• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اردو ادب میں ناول نگاری ایک ایسی ضرب کاری ہے جس نے منجمد ماحول کو ایک ایسا تحرک دیا کہ انسان کے اندر موجود گھٹن کو ایک اعتماد کی فضا میسر ہو گئی۔ سیاسی، معاشرتی اور معاشی حالات نے انسان کو بدل کے رکھ دیا۔ ایک پورا معاشرہ ایک ایسی تبدیلی کی جانب گامزن ہے ، جس کی ابھی منزل کا تعین نہیں ہے۔ عمیرہ احمد کے کردار چونکہ معاشرے کو ایک نئی سوچ عطا کرتے ہیں، اس لیےان کے ناولوں میں تہذیب و ثقافت کے بدلتے ہوئے رنگ بھی نظر آتے ہیں۔

عمیرہ احمد کی کہانیاں اُن معاشرتی مسائل کا احاطہ کرتی ہیں، جو موجودہ دور کے حالات و واقعات کی عکاسی کرتے ہیں، انہوں نے کرداروں کے ذریعے اس بات کو اُجاگر کیا ہے کہ انسان سکون کے حصول کے لیے اکثر لا حاصل کا راستہ پہچانتا ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہر انسان کی زندگی میں عروج و زوال کا دورانیہ کسی نہ کسی رنگ میں ضرور آتا ہے، لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ اگر عروج کو زوال ہو تو زوال کو پھر عروج حاصل ہو۔ گرم و سرد کی سختیاں سہتے سہتے ایک فرد جس گلشن کی آبیاری کرتا ہے، اسی گھرانے کا فرد اپنی نالا ئقی سُستی و کاہلی کی بدولت اُس گلشن کو اُجاڑ دیتا ہے۔ 

حقیقت یہ ہے کہ ان اسباب کے پیدا ہونے کی وجوہات کا ارتقاء اُن محرومیوں کے گرد گھومتا ہے، جو ایک طویل عرصے سے معاشرے میں پنپ رہی ہوتی ہیں۔ ارد گرد کا ماحول کسی بھی انسان کو متاثر کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ عمیرہ احمد نے ناول نگاری میں اِس تصور کو یوں بیان کیا ہے کہ جیسے آج کا انسان ان رسومات سے چاہے بھی تو نہیں نکل سکتا۔ انہوں نے انسانی محبت کو ظاہری سے زیادہ باطنی رنگ میں دیکھا۔

عمیرہ احمد ناول ’’پیر کامل‘‘ میں لکھتی ہیں، آپ سب کی زندگی میں آنے والے اُس موڑ کے لیے جب روشنی یا تاریکی کے انتخاب کا فیصلہ ہم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ہم چاہیں تو اس راستے پر قدم بڑھا دیں جو روشن ہے ، اور چاہیں تو تاریکی میں داخل ہو جائیں۔ روشنی میں ہوتے ہوئے بھی انسان کو آنکھیں کھلی رکھنی پڑتی ہیں۔ 

اگر وہ ٹھو کر کھائے بغیر زندگی کا سفر طے کرنا چاہتا ہے تو تاریکی میں داخل ہونے کے بعد آنکھیں کھلی رکھیں یا بند کوئی فرق نہیں پڑتا، تاریکی ٹھوکروں کو ہماری زندگی کا مقدر بنا دیتی ہے۔ مگر بعض دفعہ تاریکی میں قدم دھرنے کے بعد ٹھوکر لگنے سے پہلے ہی انسان کو پچھتاوا ہونے لگتا ہے۔ وہ واپس اُس موڑ پر آنا چاہتا ہے ، جہاں سے اُس نے اپنا سفر شروع کیا تھا،تب صرف ایک چیز اس کی مدد کر سکتی ہے، کوئی آواز جو ر ہنمائی کا کام کرے اور انسانی اطاعت کے علاوہ کچھ نہ کرے‘‘۔

