(گزشتہ سے پیوستہ)
ناروے میں سفارت کے دو سال مکمل ہونے پر میری پوسٹنگ تھائی لینڈ کردی گئی، مجھے ایئر پورٹ پر تھائی وزارت خارجہ کے افسروں نے ریسیو کیا۔ مجھے وی آئی پی روم جاتے ہوئے ان کی تیز رفتاری کا ساتھ دینا پڑا، وہاں چائے کا ایک کپ پیا، مختصر گپ شپ کی اور پھر وہ مجھے باہر چھوڑنے آئے جہاں پاکستانی سفارت خانے کے فسٹ سیکرٹری کیپٹن (ر) افتخار اور کچھ دوسرے افسران میرے استقبال کیلئے موجود تھے۔ میں تھائی لینڈ میں دوسری مرتبہ آیا تھا، پہلی مرتبہ امریکہ جاتے ہوئے بنکاک ایئر پورٹ پر چند گھنٹوں کا قیام تھا، سو یہ ٹائم ایئر پورٹ کی حدود ہی میں گزارا۔ تھائی لینڈ کے سابق وزیر اعظم کی کوٹھی کرائے پر لی گئی تھی جہاں میرا قیام تھا۔میرا باورچی ریاض اور میرا ڈرائیور بہادر ناروے سےمیرے ساتھ ہی آئے تھےسو ہم تھکے ماندے مسافروں کی طرح اپنے بستروں پر لیٹتے ہی سو گئے۔
میں اپنی آمد کے اگلے ہی روز اپنے فرائض منصبی میں مشغول ہو گیا۔ کیپٹن (ر) افتخار نے تھائی لینڈ کے حوالے سے مجھے بریف کیا، کچھ معلومات پہلے سے میرے پاس تھیں اور بہت سی باتیں میر ے لئے نئی تھیں، کیپٹن (ر ) افتخار نے مجھے یہ بھی بتایا کہ یہاں سے دو انگریزی اخبار نکلتے ہیں اور دونوں پرو انڈیا ہیں، میں نے پہلا کام یہی کیا کہ دونوں اخباروں کے ایڈیٹروں سے فرداً فرداً ملاقاتیں کیں، کشمیر کے حوالے سے پاکستان کا نقطہ نظر ان کے گوش گزار کیا اور دیگر مسائل پر بھی ان سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔ میں نے ان دونوں کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی جس کی پیشگی منظوری میں سید مشاہد حسین سے لے چکا تھا۔ ان کو علیحدہ علیحدہ اپنی رہائش گاہ پر کھانے پر مدعو کیا اوررخصت ہوتے وقت ان کی کار کی ڈگی میں کچھ تحائف رکھوا دیئے۔ تھائی لینڈ میں تحائف کا لین دین ان کے کلچرکا حصہ ہے۔ وہ پاکستان جا تو نہ سکے جس کی وجہ بعد میں بتاؤں گا مگر اس میل جول کا یہ فائدہ ہوا کہ دونوں اخباروں کی پالیسی متوازن ہوگئی۔
یہ میری خوش قسمتی تھی کہ میرے کولیگ اپنے اپنے شعبہ میں ’’یکتائے روز گار‘‘ تھے آسان لفظوں میں یہ دوست اپنے فرائض سے پوری طرح آگاہ اور پوری تندہی سے انجام دینا جانتے تھے ۔ کیپٹن (ر) افتخار اپنے دیگر فرائض کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ تھائی اخباروں میں باقاعدگی سے پاکستان کے حوالے سے مضامین لکھتے رہے، ویزا قونصلر کرنل شبیر تھے اور میں نے ان سے بہتر افسر نہیں دیکھا، کمرشل قونصلر طاہر رضا نقوی تھے، میں ان سے روزانہ رابطے میں رہتا تھا میں نے انہیں بتایا تھا کہ مجھے تھائی لینڈ اور پاکستان کے درمیان تجارتی تعلقات میں اضافے کی رپورٹ روزانہ وزیر اعظم کوارسال کرنا ہوتی ہے چنانچہ یہ خوبصورت اور فرض شناس افسر تحریری صورت میں روزانہ کی کارکردگی مجھے ارسال کرتا اور یوں مجھے اس شعبہ کے اتار چڑھاؤ سے آگاہی رہی۔
