یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان جمعہ کو وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے دوران بار بار جھڑپیں ہوئیں اور سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔
یوکرینی صدر نے ٹرمپ کو روس کے ساتھ محتاط رہنے کا مشورہ دیا، جس پر امریکی صدر ٹرمپ نے ان پر گستاخی کا الزام لگایا، اس ملاقات کے دوران دونوں کے فکر و نظر میں اختلافات بھی کھل کر سامنے آگئے۔
واضح رہے کہ دونوں صدور کی ملاقات وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں ایک معاہدے پر دستخط سے قبل ہوئی، یہ معاہدہ متوقع طور پر یوکرین کی معدنی صنعت میں امریکی شراکت داری پر مبنی ہے۔ تاہم زیلنسکی نے امریکی صدر کو کھلے عام چیلنج کیا اور کہا کہ وہ روسی صدر پیوٹن کے بارے میں کافی نرم رویہ رکھے ہوئے ہیں۔
زیلنسکی نے ٹرمپ کے ان دعووں کو بھی مسترد کردیا جس میں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ تین سالہ جنگ میں یوکرائن کے شہر ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں۔
اس موقع پر صدر ٹرمپ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پیوٹن ایک معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ ٹرمپ نے یوکرینی صدر سے کہا کہ وہ تیسری عالمی جنگ کا جوا کھیل رہے ہیں انھیں چاہیے کہ وہ شکر گزار ہوں۔
اس موقع پر امریکی نائب صدر جے ڈی وانس نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ اوول آفس میں اس قسم کی گفتگو کا انداز توہین آمیز ہے جس سے ٹرمپ نے اتفاق کیا۔ اس دوران اونچی آواز میں گفتگو کے دوران امریکی صدر نے کہا کہ لوگ مر رہے ہیں اور آپ فوجیوں کی کمی کر رہے ہیں۔