• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن


وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ نواز شریف موجودہ حالات سے مطمئن نہیں ہیں۔

جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں گفتگو کے دوران خواجہ آصف نے کہا کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ پی ٹی آئی کا مجرم بری ہو اور ہمارے مجرم کو سزا ہوجائے۔

انہوں نے کہا کہ احتساب کےلیے ماضی میں جتنا پیچھے جانا ہے، ضرور جانا چاہیے، جو جرم آپ نے کیا ہو، اس پر دوسرے کو سزا دینے کا مطالبہ آپ نہیں کرسکتے۔

وزیر دفاع نے مزید کہا کہ آج بزنس ایڈوائزی کمیٹی میں طے ہوا تھا کہ تقریر میں مداخلت نہیں ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ڈیڑھ گھنٹہ عمر ایوب کی تقریر تحمل سے سنی، اس میں غلط باتیں بھی کی گئیں۔

خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ جب میں نے ایوب خان کی بات کی تو وہ ان کو بری لگی، سب سے پہلے آئین ایوب خان نے توڑا، تاریخ کا پہلا مارشل لاء لگایا۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے تاریخ ٹھیک کرنی ہے تو سارے معاملے سیٹل کرنے پڑیں گے، عدم اعتماد کی تحریک جب پیش کی گئی تو اس رات بھی اسمبلی توڑ کر آئین توڑا گیا۔

وزیر دفاع نے کہا کہ توشہ خانہ میں بہت سے لوگوں نے تجاوز کیا ہوگا لیکن کسی نے ان تحائف سے کاروبار نہیں کیا، 190ملین پاؤنڈ کیس میں جرم سرزد ہوا ہے اس میں کوئی شک نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے مجھ پر 10 ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ کیا ہے، اب ان کے وکیل عدالت نہیں آتے، اس میں شک نہیں کہ 9 مئی کو جرائم سرزد ہوئے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں خواجہ آصف نے کہا کہ پارٹی قائد نواز شریف موجودہ حالات سے مطمئن نہیں ہیں۔

اس سے قبل جیو نیوز سے گفتگو میں وزیر دفاع نے کہا کہ آزاد کشمیر میں احتجاج کے معاملے پر وزیراعظم نے میٹنگ کی، تمام معاملات خوش اسلوبی سے حل کرنے کی طرف بڑھے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 23 ارب روپے فوری طور پر آزاد کشمیر حکومت کو جاری کیے ہیں، آٹے اور بجلی کے مسئلے کا مستقل حل کرنے کی طرف بڑھے ہیں۔

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ بجلی کی مد میں جو پیسے بنتے ہیں ان کا مستقل حل ہوگا، بنیادی طور پر پن بجلی کے بہت سے منصوبے کشمیر میں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بجلی کی پیداوار کا ایک بڑا حصہ آزاد کشمیر سے ہے، احتجاج آزاد کشمیر کے رہنے والوں کا حق تھا جو انہیں ملا۔

قومی خبریں سے مزید