میں جب بنکاک پہنچا پاکستان کا یوم آزادی بالکل سر پر تھا میں نے اپنے کولیگز سے پوچھا کہ یوم آزادی کی تقریب میں کتنے پاکستانی شریک ہوتے ہیں، مجھے ان کے جواب سے احساس ہوا کہ بنکاک میں قیام پذیر اور سیاح پاکستانیوں کو بھی اس خوشی میں شریک کرنا چاہیے۔ میں نے تحقیق کی تو پتہ چلا کہ ہمارے پاکستانی پٹھان بھائی عرصہ دراز ے سے یہاں مقیم ہیں بلکہ ان کی اگلی نسل بھی یہاں پروان چڑھ رہی ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ سارے تھائی لینڈ میں گوشت کا کاروبار انہی کے ہاتھوں میں ہے اور یہ باقاعدہ ذبیحہ ہوتا ہے چنانچہ پورے تھائی لینڈ میں آپ کھانا بلاخوف کھا سکتے ہیں کہ گوشت جھٹکے کا نہیں ہوتا۔ اس جستجو میں مجھے یہ بھی پتہ چلا کہ بنکاک سے تقریباً دو سو کلومیٹر دور پٹھان بھائیوں کا ایک بزرگ فوت ہوگیا ہے جس کی تعزیت کیلئے پورے تھائی لینڈ سے لوگ وہاں جمع ہیں۔ میں وہاں پہنچا، اپنا تعارف کرایا جس پر وہ بہت خوش ہوئے اور کہا کہ آپ پہلے سفیر ہیں جو ہمیں ملنے آئے ہیں میں نے ایک ترجمان کے ذریعے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے انہیں بتایا کہ چودہ اگست کو آپ کے پاکستان کی سالگرہ ہے اور میں اس موقع پر منعقد ہونے والی تقریب میں آپ سب کو مدعو کرنے حاضر ہوا ہوں اور آپ نے اس میں ضرور شرکت کرنی ہے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ ضرور آئیں گے، بعد میں مجھے اپنے ذرائع سے معلوم ہوا کہ تقریباً دوسو پاکستانی یوم پاکستان کی تقریب میں شرکت کے لئے آئیں گے۔ میں نے ان مہمانوں کے لئے قورمے کی دیگیں پکوائیں اور ان کے آنے پر فرداً فرداً ہر ایک سے ہاتھ ملایا۔ تھائی لینڈ کی تاریخ میں یوم پاکستان کی سفارت خانے کی تقریب میں پہلی بار اتنے پاکستانیوں نے شرکت کی۔
میں بنکاک پہنچنے کے فوراً بعد اپنے کام میں جت گیا تھا۔ مجھے پتہ چلا کہ یہاں ایک دینی مدرسہ بھی ہے چنانچہ میں نے اس کے مہتمم کے لئے کچھ تحائف ساتھ لئے اور ان سے ملاقات کے لئے اس دینی مدرسہ میں پہنچ گیا۔ یہ مدرسہ وسیع و عریض نہیں تھا۔ تیس چالیس طالب علم ہوں گے اور ان کے حلیے ہمارے مدرسوں ایسے طالب علموں ہی کی طرح کے تھے ان سے پاکستان اور پاکستانیوں کے حوالے سے باتیں کیں اور کہا آپ پاکستان سے بہت فاصلے پر مقیم ہیں مگر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہم سب مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اور میں اپنے بھائیوں سے ملنے آیا ہوں، میں نے محسوس کیا کہ ان کے چہرے خوشی سے تابناک ہو رہے ہیں۔ اگرچہ میں نے چند دنوں میں بہت سے کام کرلئے مگر مجھے ابھی بہت کچھ کرنا تھا، چنانچہ کشمیر کے موضوع پر ایک مذاکرہ کرایا جس میں تھائی دانشوروں نے بھر پور طریقے سے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت کی۔ اللہ جانے مجھے اتنی جلدی کیوں تھی کہ میں تیزی سے بہت کام نمٹا رہا تھا اس کی وجہ مجھے بہت جلد معلوم ہو گئی۔ (جاری ہے)