اسرائیل کے جنوبی لبنان میں کیے گئے ڈرون حملے میں حزب اللہ کے 3 ارکان مارے گئے۔
عرب میڈیا کے مطابق جنوبی لبنان میں گاڑی کو سرحدی علاقے نقورہ میں نشانہ بنایا گیا۔
رپورٹس کے مطابق ڈرون حملے میں جاں بحق افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ سنا ہے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اب زندہ نہیں، مجتبیٰ خامنہ ای کی موت کی خبر افواہ ہوسکتی ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق حملے کے بعد فجیرہ پورٹ پر کچھ آئل لوڈنگ آپریشنز معطل ہوگئے، متاثرہ مقام پر خوف ناک آگ لگ گئی اور علاقہ دھواں دھواں ہوگیا۔
متحدہ عرب امارات نے ایران کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تہران کی پالیسی کنفیوژن کا شکار ہے اور اس میں ذہانت نظرنہیں آتی۔
امریکی نیوزویب سائٹ کے مطابق اسرائیل نے امریکا کو بتایا کہ اس کے پاس بلیسٹک میزائل انٹرسیپٹرز بہت کم رہ گئے۔
سابق امریکی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کو ہدف تنقید بنالیا۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ انہیں خدشہ ہے کہ حزب اللہ سویلین ٹرکس کی آڑ میں اپنے میزائل لانچرز اور دیگر اسلحے کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر رہا ہے۔
انور قرقاش نے مزید کہا کہ ایران حملے روک کر بات چیت کی کوششوں کی طرف آئے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ حالیہ جنگ میں واضح ہوگیا کہ امریکا کو خطے میں اسرائیل کے سوا کسی کی پروا نہیں ہے۔
اسرائیلی اخبار کے مطابق مذاکرات پیرس یا قبرص میں ہوں گے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیئرڈ کشنر بھی مذاکرات کا حصہ ہوں گے۔
فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے نکالی گئی یوم القدس کی ریلیوں کے دوران ایرانی عوام بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکلے۔
ایران نے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ نہ صرف دنیا میں تیل کی قیمتوں کو کنٹرول کرسکتا ہے، بلکہ آبنائے ہُرمُز کی بندش سے آئل ٹینکرز کی نقل و حرکت کو روک سکتا ہے۔
مشکلات کے باوجود عوامی خدمات کی فراہمی میں کوئی بڑا تعطل نہیں: مسعود پزشکیان
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امید ہے کہ چین، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا، برطانیہ اور دیگر ممالک جنگی جہاز بھیجیں گے۔
لبنانی وزارت صحت کے مطابق جاں بحق افراد میں 106 بچے اور 65 خواتین بھی شامل ہیں۔
ایرانی حکومت کے ترجمان کے مطابق تباہ ہونے والی ان 43 ہزار میں سے 36500 عمارتیں رہائشی یونٹس ہیں۔