عمیرہ احمد کے کردار اس بات کی عکاسی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ اگر خود انسان اپنی ذات میں عشق مجازی کے مراحل طے کر رہا ہے اور وہ عشق حقیقی کی پہچان پارہا ہے تو پھر اُس کا فرض بنتا ہے کہ اس راہ پر صرف وہ ہی گامزن نہ رہے، بلکہ اجتماعی طور پر اس کی تبلیغ بھی کرئے، تاکہ جس تکالیف کا اُسے سامنا کرنا پڑ رہا ہے اُس کا احساس ان افراد کو بھی ہو جو اس بات کا یقین رکھتے ہیں کہ انسان کی اصل کامیابی اور اُس کی پہچان اُن عوامل میں ہے جو اُس کے باطن میں ایک عملی نیکی کی صورت میں چھپا ہوا ہے۔ 

انسانی معاشرہ جب حالات کی آسودگی کو کرب کی کروٹ کے دامن میں بسیرا کرتا ہوا دیکھتا ہے تو وہ کر بناک احساسات جنم لیتے ہیں جس کا اظہار ممکن نہیں رہتا۔ انسان لمحوں کے سفر کو صدیوں کا سفر محسوس کرنے لگتا ہے۔ یوں فرد کو احساس کی چوکھٹ پر آکر یہ گمان ہونے لگتا ہے کہ اگر آسودگی کی پناہ میں آنا ہے تو صرف اور صرف اُسے اُن حقوق کا خیال رکھانا ہے، جو خدا نے اس پر فرض کیے ہیں۔ عمیرہ احمد نے اپنے کرداروں کے ذریعے یہ واضح کیا ہے کہ حقوق کا ادا ہو نا صرف اور صرف عمل میں ہی پوشیدہ ہے۔ انہوں نے عقل اور جذباتی کیفیتوں کی خوبصورت عکاسی کی ہے۔ زندگی کا مقصد ہے کیا، گفتگو اور خیالات اپنے اندر کیا معنی رکھتے ہیں۔

عمیرہ احمد نے عورت کو ایک جہدِ مسلسل کا روپ دیا، وہ عورت جو کہیں کھو گئی تھی کہ جس سے قومیں بنتی ہیں، اُسے اُس کی قدر کروائی، اپنے آپ کو پہچانو اپنے اندر کو تلاش کرو۔ ناول ’’شہر ذات‘‘میں لکھتی ہیں، ’’میں نے اس سے کہا، میں نے پچھلے تین سال ویسے زندگی گزاری ہے جیسی تم چاہتے تھے۔ اس نے کہا میں کیا کروں۔ میں تین سال اللہ کی مرضی کے مطابق زندگی گزارتی تو کیا اللہ یہ کہتا؟ میں نے اس سے کہا تم مجھے بتاؤ میں کیا کروں کہ تم خوش ہو جاؤ۔ مجھ سے محبت کرنے لگو۔ اس نے کہا مجھے تمہاری ضرورت ہی نہیں ہے۔ مجھے تمہاری کوئی بات، کوئی چیز خوش نہیں کر سکتی۔ میں اللہ سے یہ کہتی تو کیا وہ بھی یہی کہتا؟ نہیں، انسان بس ٹھو کر ہی مارتا ہے‘‘۔

عمیرہ نے عورت کو ایک ایسے طاقتور روپ میں پیش کیا ہے جو اپنے اندر نہ صرف مزاحمت کی طاقت رکھتی ہے بلکہ وہ پورا اختیار رکھتی ہے کہ ایک ایسی آزاد زندگی بسر کرئے جو دنیاوی اور مذہبی حوالے سے صرف اُسی کی ہو۔ وہ اپنے اندر روحانیت کے سفر کو طے کرنے کی بھی صلاحیت رکھتی ہے۔ شعوری طور پر بھی اُن تمام احساسات کو محسوس کرتی ہے، جو ایک مرد محسوس کر سکتا ہے۔ وہ سوچ جو فکری طور پر انہیں عملی کام کی جانب اکساتی ہے، اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عورت نفسیاتی، معاشی اور اخلاقی طور پر اس مقام تک پہنچ سکتی ہے جو شاید بنایا ہی اُس کے لیے ہوتا ہے۔ 

