آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ8؍ ربیع الثانی 1441ھ 6؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
بھارتی فلمی صنعت کی بے مثل ہیروئن نرگس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ کیمرہ کے سامنے جادو جگانے والی یہ اداکارہ عام زندگی میں کم گو اور بڑی حد تک شرمیلی تھی، میڈیا میں ان کے متعلق بہت کچھ چھپتا، جسے وہ من گھڑت کہہ کر اکثر ڈس اون کر دیتی تھیں۔ دہلی سے چھپنے والے ایک مشہور فلمی رسالے کے ایڈیٹر نے نہایت اصرار کے ساتھ ان کا انٹرویو کیا تھا، جس کا مدتوں چرچا رہا، دیگر چیزوں کے ساتھ نرگس جی سے محبت کے بارے میں بھی پوچھا گیا تھا، جس کے جواب میں انہوں نے کہا تھا۔ ’’محبت کوئی تماشہ نہیں، دل لگی نہیں۔ دم بخود ہو کر ایک دوسرے کے سامنے پہروں بیٹھے رہنے اور تکتے جانے کا نام بھی محبت نہیں۔ ساتھ جینے مرنے کے وعدے وعید تو ہرگز محبت کی ذیل میں نہیں آتے، راتوں جاگ کر ستارے گننے اور آہیں بھرنے کا بھی محبت سے کوئی تعلق نہیں، اس قسم کی واہیات محبت تو لاکھوں کروڑوں احمق ہمیشہ سے کرتے آئے ہیں، فی الحقیقت محبت ایثار کا دوسرا نام ہے۔ دوسروں کی خوشیوں اور اپنی خوشیاں قربان کردینے کو ہی محبت کہتے ہیں‘‘ نہرو خاندان کی ایک معزز خاتون معروف بھارتی دانشور اور سفارت کار آنجہانی وجے لکشمی پنڈت سے محبت کے بارے میں پوچھا گیا تو بولیں ’’یہ بہت مشکل سوال ہے، میرا خیال ہے کہ یہ عارضی پاگل پن قسم کی کوئی آفت ہے، جو آتش فشاں کی طرح پھوٹتی ہے

اور اس کے لاوے کی زد میں جو بھی آتا ہے، جل کر راکھ ہو جاتا ہے، اس خوفناک لمحے سے آگر آپ بچ گئے اور آتش فشاں کسی حد تک سرد پڑ گیا، تو فیصلے کا وقت وہی ہوتا ہے۔ جب دیکھنا ہوگا کہ کیا دو جسموں میں ایک ہی روح حلول کر چکی ۔ جیسے بعض انسانوں کے جسم، جن میں اعضائے رئیسہ سانجھے ہوتے ہیں اور سرجن انہیں اس خوف سے علیحدہ نہیں کرتے کہ الگ ہو کر وہ زندہ نہیں بچیں گے۔ اگر دوپیار کرنے والے اس کیفیت کو پہنچ جائیں، تو شاید اسے محبت کہا جا سکے‘‘سروجنی نائیڈو سے بھی ایک بار کسی نے محبت کا حدود اربعہ پوچھا تھا اور یہ کہ کیا ان کی زندگی میں بھی اس کا گزر ہوا؟ تو بلبل ہند نے کہا تھا کہ ’’محبت دل کے نہاں خانوں میں رہتی ہے،پبلک پلیس پر نہیں، اور محبت کے نہاں خانے ہر کس و ناکس کیلئے کھولے نہیں جا سکتے۔ البتہ یہ ضرور کہوں گی کہ محبت زندگی ہے اور اگر آپ نے محبت کو کھو دیا تو سمجھو کہ زندگی رائیگاں چلی گئی‘‘ یہی سوال وزیراعظم چرچل سے دریافت کیا گیا تو بولے کہ ’’کچھ زیادہ تو پتہ نہیں، جو تھوڑا بہت تجربہ ہوا، اسے فوجی ہونے کے ناتے فوجی زبان میں یوں بیان کروں گا کہ محبت جنگ کی مانند ہے جسے شروع کرنا آسان اور ختم کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔‘‘ بکھرتے کنبوں اور دم توڑتی تہذیبی اقدار پر اظہار تاسف کرتے ہوئے محترمہ بلقیس ایدھی نے کہا تھا کہ اس کا علاج اگر کوئی ہے تو صرف اور صرف محبت میں پنہاں ہے جس کی مقناطیسی کشش اجنبیوں، باغیوں اور گھر گریز عناصر پر یکساں اثر کرتی ہے۔ اپنے بچوؒں، بالخصوص بچیوں کے ساتھ محبت کریں ہی نہیں، انہیں محبت کا احساس بھی دلائیں، تاکہ وہ اپنے گھر اور اپنے پیاروں کے ساتھ جڑی رہیں‘‘ ان بڑے لوگوں کی بڑی بڑی باتیں اپنی جگہ مگر ذاتی طو ر پر اس حوالے سے راقم کو مدر ٹریسا کا یہ قول بے حد فیسی نیٹ کرتا ہے کہ ’’ روٹی کی بھوک تو کوئی مسئلہ ہی نہیں، پیٹ بھر گیا تو ختم ہوگئی ، مگر محبت کی بھوک انسان کو برباد کر کے رکھ دیتی ہے‘‘۔ کیونکہ میں نے لوگوں کو برباد ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔
بچپن کی بات ہے کہ ہمارے گائوں میں ایک بابا خوشیا ہوا کرتا تھا۔ بستی کے ایک سرے پر چھوٹی سی کٹیا میں سب سے الگ تھلگ۔ رکھنے والوں نے نام تو خوشیارکھ دیا، مگر خوشی کا کوئی لمحہ اس کی زندگی میں شاید ہی کبھی آیا ہو۔ ماں باپ تو کہیں بچپن میں ہی مرکھپ گئے تھے، کوئی بہن نہ بھائی، کوئی دولت نہ متّر کوئی عزیز نہ رشتے دار، بھری دنیا میں ایک دم تنہا۔ شادی اس نے کی، نہ کسی نے کرائی۔ اس کا تمام تر اثاثہ ایک گائے تھی۔ جو اس کی روزی روٹی ہی نہیں، دکھ سکھ کی سانجھی بھی تھی اور بابا اکثر اسکے ساتھ راز و نیاز میں مصروف رہتا تھا۔ جب گائے بوڑھی ہو گئی، دودھ سوکھ گیا اور بابے کی روزی روٹی متاثر ہونے لگی تو بادل نخواستہ اسے مبلغ تین ہزار روپے میں فروخت کردیا۔ ڈیڑھ دو سو کا اندوختہ بھی تھا ۔ چنانچہ منتظر تھا کہ جونہی قریبی قصبے میں منڈی لگے، نسبتاً جوان اور زیادہ دودھ دینے والی گائے خرید لائے۔ اور پھرایک حادثہ ہو گیا۔ اپنے وقت کی مشہور گائیک خاتون کا تھیٹر گائوں میں آن اترا۔ رات کو منجھ سجا تو پورا علاقہ امڈ آیا۔ مٹی کے تیل میں نچڑی، ڈنڈوں پر کپڑا لپٹی مشعلوں سے پنڈال بقع نور بنا ہوا تھا۔ ابتدائی آئٹمز کے بعد فرمائشی پروگرام شروع ہوا تو پہلی آواز بابا خوشیا کی تھی جو ’’مینو رب دی سونہہ‘‘ والا گیت سننا چاہتا تھا۔ مغنیہ پہلے تو اس کی ہیئت کذائی پر مسکرائی، پھر نہ جانے کیا سوچ کر اسی کو مخاطب کرکے لہک لہک کر اپنے وقت کا سپرہٹ پنجابی گیت ’’مینوں رب دی سونہہ تیرے نال پیار ہو گیا وے چناں سچی مچی‘‘ گانا شروع کردیا بابا تو یہ سنتے ہی لوٹ پوٹ ہوگیا۔ ماہی بے آب کی طرح تڑپنے لگا۔ پھر بیخودی کے عالم میں یکا یک اٹھا اور روپوںؒ کی برسات کردی اور سارے کے سارے، جو کہ پانچ سو کے لگ بھگ تھے، اس ایک گیت پر نچھاور کر دیئے۔ دن چڑھا تو لوگوں کا خیال تھا کہ بابے کا نشہ اتر چکا ہوگا اور رات والی حرکت پر پشیمان ہو گا۔ مگر بے پناہ فرحاں و شاداں بابا خوشیا کی کیفیت تو ایسی تھی کہ گویا کوئی سلطنت فتح کر لی ہو، کسی نے اظہار حیرت کیا تو بولا یہ تمہارے سمجھنے کی بات نہیں، اسے صرف خوشیا ہی سمجھ سکتا ہے، زندگی میں پہلی بار کسی نے پیار کی نظر سے دیکھا اور مخاطب کیا۔ ایک گائے کی کیا اوقات، پورا ریوڑ بھی ہوتا تو اپنی اس محسن پر لوٹا دیتا۔ وہ زمانے بھی اچھے تھے اور فن کار بھی خدا ترس۔ بی بی نے بابے کو بلا بھیجا اور رقم لوٹانا چاہی ۔ مگر بابا نہ مانا البتہ ایک درخواست ضرور کی کہ اسے اپنے طائفے میں شامل کر لے۔ بی بی مان گئی، وہ حقہ پیتی تھی اور بابا خوشیا باقی زندگی خوشی خوشی اس کی چلمیں بھرتا رہا۔کالج کے زمانے میں اس قسم کا حادثہ ہمارے ایک سندھی دوست کے ساتھ بھی پیش آگیا تھا۔ ون یونٹ کا زمانہ تھا اور ساٹھ کی دہائی آخری دموں پر تھی کہ لندن میں کامن ویلتھ یوتھ فیسٹیول ہوا تھا گورنمنٹ کالج سے جن تین طلبا کا انتخاب ہوا تھا ان میں جیکب آباد کا علی احمد منگی بھی شامل تھا۔ سیاہ رنگت اور کوتاہ قد کا ان ایمپریسیو سا تھرڈ ایئر کا یہ طالب علم نقالی میں بے مثل تھا اور عالمی لیڈروں تک کی نقالی بخوبی کر لیتا تھا، اور غالباً یہی مہارت اس کے انتخاب کا سبب بنی تھی۔ میلہ ختم ہوا تو سب گھروں کو لوٹ گئے سوائے علی احمد منگی کے جواس دوران اپنے سے بارہ برس بڑی اسٹور پر کام کرنے والی میم کے دام الفت کا اسیر ہو چکا تھا۔ کہانی بھی سیدھی سی تھی، ایک صبح ناشتہ لینے گیا ایک ڈبل روٹی اٹھائی، جو باسی تھی، خاتون نے دیکھا تو دور سے چلائی۔ "O no my dear, wait per a moment, fresh one is coming" یہ سننا تھا کہ ہمارا دوست تو سکتے میں اگیا۔ کوئی خاتون،وہ بھی گوری، اس کیلئے اس قدر کئیرنگ کہ اسے باسی روٹی خریدنے سے روک رہی ہے۔ اور نو مائی ڈیئر کے انداز تخاطب نے تو سندھ کے اس سیدھے سادے نوجوان کو پگھلا کر رکھ دیا تھا۔ وہ بھول گیا کہ کہاں سے اور کیوں ادھر آیا ہوں۔ملک، وطن، ماں باپ، عزیز رشتہ دار، گورنمنٹ کالج، تعلیم پڑھائی سب کچھ پس منظر میں چلا گیا۔ قصہ مختصر یہ لگن جلد ہی رنگ لے آئی، دونوں شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔ ایسٹ لندن کے اس اسٹور میں آب وہ باری باری ڈیوٹی دینے لگے میں جب بھی برطانیہ جاتا منگی سے ضرور ملتا۔ ہمیشہ اسے مطمئن اور خوش پایا۔ 2006 میں جانا ہوا تو افسوسناک خبر ملی کہ ینسی اس دنیا میں نہیں رہی، اب کی باراس کی اکلوتی بیٹی ڈولی باپ کی مدد کررہی تھی۔