آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ12 ربیع الاوّل 1440ھ 21؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
عالمی مربوطگی ایک لائحہ عمل ہے جس سے بین الاقوامی سرمایہ کاری راغب ہوتی ہے۔ اس ضمن میں پالیسی میں جدت ، طریقہ کار سہل ، سماجی امتزاج اور ٹیرف میں کمی جیسے عوامل اہم ہیں۔ خصوصی طور پر افرادی قوت اور سروسز کو وسعت دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔سارک ممالک کی اپنی انفرادی پالیسی موجود ہے۔ ان ممالک نے بتدریج اصلاحات اور قومی ترجیحات کے پیش نظر موزوں پالیسیاں تشکیل دی ہوئی ہیں۔
ادھر ’’ڈبلیو ٹی او‘‘ عالمی تجارت اور تجارتی مربوطگی کے استحکام کیلئے سرگرم ہے۔ یہ ادارہ ’’ یوروگوائے رائونڈ‘‘ کے معاہدوں پر عمل درآمد کا پابند تو ہے لیکن خطے کے کسی ملک میں بھی سرمایہ کاری نہیں کر رہا حتیٰ کہ ہائی ٹیک صنعتی سرمایہ کاری بھی کہیں نظر نہیں آتی۔ اغراض و مقاصد کے تحت ’’ڈبلیو ٹی او‘‘ کا نظریہ ہے کہ تمام ممالک! امیر یا غریب، یکساں اہمیت کے حامل ہوں لہٰذا MFN یعنی’’ پسندیدہ ملک ‘‘ اس دستور کا بنیادی عنصر ہے۔ یہ ادارہ دیگر فرائض کے علاوہ عالمی تجارت کے آزادانہ کردار کیلئے کوشاں رہتا ہے۔ اس کوشش میں درآمدی ڈیوٹی میں کمی، برآمدات کیلئے سبسڈی کا خاتمہ اور کوٹے کی پابندیوں کا مرحلہ وار اختتام شامل ہیں جو مشرق یا مغرب کے ترقی پذیر ممالک کی ناکامیوں کا سبب ہی بنے ہیں۔
’’ڈبلیو ٹی او‘‘ کے مطابق تمام تجارتی معاہدوں

کی بنیاد باہمی تعاون ہے لہٰذا کوٹے کی پابندی کا اطلاق لازمی ہے تاکہ ترقی یافتہ ممالک میں اشیاء، سروسز، سرمایہ، ٹیکنالوجی اور افرادی قوت مسدود ہوں اور ترقی پذیر ممالک کی استعداد متاثر نہ ہو تاہم ’’ڈبلیو ٹی او‘‘ کے طریقہ کار میں ٹیکسٹائل کو ترقی پذیر ممالک میں اضافی پابندیوں کا سامنا ہے یعنی ان ممالک کے لئے کوٹے کی شرط ہے اور اگر یہ ممالک صنعتی ممالک کی برآمدات کو اپنی مارکیٹ میں آنے کی اجازت دے دیں تو یہ شرط ختم کی جا سکتی ہے۔ ایسا کرنے سے فائدہ صرف صنعتی ممالک اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کو ہی ہو گا مگر ترقی یافتہ ممالک خود کوٹہ کی نگرانی کر رہے ہوں گے!
غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری
جنوب ایشیائی ممالک کا صنعتی ڈھانچہ جو سرمائے اور ٹیکنالوجی کی کمیابی کی بدولت کمزور ہے، غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری کا متلاشی ہے۔ اس سرمایہ کاری سے ان ممالک کو روزگار کے مواقع، برآمدات سے زرِمبادلہ کی آمدنی میں اضافہ اور ٹیکنالوجی کے فروغ جیسے فوائد حاصل ہوں گے۔ نتیجتاً متعدد ممالک کا نہ صرف صنعتی ڈھانچہ مستحکم ہو گا بلکہ ان کی ترقی کی رفتار تیز ہو گی اور سپلائرز اور ڈسٹری بیوٹرز کا حلقہ وسیع ہو گا۔
اُدھر ہر ملک میں متعدد صنعتیں سرگرمِ ہیں۔ ان کو مزید فعال بنانے کیلئے ضروری ہے کہ وہاں کے پرائیویٹ سیکٹر اپنی پروڈکٹس کے لئے ایک دوسرے ملک کی مارکیٹ میں رسائی دیں۔ اس طرح تھوڑے عرصے میں کوالٹی کی بنیاد پر ڈیمانڈ میں کمی یا اضافہ سے اس پراڈکٹ کی اس ملک میں مقبولیت کا اندازہ ہوگا۔ یوں ہر ملک کی پراڈکٹس دوسرے ملک کی مارکیٹ میں فروخت کیلئے جگہ بنا سکتی ہیں۔ مزید یہ کہ پرائیویٹ سیکٹر کے باہمی روابط سے ایک دوسرے ملک میں ویلیو ایڈڈ صنعتیں قائم کی جاسکتی ہیں جس سے ٹیکنالوجی بھی ایک سے دوسرے ملک منتقل کی جا سکے گی۔