انہیں اس بات کا ادراک ہے کہ اگر رومانیت میں روحانیت کے اجزاء کو شامل کیا جائے تو معاشرے میں عورت کی حیثیت کے رُخ مثبت طور پر سامنے آئیں۔ انسان جب اپنی فکر کو کچھ لمحوں کے لیے اس نکتہ پر براجمان کرلے کہ وہ کیا پوشیدہ جذباتیت کار فرما ہوتی ہے کہ جو ایک عورت کو اتنی طاقت دوام بخشتی ہے کہ وہ تن و تنہا سب سے ٹکرانے پر راضی ہو جاتی ہے۔ گلی کوچوں میں بے نام و نشاں ہونے والی ہستی اچانک کس طرح وہ عروج حاصل کرتی ہے، جس کے مقدر کا ستارہ آسمان پر روشن و عیاں ہو کر چمکنے لگتا ہے۔ 

اصل میں عقائد کو ایک ایسے طاقتور عنصر کے طور پر پیش کیا کہ جس نے نہ صرف رومانوی تقاضوں کو پورا کیا بلکہ ایک نئی سوچ معاشرے میں پروان چڑھانے میں مدد دی۔ عمیرہ احمد اس جمود کو توڑتی ہوئی نظر آتی ہیں، جو ایک طویل عرصے سے ہمارے معاشرے کا حصہ رہا ہے۔ ان کے تمام نسوانی کردار اپنے اندر ایک ایسی اسلامی فکر رکھتے ہیں جو انہیں ہر وقت تحرک کا درس دیتی ہے۔

ناول ’’ایمان امید اور محبت‘‘میں لکھتی ہیں، ’’انسان کی خواہشات سے اللہ کو دلچسپی نہیں ہے۔ وہ اس کی تقدیر اپنی مرضی سے بناتا ہے۔ اسے کیا ملنا ہے اور کیا نہیں ملنا ،اس کا فیصلہ وہ خود کرتا ہے۔ جو چیز آپ کو ملنا ہے آپ اس کی خواہش کریں یا نہ کریں وہ آپ ہی کی ہے۔ وہ کسی دوسرے کے پاس نہیں جائے گی مگر جو چیز آپ کو نہیں ملنی، وہ کسی کے پاس بھی چلی جائے گی، مگر آپ کے پاس نہیں آئے گی۔ 

انسان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ جانے والی چیز کے ملال میں مبتلا رہتا ہے، آنے والی چیز کی خوشی اسے مسرور نہیں کرتی۔ عمیرہ احمد کے ناولوں میں ہمیں زندگی کے عام پہلو بھی نظر آتے ہیں، ان کے کر دار اس بات کی عکاسی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ انسان چاہے کسی بھی نسل سے تعلق رکھتا ہو ، اپنے اطراف میں پھیلی ہوئی پریشانیوں کو دیکھ کر بعض اوقات اُن راستوں کو پہچانتا ہے جو غیر فطری ہوتے ہیں، ایک انسان کی زندگی میں یا تو آسودگی دامن بچھاتی ہے، یا پھر ذلیل ورسوا ہونے کا راستہ اُس نے چن لیا ہوتا ہے۔

معاشرتی تعلقات جتنے مضبوط ہوتے ہیں، اسی قدر نازک بھی ہوتے ہیں ان میں توازن رکھنا ایک فرد کے لیے بہت سی مشکلات کا باعث بھی بنتا ہے۔ عمیرہ احمد کے ناولوں میں مرد ہو یا عورت دونوں اپنی اپنی جگہ اہمیت رکھتے ہیں، چونکہ ان کے ناولوں میں اسلامی فضا کا عنصر نمایاں ہے، اِس لیے زندگی کی سچائی اس قدر نمایاں ہے کہ ماضی ہو یا حال یہاں تک کہ مستقبل بھی زندگی کے مثبت اُصولوں کو لیتے ہوئے اس بات کو ظاہر کیا ہے کہ قوموں کی ترقی اسی میں پوشیدہ ہے کہ وہ مسلسل جدوجہد کرتی رہیں۔

