• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایک طویل بے یقینی کے تکلیف دہ مراحل طے کرنے کے بعد بالآخر 8فروری کو پاکستان میں عام انتخابات کا انعقا د ہو ہی گیا ۔ حالانکہ بہت سے مبصرین آخری وقت تک انتخابات کے انعقاد کے بارے میں شکوک و شبہات میں مبتلا رہے کہ عین وقت پر یہ انتخابات کسی بھی بہانے اور حوالے سے ملتوی کئے جا سکتے ہیں۔ کیونکہ مولانا فضل الرحمٰن سمیت کئی سیاسی لیڈر انتخابات کو ملتوی کرنے کے حق میں کئی بیانات دے چکے تھے۔ بہر حال الیکشن ہوئے اور یہ کنفیوژن تو دور ہوگئی لیکن ان انتخابات کے معیار اور اس کے بعد ہونے والے واقعات ابھی تک موضوعِ بحث بنے ہوئے ہیں۔ جب میں یہ آرٹیکل لکھ رہا ہوں تو ابھی تک سرکاری طور پر تمام حلقوں کے نتائج کا اعلان مکمل نہیں ہوا۔ گویا الیکشن ہوئے 48گھنٹوں سے زیادہ کا وقت ہو چکا ہے لیکن انتخابی عمل کا آخری مرحلہ یعنی ووٹوں کی گنتی ابھی تک مکمل نہیں ہو سکی ۔ جو ایک افسوس ناک عمل ہے اور انتخابی عمل کی شفافیت پر ایک سوالیہ نشان بھی ہے، گنتی کا یہ عمل زیادہ سے زیادہ ایک دو گھنٹے کا ہوتا ہے اور رات 12بجے تک تمام رزلٹ الیکشن کمیشن کے دفتر میں پہنچ جاتے ہیں، نجانے دو دنوں سے انتخابی نتائج پر کیا افتاد آپڑی ہے۔

گویا وہ حبسِ بے جا میں پڑے ہیں ۔ یہی اعتراضات 18کے عام انتخابات کے بارے میں کئے جاتے تھے کہ ایک مخصوص جماعت کو جتوانے کے لیے RTSسسٹم بٹھا دیا گیا تھا۔ اب آر ٹی ایس کی جگہ EMSیعنی الیکشن مینجمنٹ سسٹم متعارف کروایا گیا اور یہ دعویٰ کیا گیا کہ اس سسٹم کے ذریعے روانی کے ساتھ فی الفور انتخابی نتائج نشر کئے جا سکیں گے اور RTSوالا معاملہ درپیش نہیں ہوگا۔ لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات ،پہلے تو صبح کے وقت انٹرنیٹ اور فون کی بندش نے ہی آنے والے واقعات کے بارے میں الارم بجا دیئے تھے ۔ آجکل انٹرنیٹ اور فون رابطے کے سب سے بڑے ذریعے ہیں۔ جن کے بغیر سیاسی جماعتیںاپنے انتخابی عملے اور ووٹروں کے ساتھ رابطے میں نہیں رہ سکتیں ۔ لہٰذا اس ضمن میں تمام پارٹیوں خصوصاََ چھوٹی پارٹیوں کے کارکن سارا دن کنفیوژن کا شکار رہے اور اپنے ووٹروں سے رابطہ کرنے کے حوالے سے پریشان رہے۔ چنانچہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ الیکشن 24اتنے ہی شفاف اور منصفانہ تھے جتنے ہمارے ماضی میں ہونے والے انتخابات تھے اور جو اثرات ان انتخابات کے ہمارے معاشرے پر مرتب ہوئے ،انہوں نے جس طرح ہماری جمہوریت اور قومی وحدت کو کمزور کیا اور قومی بحران حل کرنے کی بجائے ان میں اضافہ کیا۔ حالیہ انتخابات بھی پاکستان میں سیاسی استحکام کی بجائے سیاسی عدم استحکام میں اضافے کے موجب ہوں گے۔ اور کوئی بعید نہیں کہ پاکستان کا معاشی بحران خطرناک حد تک گہرا ہو جائے ۔

18کے عام انتخابات میں مقتدر حلقوں نے ایک ایسے شخص کو اقتدار میں لانے کی طویل منصوبہ بندی کی جو کسی بھی لحاظ سے دانشمندیا زیرک سیاستدان کے زمرے میں نہیں آتا تھا۔ اس مقصد کے لیے طویل دھرنے دئیے گئے اور معمولات ِ زندگی کو مفلوج کردیا گیا۔ جب اس شخص نے ہر ادارے کو تہہ و بالا کر دیا اور ملکی معیشت کا بھٹہ بٹھا دیا اور جاتے جاتے آئی ایم ایف کے ساتھ اپنے ہی معاہدے کی دھجیاں بکھیر دیں تو اسے اقتدار سے باہر رکھنے کے لیے اسکے خلاف مقدمے بنانا شروع کردئیے گئے۔ یقیناََ ان میں ایسے مقدمے بھی شامل ہیں جو حقیقت میں اس شخص کے کردار و گفتار کے تضادات کے حوالے سے حقائق پر مبنی ہیں۔ لیکن جس طرح عوام نے نواز شریف اور آصف علی زرداری کے خلاف مقتدر حلقوں کی طرف سے کردار کشی کی مہم کو پذیرائی نہیں بخشی اسی طر ح عمران خان کے خلاف بھی جتنے مقدمے بنائے گئے وہ اسکی مقبولیت کو کم نہ کر سکے۔ چنانچہ دیگر انتخابات کی طرح الیکشن 24کا سب سے بڑا اور حقیقی نتیجہ یہ ہے کہ پاکستانی عوام اپنی مسلح افواج کے ساتھ پوری محبت اور عقیدت رکھنے کے باوجو د انکی سیاست میں مداخلت کو نا پسند کرتے ہیں اور پاکستان کے ہر مقبول لیڈر میں یہ ایک متفقہ صفت رہی ہے کہ وہ بوجوہ مقتدر ہ کے مخالف یا معتوب رہے ہیں۔ دو سال پہلے عمران خان کی انتہائی غیر مقبولیت میں جہاں اس کے تباہ کن سیاسی اور معاشی اقدامات تھے وہاں مقتدر ہ کا منظورِ نظر ہونا بھی شامل تھا۔ اب اس کی مقبولیت کی واحد وجہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہونا ہے۔

یہ وہ خوفناک حقیقت ہے جسکی طرف ہماری مقتدرہ کو توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ فوج جیسے قومی اور نہایت اہم دفاعی ادارے کے بارے میں عوام کے منفی جذبات کسی بھی طور درست نہیں اور ملک و قوم کے حق میں بھی نہیں ۔ اس لیے ہماری اسٹیبلشمنٹ کو خود کو سیاسی معاملات سے باہر نکالنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کرنی چاہئیں ۔ الیکشن 24کا دوسرا سب سے بڑا نتیجہ یہ ہے کہ جینوئن سیاسی قیادت کی موجودگی میں ’’غیر سیاسی بگولے‘‘سیاسی میدان میں اپنی کوئی جگہ نہیں بنا سکتے۔ عمران خان کی حالیہ لہر نے کے پی کے اور پنجاب کو یقیناََ متاثر کیا ہے۔ لیکن وہ پاکستان کے دوسرے بڑے صوبے سندھ میں سرے سے داخل ہی نہیں ہو سکی کیونکہ وہاں پاکستان کی سب سے میچور سیاسی پارٹی پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت رہی ہے۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ صرف سندھ میں ہونے والے انتخابات ہی شفاف اور منصفانہ تھے تو غلط نہ ہوگا۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

تازہ ترین