باتوں کے بعد کیا یہ تجویز بلاجواز ہے کہ پاکستان کو ایک قومی فوج کی ضرورت ہے جس میں چاروں صوبوں کی ایک جتنی نمائندگی ہو۔