یہ بد قسمتی ہے کہ ہمارا معاشرہ تو ہم پرستی میں ڈوبا ہوا ہے،جبکہ وقت کا ہر لمحہ انسان کو اس بات پر قائل کرتا ہے کہ وہ متحرک رہے۔ عمیرہ احمد نے اسی طرز فکر کو اپنایا۔ ان کے تقریباً تمام ناول زندگی کی اصلاح کی عکاسی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اندازِ تحریر اتنا سادہ اور دلچسپ ہوتا ہے کہ پڑھنے والا کردار کا ذہنی رحجان سمجھ لیتا ہے۔ 

ناول ”قید تنہائی“ میں بچیوں کی کردار سازی پر زور دیا گیا ہے۔ عائشہ ایک مصلے پر بیٹھی دعا مانگ رہی ہے۔ پھر دُعا مانگنے کے بعد قرآن پاک لاتی ہے۔ اسے کھولنے سے پہلے وہ چند لمحے قرآن پاک کے جزدان (اوپر چڑھے ہوئے غلاف) کو دیکھتی ہے۔ یہ اس کی شادی میں دیا جانے والا قرآن ہے۔ اوپر چڑھا ہوا کپڑا کچھ پرانا لگ رہا ہے لیکن وہ کچھ فینسی کپڑے سے بنا ہے۔ وہ کچھ دیر جیسے کسی گہری سوچ میں قرآن پاک کے جزدان پر انگلی پھرتی ہے۔ پھر جیسے اس کے کانوں میں کوئی آواز آتی ہے۔

ماں : اب طاق میں سجا کر مت رکھ دینا۔۔۔

روز تلاوت کرنا قرآن پاک کی۔۔۔

عائشہ : ساری نصیحتیں آپ نے مجھے آج ہی کر دینی ہے؟

ماں کرنی پڑتی ہے نصیحت۔ تم سنتی ہو کسی کی۔۔ ؟ عائشہ :۔۔ آپ کی تو سنتی ہوں۔۔ (ہنس کر )“۔

عمیرہ احمد کے ناولوں میں مکالمے اِس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ زندگی کی حقیقت ہی اُن آوازوں سے ہے ، جو انسانی فطرت میں سما جائے، جہاں تک منظر نگاری کا تعلق ہے تو عمیرہ نے اُن جزئیات کو بھی سمیٹا ہے ، جن کی طرف شاید کوئی دھیان نہ دے۔ الفاظ کی روانی اور منظر نگاری میں جو توازن پیش کیا اُس نےان کے ناولوں کو چار چاند لگا دیئے،خاص طور پر مذہبی فضا کو جو خاص روحانیت عطا کی گئی، اُس نے کرداروں میں اُس خاصیت کو پیدا کیا کہ جہاں جستجو جنم لیتی ہے۔ 

اندھی تقلید نے کس طرح پوری قوم کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے، کرب کا احساس کب ہوتا ہے، چاہ کی طلب کس طرح ممکن ہو پاتی ہے ؟ رومانیت میں انسان کب سر خرو ہوتا ہے، جیسے موضوعات ان کے ناولوں کا خاصہ ہیں۔ اور جس ہیت، نغمگی، موزونیت اور حدود و قیود کے ساتھ اپنی راست بیانی اور تخلیل کے ساتھ ہمارے سامنے آئے ہیں، وہ یقیناً اس جمود کو متحرک کرتے ہیں، جو کافی عرصے سے ہمارے ذہنوں میں موجود ہے۔