جس دن بےنظیر بھٹو کے ساتھ صاحبزادہ یعقوب خان کو وزیر خارجہ ’’لگایا‘‘ گیا، اسی دن پاکستان کی جمہوریت اور سیاست کی سمجھ آ گئی تھی، اس وقت بی ایس سی کا اسٹوڈنٹ تھا، اسٹوڈنٹ جدوجہد جمعیت کے ساتھ اور جمہوری جدوجہد پیپلز پارٹی کے پلڑے میں تھی، جوانی میں انسان دو سے زیادہ کشتیوں پر سوار ہونا بھی ترنگ سمجھتا ہے کیونکہ تجزیوں سے زیادہ تجربوں سے پیار ہوتا ہے۔ اور پیپلز پارٹی ہمیشہ سے ایک کامیاب جمہوری تجربہ رہا ہے، جیسے میثاقِ جمہوریت۔ اس میثاقِ جمہوریت کے جوش و ولولہ میں بظاہر امنگ اور رنگ ملے نہ ملے، مگر اس کی روح کی نبض چلنے کا احساس آج بھی سیاسی فہم و فراست میں تابانی رکھتا ہے!زمانے نے دیکھا کہ میاں نواز شریف نے جہاں بی بی کے مقابل محاذ قائم رکھے، کچھ ایسے محاذ بھی جو زیب نہیں دیتے تھے لیکن بی بی سے سیکھا بھی۔ کیا سیکھا؟ سیکھا یہ کہ جمہوریت ہی بہترین انقلاب ہے، میثاق جمہوریت سیکھا، آمریت نوائی سے جمہوری سچائی کی طرف پلٹے۔ ایسے ہی ان کے جانشین بھی ایک دن خودنمائی سے جمہوری دلربائی کی طرف لپکیں گے۔ محترمہ کے راستے میں روڑے ہی نہیں اٹکائے گئے تھے پہاڑ بنائے گئے تھے، کبھی ضیائی باقیات کے مقابل اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ کے بت کو پاش پاش کر کے 1988 میں جیت کر وزارت عظمیٰ کی اور کھوئی بھی لیکن ہمت نہیں کھوئی، کبھی صاحبزادہ یعقوب خان اور صدر اسحاق خان برداشت کئے تو کبھی صدر لغاری سے کھو کر بھی جنرل مشرف جیسوں کو ٹیبل پر لاکر وردی کے بغیر میدان میں آنے کا راستہ بتایا۔ وہ محترمہ ہی تھی آمریت کے دشوار گزار راستوں میں سے جمہوریت کیلئے راستے ہموار کرتی رہی جس کی گواہی ان کے جانی دشمن بھی دیتے ہیں۔ عمران خان نے اپنے سیاسی مخالف سے سیکھا ہی نہیں جس طرح میاں نواز شریف نے سیکھا۔ سکھا شاہی (سقہ شاہی) نہیں لمبے سفر کیلئے اس دنیا میں سیکھنا ضروری ہے، حالانکہ محترمہ کے مقابل عمران خان آٹے میں نمک برابر بھی سیاسی ٹکر نہ تھے، 2008 تک بھی مقبولیت کوسوں دور تھی، بمشکل ایک آدھ سیٹ بچاتے، لیکن سیکھ تو سکتے تھے! سیکھا ہوتا تو اقتدار نبھاتے گنواتے نہ... چلئے، آصف علی زرداری ہی سے سیکھ لیتے! ہر بڑی شخصیت کوئی نہ کوئی مینٹور رکھتی ہے۔ عمران خان اور اصغر خان ’’سیاسی بے مرشدے‘‘ ٹھہرے ایک نے مقبولیت بھرا اقتدار گنوایا اور ایک نے مقبولیت کی دیوی کو بےثمر کیا۔ سماجی و سیاسی مصیبت یہ ہے کہ عاشق محبت کو کیاری اور سیاست دان نفرت کو چنگاری نہ کرے یہ ممکن ہی نہیں! اور اوپر سے ’’عارفانِ ناحق‘‘ قوت کا استعمال کرکے اَہل حال یا صوفی بننے سے باز نہیں آتے اور نفرتیں سلگاتے رہتے ہیں۔ ایسے ہی میں معتبر آمریت کی چھاتی پر مونگ دلنے کا فارمولہ نہ دریافت کرے تو لیڈر تو نہ ہوا۔ خیر، دیکھتے ہیں آج کا ایک اور زاویہ بھی، اس زاویۂ زرداری میں سب کچھ تو ہے تجربہ کاری، آئین فہمی، آئین سازی کا ہنر، بین الاقوامی سطح کی نوجوان قیادت، باشعور رہنما، جمہوریت سے اُنس اور مفاہمت سے پیار، حب الوطنی بھی اور جمہوریت پسندی بھی۔ سندھ ہی نہیں اب تو بلوچستان میں حکومت بھی اور پنجاب اور کے پی کے کے ’’گورنر ہاؤسز‘‘ بھی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پنجاب میں پیپلزپارٹی کی صحت اس قدر کمزور کیوں؟ پنجاب کو کوئی خورشید شاہ، کوئی ناصر شاہ یا کوئی سعید غنی کوئی شرجیل میمن کیوں نہ دیا جا سکا، لاہور کے سید ناظم حسین شاہ، آصف ہاشمی، سہیل ملک یا نوید چوہدری کو کیوں پسِ پشت ڈال دیا گیا، بار بار اور بے شمار مواقع سے کوئی اسلم گِل سیاسی گُل یا عزیز الرحمن چن اور جمہوری چاندنی کیوں نہ بن سکا؟ کسی فیصل میر پر نوازشات کی بارش سے بھی ووٹر مہربان کیوں نہیں؟ اس کا سیاسی جواب بہت سیدھا ہے مقامی لیڈر شپ میں کہیں لالچ میں ضبط نہیں تو کہیں عوام سے ربط نہیں۔ قومی قیادت کا قصور یہ کہ دریافت کو سرے سے بروئے کار ہی نہیں لایا گیا۔ لاہوریا بھی ایک بَلا کیفیت ہے، اچھی بھلی سیاسی وسعت کے حامل کے گرد مخصوص لیڈر شپ و مخصوص کارکنان اور مخصوص میڈیا کا جالا تان دیتے ہیں ،اس کے سب دھندلا دھندلا دِکھے۔ اس دھندلائے ہوئے پنجاب کے سیاسی موسم میں کہیں پیپلزپارٹی کی آنکھیں نہیں ملتیں تو کہیں چہرہ نہیں ملتا۔ کیا واقعی ’’جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے‘‘؟ صدر زرداری فروری کے آخری ہفتہ میں لاہور تشریف لائے تو ضرورت کے موسم میں جاتی امرا میں ہارے ہوئے زرداری کیلئے سرخ قالین بچھانے والوں نے جمہوریت کے موسم میں سرد مہری کا موسم اور کدورت وائرل کردئیے۔ لیکن زرداری صاحب سیاسی ملاقاتوں کا سیاست دانوں پر جانے کیا اثر ہو ، اور گورنر ہاؤس کے جالے اترے یا نالے سوکھے ہوں یا نہ سوکھے ہوں مگر بچے کھچے چند ایم پی ایز اور نام نہاد عہدہ داران کو یہ کہہ کر اچھے امتحان میں ڈال گئے کہ بلدیاتی انتخابات کیلئے تیار رہئے۔ اس پر رحیم یار خان اور ملتان سے موسیٰ گیلانی، پھر لالہ موسیٰ اور گوجر خان کے علاوہ دیگر سب کو تو جان کے لالے پڑ جائیں گے ایک سابق ایم پی اے، موجودہ رہنما بھی سوچ رہے ہوں گے سابق ڈویژن اور موجود چنیوٹ سے ایک آدھ کونسلر کے سوا کیا دے سکوں گا چہ جائیکہ کہ صوبائی سیکرٹری کہلاتا ہوں، لاہور والے زیادہ سے زیادہ دس کونسلرز تک مار مار لیں گے۔۔۔ ’’اور اس دل میں کیا رکھا ہے تیرا ہی درد چھپا رکھا ہے‘‘! آخر کب تک پنجاب والے یہ کہتے رہیں گے اسٹیبلشمنٹ مار گئی، کب کوئے یار کیلئے سر کے بل دل سے نکلیں گے۔ حالانکہ اٹھان کیلئے زرداری صاحب ایک جوت جگا گئے ہیں، کہ اس میں نشانیاں ہیں ربط، ضبط اور سمجھ والوں کیلئے! پنجاب والو ٹینشن نہیں،سنئے بمل کرشن اشک کو، کہ ’’من میں جوت جگانے والے تیاگ گئے یہ ڈیرا جوگیا تر دکھن پورب پچھم چاروں اور اندھیرا جوگی ہر رخ پر پرچھائیں کسی کی ہر چہرے پر عکس کسی کاچلتے پھرتے بازاروں میں کیا تیرا کیا میرا جوگی‘‘