• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اُنیسویں صدی کے یورپ کے اَدبی حلقوں میں یہ بحث مقبول تھی کہ آرٹ برائے آرٹ ہوتا ہے یا آرٹ برائے زندگی۔ اس موضوع پر اقبال نے کہا۔

دلبری بے قاہری جادوگری اَست

دلبری با قاہری پیغمبری اَست

اقبال نے کہا کسی قوم کی رُوحانی صحت کا دارومدار اس کے شعراء اور آرٹسٹ کی الہامی صلاحیت پر ہوتا ہے ۔ لیکن اس پر اپنا بس نہیں چلتا۔ یہ عطیۂ الٰہی ہے۔ شاعرکی رُوح میں زمانہ اور اَبدیت کا پرتو منعکس ہوتا ہے۔ اقبال کے خیال میں آرٹ زندگی سے علیحدہ کوئی قدر نہیں ہے۔اقبال کے نزدیک حُسن اور سچائی ایک ہی چیز ہیں،؎ اقبال…

حُسن آئینہ حق اور دِل آئینہ حُسن

دل انسان کو تیرا حُسن کلام آئینہ

غالبؔ نے اس مضمون کو اس طرح ادا کیا ہے۔

ہر قدم دوری منزل ہے نمایاں مجھ سے

میری رفتار سے بھاگے ہے بیاباں مجھ سے

جس طرح موسم بہار میں درختوں سے اپنے اندرونی جوش حیات سے کونپلیں پھوٹتی ہیں اسی طرح شاعر تراوش فکر کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

ایک اچھا شاعر یہ کام اپنے وجدان سے انجام دیتا ہے۔ یُوں تو شاعر کی سوچ میں موجود ہوتی ہے لیکن وہ خارجی تجربات سے بے گانہ نہیں۔ اگر شاعر خود کوشش کرے تو اس کا آرٹ (شعر) تاثیر سے محروم ہوگا۔ ہم کسی شعر کی تاثیر سے اسی قدر لُطف اندوز ہو سکتے ہیں جس حد تک ہم وجدانی طور پر اس کو سمجھ سکیں۔ غالب کے اکثر شارحین جب شعر کے حُسن کو الفاظ کی گرفت میں لانے سے خود کو عاجز محسوس کرتے ہیں تو فقرہ لکھتے ہیں کہ ’شعر کا لطف وجدانی ہے‘ شاعر خارجی مظاہر سے اکتساب فیض کرتا ہے اور اپنے اعجاز سے پوشیدہ نغمے کو باہر نکالتا ہے۔ 

شاعر کو ذرّے ذرّے میں حُسن اَزل کی جھلک نظر آتی ہے۔ آئینہ حُسن کو ہوبہو پیش کر دیتا ہے لیکن رُوح کو منعکس نہیں کر سکتا۔ شاعر اس کام کو انجام دیتا ہے۔ شاعر اپنے دل میں تخیّلی پیکروں کی ایک دُنیا آباد کر لیتا ہے اور اپنے خونِ جگر سے اُن کی پرورش کرتا ہے۔ شاعر شدّت احساس کی حالت میں اپنے آپ کو ان تخیّلی پیکروں سے وابستہ کر لیتا ہے۔ اس کا تخیّل اسے ایسے ایسے عالموں کی سیر کراتا ہے کہ جنہیں آنکھ نہیں دیکھ سکتی۔

ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشہ کرے کوئی

ہو دیکھنا تو دیدۂ دِل وا کرے کوئی

سوائے تخیّل کے جذبات کی دُنیا کا کوئی اور محرم راز نہیں ہو سکتا۔ جسے عقل ادھورا دیکھتی ہے اسے تخیّل مکمل دیکھ لیتا ہے۔ تخیّل وجدان کی مدد سے اسے کل کی حیثیت سے دیکھ لیتا ہے، بغیر جذبے کی مدد کے حقیقت کا مکمل شعور ممکن نہیں۔