اس عمل سے نہ صرف روزگار کے مواقع بہتر ہوں گے بلکہ عوام الناس کا معیارِ زندگی بھی بہتر ہوگا۔ لہٰذا مختلف ممالک کو آپس میں یہ دیکھنا ہوگا کہ ان کے مسابقتی فوائد کیا ہیں اور ان کی پراڈکٹ کی کھپت کی گنجائش کہاں کہاں ہے۔اس کے بعد ان کی حکومت مقامی پرائیویٹ سیکٹر کی مدد سے وہاں سرمایہ کاری کی راہیں متعین کرے۔ مزید برآں یہ ممالک خود بھی ایک دوسرے کے تعاون سے ان شعبوں کی نشاندہی کر سکتے ہیں جہاں سرمایہ کاری سودمند اور باہمی ترقی کی ضامن ہو۔
مثال کے طور پر بنگلہ دیش میں پٹ سن کی صنعت ،سری لنکا میں چائے، انڈیا میں دھاتوں اور پاکستان میں انرجی کی ضروریات، ٹیکسٹائل ،سیمنٹ اور شوگر کی صنعتیں ایسی ہیں جن میں سرمایہ کاری کرنے سے ان ممالک کی ضروریات پورا ہوں گی اور برآمدات میں اضافہ لہٰذا سرمائے اور ٹیکنالوجی کی فراہمی اور سہ طرفہ انتظامات کی بدولت وسیع پیداواری استعداد کے حامل پراجیکٹس کامیابی سے ہمکنار ہوں گے۔ پس کاروباری شعبے کو برآمدی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کیلئے قدم بڑھانے کی ضرورت ہے۔بیشتر ممالک میں برآمدی پیداواری صلاحیتیں خاطر خواہ نہیں ہیں۔ وہاں سرمایہ کاری میں باہمی تعاون کی ضرورت ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ ان ممالک کی اشیاء کو بین الاقوامی مارکیٹ میں ’’سارک‘‘ کی مصنوعات کا نام دیا جائے اور ان سے حاصل ہونے والا منافع ممالک کے مابین ان کی متعلقہ ویلیو ایڈیشن کے مطابق تقسیم کر لیا جائے۔
اس طریقہ کار میں ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ ان ممالک کے درمیان ویلیو ایڈیشن کے طریقہ کار کو آسان بنایا جائے یعنی کسی بھی ملک کے مقامی پیداواری عمل میں دوسرے ملک کی طرف سے دی جانے والی اِنپٹ (INPUT) کو علاقائی خدمت تصور کیا جائے اور اسے تمام ٹیرف اور نان ٹیرف پابندیوں سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔ اس امر سے کثیر الحجم ویلیو ایڈیشن کا نظام وجود میں آئے گا۔ وہ اشیاء جن میں علاقائی ویلیو ایڈیشن زیادہ ہو گی، ان کی رسائی مقامی مارکیٹ میں ترجیحاتی بنیادوں پر ہو گی۔ اس طریقہ کار سے جنوب ایشیائی پراڈکٹس کو فروغ ملے گا جو بین الاقوامی منڈیوں میں کسی ایک ملک کے بجائے ’’جنوب ایشیائی پراڈکٹس‘‘ کے نام سے ہی متعارف ہوں !
انفراا سٹرکچر
ہر ملک کی تجارت،صنعت اور سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے اس کی پیداواری استعداد میں اضافہ ضروری ہے جو ریلوے، سڑکوں، بجلی اور مواصلات کے مستعد نظام کے بغیر ممکن نہیں۔ پرائیویٹ سیکٹر ایسے نظام کے قیام اور قابلِ عمل بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔اس سلسلے میں ملکیت کی بنیاد پر انہیں پرائیویٹائزیشن اسکیمیں پیش کی جائیں مثلاً BOO یعنی ’’ ادارے قائم کریں اور انہیں چلائیں‘‘ یا BOT یعنی ’’ ادارے خریدیں ،انہیں چلائیں اور منتقل کریں‘‘۔
المختصر
روزافزوں بدلتے ہوئے حالات میں عالمی مربوطگی نے قدم تو نہیں جمائے لیکن ریجنلزم کی بدولت کامیابی کی امید کی جا سکتی ہے۔ یورپ اور امریکہ میں EU اور NAFTA کا کرداربڑھ رہا ہے۔ اسی طرح APEC اور ASEANS بھی جنوب ایشائی ممالک کے درمیان تعاون میں اہم کردارادا کر رہے ہیں لیکن شدید سیاسی اختلافات کی وجہ سے باہمی اقتصادی تعاون کا فقدان ہے اور خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہو رہے لہٰذا یہ اختلافات فوری طور پر دور کئے جائیں تاکہ ان ممالک کی اقتصادی مربوطگی کیلئے فضا سازگار ہو ،سرمایہ کاری اور صنعت و تجارت کو فروغ ملے۔ منجملہ اس خطے کے عوام کو جو دنیا کی آبادی کا بیس فیصد ہیں اور پہلے ہی غربت کا شکار ہیں، خوشحالی میسر ہو،بہر حال، جوئندہ یا بندہ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں