اسرائیل کے جنوبی لبنان میں کیے گئے ڈرون حملے میں حزب اللہ کے 3 ارکان مارے گئے۔
عرب میڈیا کے مطابق جنوبی لبنان میں گاڑی کو سرحدی علاقے نقورہ میں نشانہ بنایا گیا۔
رپورٹس کے مطابق ڈرون حملے میں جاں بحق افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اسرائیل کو مضبوط اور قریبی اتحادی سمجھتے ہیں، اسرائیل امریکا کے ساتھ شانہ بشانہ جنگ لڑ رہا ہے۔
امریکی جنرل نے کہا کہ ریسکیوآپریشن کا مقصد دونوں اہلکاروں کو بحفاظت واپس لانا تھا، امریکی اہلکاروں نے دن کے اجالے میں انتہائی خطرناک ریسکیو آپریشن کیا۔
ایک اسرائیلی فوجی نے عمارت سے چھلانگ لگا کر خودکشی کرلی۔ تل ابیب سے میڈیا کے مطابق غزہ میں جنگی جرائم میں ملوث فوجیوں کو نفسیاتی مسائل کا سامنا ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے بیان میں مجید خادمی کو ’بہادر‘ قرار دیتے ہوئے ان کے اہلِ خانہ اور قوم سے تعزیت کی اور کہا کہ ایران کی مسلح افواج اپنی جدوجہد جاری رکھیں گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے اپنا نکتہ نظر واضح کرنے کے لیے ایسا کیا، میرا خیال ہے آپ نے پہلے بھی ایسا سُنا ہوگا۔
ایران میں مشن کے دوران امریکی فوجیوں کو انتہائی قریب سے فائرنگ کا سامنا بھی ہوا۔ ایران میں دوسرے آپریشن میں 155 طیاروں نے حصہ لیا تھا: ٹرمپ
اسرائیلی میڈیا کے مطابق گزشتہ رات بیروت میں عمارت کو نشانہ بنایا گیا تاہم خفیہ معلومات غلط ثابت ہوئیں۔
زمبابوے میں سفارتخانے نے ہرمز کھولنے کی ٹرمپ کی فرمائش پر لکھا “چابی کھو گئی ہے” ڈیڈ لائن والی دھمکی پر سفارتخانے نے ٹرمپ سے وقت آگے پیچھے کرنے کی طنزیہ فرمائش کر ڈالی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ منگل کی ڈیڈ لائن حتمی ہے، ہماری فوج دنیا کی عظیم فوج ہے۔
ایرانی میڈیا رپورٹ کے مطابق ایران کا ردِعمل ظاہر کرتا ہے کہ ایران نے جنگ بندی کو مسترد کردیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایران کی شریف یونیورسٹی پر امریکی اور اسرائیلی بمباری کی شدید مذمت کی۔
دفاعی ماہرین کے مطابق ایران آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرنےکےلیے روایتی بحری بیڑے پر انحصار نہیں کرتا، بلکہ ملٹی لیئر ڈیفنس اسٹریٹیجی کا استعمال کرتا ہے
ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق حملے میں پارس پیٹروکیمیکل کمپنی متاثر نہیں ہوئی۔
رکن کانگریس کا شریف یونیورسٹی کا امریکا کی صف اول ٹیکنالوجی یونیورسٹی میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے موازنہ
بوشہر بجلی گھر پر ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں پر آئی اے ای اے کا صرف تشویش کا اظہار ناکافی ہے، مؤثر اور فیصلہ کن اقدامات کی ضرورت ہے۔
امریکی اخبار کے مطابق مشن کے دوران یہ طیارے غیر فعال ائیر بیس پر لینڈنگ کے بعد زمین میں دھنس گئے تھے جس کے باعث امریکی فوجیوں کو انہیں تباہ کرنا پڑا۔