عقل میں جذبے کی ملاوٹ نہیں ہوتی اور شعر سوزِ دُروں کے بغیر نہیں ہوتا۔ بوعلی سینا پر منطق (عقل) غالب تھی اور رُومی پر جذبہ۔

بو علی اندر غبار ناقہ گم

دست رُومی پردۂ محمل گرفت

جس حقیقت کی تلاش انسان کو ہے وہ اسے خارجی فطرت میں نہیں ملتی البتہ شاعر اس حقیقت کو دل کی دُنیا میں پا لیتا ہے جس حقیقت کو خود دیکھ لیتا ہے۔ اسے دُوسروں کو بھی دکھانے کی کوشش کرتا ہے

شاعر کی ایک بڑی خوبی اس کا خلوص ہے یہ خلوص اصلی بھی ہو سکتا ہے اور جذباتی بھی۔ بڑے شاعر کے کلام میں دونوں کا امتزاج ہوتا ہے۔ غالب نے اس بات کا اظہار یُوں کیا ہے۔

حُسن فروغ شمع سخن دُور ہے اسدؔ

پہلے دِل گداختہ پیدا کرے کوئی

اقبال نے اس جذبے کا اظہار یُوں کیا ہے

خون دل و جگر سے ہے میری نوا کی پرورش

ہے رگِ ساز میں رواں صاحبِ ساز کا لہو

اگر شعر میں جذبہ و خلوص نہیں تو وہ بجھی ہوئی آگ کی مثل ہے۔ اگر کوئی شاعر زندگی کو فراوانی اور فروغ نہیں بخشتا۔ اگر اس کے فن سے مسرّت اور بصیرت کے چشمے نہیں پُھوٹتے۔ اگر اس سے حقائق حیات کے اُلجھے ہوئے تار نہیں سُلجھتے تو وہ آرٹ بے معنی ہے۔

شاعر کی نوا ہو کہ مغنّی کا نفس ہو

جس سے چمن افسردہ ہو وہ بادِ سحر کیا

سینہ روشن ہو تو ہے سوزِ سخن عین حیات

ہو نہ روشن تو سخن مرگِ دوام اے ساقی

ضروری ہے کہ زندگی کے مقاصد پر شاعر کا اپنا ایمان مکمل ہو، حقیقی شاعر کا ہر مصرع اس کا دل کا قطرۂ خون ہوتا ہے۔ ایک تو آگ پھر وہ بھی ایک حساس دل کے خون میں حل کی ہوئی۔ شاعر اپنے موضوع کو دلکش اور مؤثر طور پر بیان کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ 

سچا شاعر تخلیق جمال کرتا ہے تو اس میں بڑی عظمت ہوتی ہے۔ غنائی شاعری دل کے تاروں کو چھیڑتی ہے۔ حسرت اور آرزو کی جیتی جاگتی تصویر کھینچ دیتی ہے۔ وہ جس قدر آگ باہر نکالتا ہے اس سے زیادہ اس کے دل میں بھڑکتی ہے۔ اس مضمون کو غالب نے یُوں ادا کیا ہے:

یہی بار بار جی میں میرے آئے ہے کہ غالب

کروں خوان گفتگو پہ دل و جان کی مہمانی

خاکی کی فضیلت اسی میں ہے کہ وہ ایک جہان آرزو پیدا کرے۔ انسان بڑی شوخی (اور گستاخی) سے کہتا ہے اے خدا تیری طرح مجھے بھی تخلیق کا شوق ہے تُو نے شب پیدا کی میں نے چراغ بنایا، تُو نے مٹی بنائی میں نے پیالہ، تُو نے بیابان اور کہسار پیدا کئے میں نے خیابان اور گلزار۔ تُو نے سنگ پیدا کیا میں نے آئینہ،

تو شب آفریدی۔ چراغ آفریدم

سفال آفریدی ایاغ آفریدم

تُو نے جہاں کو پیدا کیا لیکن آراستہ میں نے کیا۔ انسان فطرت پر قانع نہیں رہتا وہ اسے بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ تیری دُنیا میں پہاڑ اور دریا ہیں، میری دُنیا میں فغان صُبح گاہی۔

