وزیر اعلیٰ پنجاب صوبہ میں عوام کو بروقت طبی سہولیات کی فراہمی کے لئے متعدد اقدامات کر رہی ہیں لیکن ان اقدامات پر عمل درآمد کے لئے موثر مانیٹرنگ کی اشد ضرورت ہے اس مقصدکیلئے وزیر اعلیٰ، وزیر و سیکریٹری صحت کی طرف سے صوبے کے ہسپتالوں کے دورے سے یقیناً مثبت نتائج برآمد ہوں گے لیکن مریم نواز نے اپنے حالیہ دورہ میو ہسپتال کے دوران ایم ایس ہسپتال کی جس طرح سرزنش کی ہے اس پر صحافتی اور قومی حلقوں میں بڑی لے دے ہو رہی ہے کئی مثبت تاثر اجاگر نہیں ہوا دو افراد کی ہلاکت پر وزیر اعلیٰ کا رد عمل فطری ہے لیکن سوال یہ ہے کہ تحقیقات کے بغیر سر عام پنجاب کے سینئر ترین ڈاکٹر کی بے عزتی کرنا بھی تو مناسب نہیں کسی ہسپتال میں ہونے والی بے قاعدگیوں کا ذمہ دار ایم ایس کو ہی ٹھہرایا جا تا ہے اسے اس منصب سے ہٹا دینا کا فی سزا ہوتی ہے لیکن ایسے شخص کو بے عزت کر کے ہٹانا مناسب نہیں جو خود ایک ماہ قبل ایم ایس کا اضافی چارج چھوڑنے کی درخواست دے چکا ہے ان کی درخواست پر بروقت کارروائی نہ کرنے والے افسرکی بھی کچھ باز پرس ہونی چاہیے۔ ہسپتال میں اس لئے ادویات کی کمی ہے کہ ہسپتال اربوں روپے کا مقروض ہے بل ادا نہ ہونے کی وجہ سے ادویات فرہم کرنے والی کمپنیوں نے سپلائی روک دی ہے کیا وجہ ہے وزیر اعلیٰ کے دورے کے بعد اسی روز کروڑوں روپے کا چیک جاری کر دیا گیا؟ ہر سال حکومت ہسپتالوں کو اربوں روپے مالیت کی ادویات فراہم کرتی ہے لیکن ہسپتالوں میں ’’کرپٹ مافیا‘‘ نہ صرف ادویات کی خریداری میں گھپلے کرتا ہے بلکہ بیشتر ڈاکٹر ادویہ ساز کمپنیوں کے ’’پے رول‘‘ پر ہونے کی وجہ سے مہنگی ادویات لکھتے ہیں اورمخصوص لیبارٹریوں سے کمیشن کے حصو ل کیلئے مہنگے ٹیسٹ لکھ کر دیتے ہیں۔ مریم نواز نے امراض قلب ہیپاٹائٹس و دیگر بیماریوں میں مبتلا مریضوں کی آسانی کیلئے ان کے گھروں میں ادویات کی فراہمی کا منصوبہ بھی شروع کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ کو جہاں ادویات کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے کسی رجسٹرڈ مریض کو اچانک فون کر کے چیکنگ کرنی چاہیے وہاں وزیر صحت و سیکریٹری کو اپنے دفاتر میں ایئرکنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھنے کی بجائے دور دراز کے علاقوں میں اچانک وزٹ پر بھجوانا چاہیے جب تک ہسپتالوں کے سربراہوں کو اچانک چھاپوں کا خوف نہیں ہو گا ان کی کارکردگی درست نہیں ہو گی ۔مجھے یاد ہے نیو ہولی فیملی ہسپتال میں ایک چوہے نے نو مولود بچے کو کاٹ کھایا تو اس کا نزلہ ہسپتال کے ایم ایس پر گرا تھا۔ سفارشات کے باوجود ریٹائرمنٹ تک اس کو ملازمت پر بحال نہ کیا گیا۔ اسی طرح شہباز شریف کے دور میں ایک سرجن کا ہفتہ میں سات روز کے لئے مری ہسپتال نہ جانے پروکٹوریہ ہسپتال بہاولپور تبادلہ کر دیا گیا۔ شہباز شریف نے بے نظیر ہسپتال کے ایک ایم ایس کو اپنے ہی ہسپتال میں ڈینگی وارڈ کا پتہ نہ ہونے پر عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ وزیر اعلیٰ نے لاہور اور سرگودھا میں نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا قیام عمل میں لانے کا مستحسن فیصلہ کیا ہے۔ شہباز شریف نے راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی قائم کیا تو یہ علاقے میں ایک اسٹیٹ آف دی آرٹ تھا اب اس ہسپتال میں آزاد جموں کشمیر، گلگت و بلتستان ، کے پی کے تک سے ہزاروں مریض علاج کیلئے آتے ہیں جس کے باعث مریضوں کے آپریشن کیلئے مہینوں کی تواریخ دی جاتی ہیں۔ مریض آپریشن کے انتظار میں اس جہان فانی سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ صرف او پی ڈی میں مریضوں کی طویل قطاریں لگی ہوتی ہیں۔ راولپنڈی آف کارڈیالوجی پر مریضوں کا دباؤ کم کرنے کے لئے فوری طور پر کسی نئی عمارت میں او پی ڈی شفٹ کی جائے۔ ہسپتال میں مریضوں کے دل کے آپریشنز کیلئے نئے آپریشن تھیٹر تعمیر کرنے کی ضرورت ہے۔ ادویات کی لوکل پرچیز کے نظام میں تبدیلی کی گئی ہے۔ لوکل پرچیز کی مد میں روزانہ لاکھوں روپے کے بوگس بلوں کی ادائیگی کی جاتی ہے وزیر اعلیٰ نے لاہور میں اسٹیٹ آف دی آرٹ نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے جہاں کینسر کے لیول 3اور 4کے مریضوں کا علاج کیا جائے گا ۔سرکاری ہسپتالوں میں آنے والے مریض سروس ڈیلوری کے حوالہ سے 0304-1111781پر شکایت درج کروا سکتے ہیں کنٹرول روم 24 / گھنٹے کام کریں گے۔ کمپلینٹ سیل کا قیام بھی سرکاری ہسپتالوں میں غریب مریضوں کو دھکے کھانے سے بچانے میں مدد گار ثابت ہو گا۔ وزیر اعلیٰ نے جنگلات کی کٹائی کے عمل کو روکنےکیلئے جدید نظام متعارف کرا یا ہے سوال یہ ہے کہ جب ٹمبر مافیا کے لوگ اسمبلیوں میں براجمان ہوں گے تو وہ اس نظام کو کیسے کا میاب ہونے دیں گے؟۔ جنگلات کو آگ لگانے کی واردات کو روکنے کیلئے زیرو ٹالرنس کی ضرورت ہے۔ مری اور راولپنڈی کے اضلاع کے قیمتی جنگلات کو آگ سے محفوظ کرنے کیلئے ’’شیلڈنگ سمٹ‘‘ کے نام سے ایک منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔ اس منصوبہ کے تحت 50ہزار ایکٹر اراضی پر 42ملین پودے لگانے کا پروگرام ہے۔ سر دست اس پرو گرام کی کامیابی کا انحصار وزیر اعلیٰ کی ذاتی دلچسپی اور لگائے گئے پودوں کی سروائیول پر منحصر ہے۔ تحفظ ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلیوں کے لئے ’’سرسبز پاکستا ن‘‘ ضروری ہے اس کار خیر میں پنجاب کو اپنا حصہ ادا کرنا ہو گا۔ اگرچہ وزیر اعلیٰ نے ایکسائز،ٹیکسیشن اور نارکاٹیکس کنٹرول کے نظام کا بیڑہ اٹھایا ہے لیکن ان محکموں کا آوے کا آوا ہی بگڑا ہے، ان محکموں میں اصلاحات سے ممکن ہے کچھ بہتری آ جائے لیکن ان محکموں کو جوائن کرنے والے اسی رنگ میں رنگ جاتے ہیں۔ مجھے ذاتی تجربہ ہے کہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن میں سفارش کی بجائے رشوت سے کام ہوتا ہے۔ ملک بھر میں منشیات فروشوں کا راج ہے اگر وزیر اعلیٰ کو کسی شہر میں منشیات فروشی کی خبرملے تو اس علاقے کے ایس ایچ او کو ذمہ دار قرار دے کر اس کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے ۔وزیر اعلیٰ نے ائیر ایمبولنس کا اجرا کر کے یقیناً ایک اچھا اقدام اٹھایا ہے حکومت پنجاب نے آبپاشی کا نظام بہتر کرنے کے لئے ایک منصوبہ بنایا ہے۔ وہ دریائے سندھ پر اپنے پانی کے استعمال کے لئے نئی نہریں نکالنا چاہتی ہے لیکن صدر مملکت آصف علی زرداری نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے دوران دریائے سندھ سے پنجاب کو مزید پانی کے استعمال کی اجازت دینے کی مخالفت کر دی ہے۔ فیڈریشن کی مجبوریاں آڑے آنے کے باعث ہم دریائے سندھ پر کالا باغ ڈیم بنا سکے اور نہ ہی 1990کے پانی کی تقسیم کے معاہدے پر عمل درآمد کرا سکے۔ دریائے سندھ کا پانی سمندرمیں ضائع تو ہو سکتا ہے لیکن سیاسی مجبوریوں کے تحت پنجاب اپنے حصہ کا پانی استعمال نہیں کر پائے گا۔ (جاری ہے)