غالب معشوق کو مخاطب کر کے کہتا ہے۔ تیرا گُل بولتا ہے، تیری نرگس، لذّتِ دید سے آشنا ہے تیری بہار ایسی پُرکیف ہے کہ فطرت کی بہار بھی ایسی نہیں۔

اقبال نے عشق کا لفظ بار بار استعمال کیا ہے۔ عشق سے اقبال کی مُراد وہ جوش وجدان ہے جو ایک قدر کی حیثیت رکھتا ہے۔ جس کے تانے بانے سے ذات اپنی قبائے صفات بناتی ہے۔ یہ ایک وجدانی کیفیت ہے جس کا خاصہ مستی اور جذب کلی ہے۔ عشق کا ایک خاصہ پیہم آرزو ہے۔ 

زندگی کا محرک ہے۔ عشق کی بدولت انسان میں ایک جرأت زندانہ پیدا ہو جاتی ہے اور وہ خُدا سے ہمکلام ہو جاتا ہے۔ وہ خُدا کے اشاروں کو سمجھنے لگتا ہے۔ عشق جذبہ مجاز کی منزلوں سے گزرتا ہوا جب شاہد حقیقی سے ہمکنار ہو جاتا ہے تو عقل اپنے گلے میں غلامی کا طوق ڈال لیتی ہے۔

من بندۂ آزادم عشق است امام من

عشق است امام من، عقل است غلام من

اس غزل میں ایک عجیب مستی اور عجیب ترنم٭ ہے غزل کی داد مرزا غالب دیتے اگر وہ کوئی روز اور جیئے ہوتے۔

عشق ہی وہ چیز ہے جو مادّے پر فتح حاصل کرکے فنا سے نجات حاصل کرسکتا ہے۔

مولانا رُوم… پُھول پتّوں سے پوچھتے ہیں بتا تجھ میں وہ کون سا جذبہ یا کون سی قوت ہے جس کی شدّت سے مجبور ہو کر تو شاخ سے پُھوٹتا ہے اور اظہار خودی کے لئے مجبور ہو جاتا ہے۔ وہ کون سی قوت ہے جس کے ذریعے پُھولوں کا زیرہ دُوسرے پھولوں تک پہنچتا ہے اور بارِ آوری کا سبب بنتا ہے۔ فطرت اپنے اس مقصد کو کبھی طائرانِ خوش الحان کے ذریعے کبھی بادِ صبا کے ذریعے پورا کرتی ہے۔ 

نہایت لطیف اور پُراسرار طریقوں سے اپنی منشا کی تکمیل کرتی ہے۔ سمندر میں مچھلی اپنا راستہ تلاش کر لیتی ہے۔ یہ بھی عشق کا کرشمہ ہے۔ انسان کے اعضاء جوش حیات سے عبارت ہیں۔ عشق زندگی کی اعلیٰ ترین استعداد ہے۔ بُلبُل کی سعی نوا۔ کبوتر کی شوخی خرام، بُلُل کا ذوق توا… سب جذبہ و مستی کے مظاہر ہیں۔

یہ ناکارہ طالب علم سوچتا ہے کہ عشق کا جذبہ صرف جانداروں میں ہی نہیں کرّۂ اَرض کی ثقل یا کشش بھی عشق کا ایک اہم مظہر ہے۔ اگر زمین میں کشش نہ ہو تو نظام زندگی درہم برہم ہو جائے۔

یہ جذبۂ عشق ہے جس سے شیرازہ زندگی بندھا ہوا ہے۔ ایک شاعر نے کہا ہے۔ زندگی کیا ہے۔ چند عناصر میں ظہور ترغیب، موت کیا ہے ان ہی اجزا کا پریشاں ہو جانا…

جو چیز ان عناصر کو جوڑے رکھتی ہے وہ یہی جذبۂ عشق ہے یا کشش باہمی…

اس مضمون کے لئے ہم نے ڈاکٹر یوسف حُسین خاں صاحب کی کتاب ’رُوح اقبال‘ سےمدد لی ہے۔