• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مقبولیت کا سحر ہو یا عمر کا پہر ، انہیں جھٹلانا ممکن نہیں۔ لیکن جب تک یہ سوال پیدا نہ ہو کہ سیاسی لیڈر شپ عوام کیلئے کیا چاہتی اور کیا کر پا رہی ہے تب تک جمہوریت رنگ و نور کا باعث بن سکتی ہے نہ اصلاحات کے دریچے کھل سکتے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی مگر دو اہم باتیں اور بھی قابلِ غور ہیں :(1) اگر اصلاحات کسی سسٹم کی دہلیز پار نہیں کرتیں تو جان لیجئے کہ اندر’’اسٹیٹس کو‘‘ کا اژدھا پورے طنطنہ کے ساتھ پُھنکار رہا ہے۔(2) عوامی رائے یقیناً معنی رکھتی ہے لیکن لیڈر کی عوام کے بارے میں کیا رائے ہے ، اس نکتہ کو سمجھنا بھی بہت ضروری ہے۔ لیڈر کی عوام کے بارے میں رائے کو محض اس کی شیریں مقالی یا شعلہ بیانی ہی سے نہیں بھانپا جا سکتا۔ خلیل قدوائی نے شاید کسی سیاسی لیڈر ہی کی خواہش کی ترجمانی کی ہے کہ’’اک زندگی عمل کیلئے بھی نصیب ہو / یہ زندگی تو نیک ارادوں میں کٹ گئی‘‘نظیر اکبر آبادی کی بات کا زاویہ مختلف ہے ’’حسن  کے  ناز  اٹھانےکے سواہم سے... اور حسن عمل کیا ہوگا‘‘۔اصلاحات کی خواہش اس وقت تک کسی لیڈر میں جنم نہیں لے سکتی جب تک لیڈر کے اندر’’عوامی رائے‘‘ کا احساس نہ ہو، سو ایک تو لیڈر میں یہ فہم ضروری ہے کہ عوام کی اصل منشا کیا ہے ، دوسرا یہ کہ لیڈر میں اس فراست کا بھی ہونا ضروری ہے کہ عوامی رائے میں یہ فلاں چیز تو ہے لیکن وہ فلاں چیز بھی ہونی چاہئے۔ مثال کے طور پر عوام اگر سوشل سیکورٹی چاہتے ہیں تو عوام کے اندر ٹیکس کی ادائیگی کا شعور بھی ہونا چاہئے۔ یہ وہ نکتہ ہے جو لیڈر کو ممتاز بناتا ہے کہ جہاں وہ ایک طرف عوامی خواہشات کو عمل کا رنگ و روپ دے رہا ہے تو دوسری جانب ذہن سازی کا فریضہ بھی ادا کر رہا ہے۔کبھی کبھی کتابوں سے بھی وہ چیزیں نہیں مل پاتیں جو حلقہ یاراں سے دستیاب ہوتی ہیں۔ ایک محفل میںمجیب الرحمٰن شامی کی موجودگی میں ، راقم نے حفیظ اللہ نیازی سے پوچھا کہ مریم نواز شریف کی کارکردگی پر آپ کی کیا رائے ہے، انہوں نے جو مختصراً بیان جاری کیا ، وہ بیان میرے لئے کئی دن تو پہیلی ہی بنا رہا، فرمان تھا کہ’’مریم نواز کی کارکردگی سابق وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کی سی ہو جائے یا سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف جیسی ، ان دونوں صورتوں میں میاں نواز شریف کی سیاسی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑتا !‘‘

یہ بات میں نے مسلم لیگ نواز کے کئی قائدین کے سامنے رکھی ، کم و بیش ہر فرد میںسے ففٹی ففٹی اتفاق سامنے آیا۔ کبھی کہتے، مریم نواز متحرک ہے اور اس کی ترقیاتی تحریک پارٹی کو پنجاب میں دوام بخشےگی ، اور کبھی کہتے نواز شریف کا جادو ہی سب کچھ ہے ، اور یہ ایک مائنڈ سیٹ ہے جسے ہر صورت دوام ہے۔ اگرچہ جواب کے دونوں حصوں ہی کو مان لیا جائے تو پھر بھی یہ سوال جنم لیتا ہے کہ نواز شریف مائنڈ سیٹ کو بھی اصلاحات کی نہیں محض ترقیات کی ضرورت ہے۔ اور واضح رہے کہ اصلاحات کے بغیر ترقیات کسی حد تک عوام اور عوامی رائے کے حق میں جاتی ہیں مجموعی طور پر اسٹیٹس کو ہی استفادہ کرتا ہے۔ اور یہ بات بھی سامنے آتی ہے بات صرف مریم کارکردگی کی نہیں نواز فیکٹر ہی کی ہے کہ نواز سیاست مائنڈ سیٹ کو یہ تسلی اور تصدیق مل چکی ہے کہ عمران خان کے پاس محض تبدیلی کا نعرہ یا فلاسفی تھی عمل نہیں پس نواز شریف ہی بہتر ہے!اہل نظر کو یادہے، بے نظیر بھٹو اور میاں نوازشریف کے ادوار میں 1988 تا 2008 تک ایک دفعہ ایک کی باری اور دوسری دفعہ دوسرے کی اور بیچ میں 2002 میں ایک مخصوص پروڈکشن قاف لیگ کی باری۔ حالانکہ محترمہ اور میاں صاحب کو شدید کرپشن کے الزامات میں حکومت سے سبکدوش کیا جاتا ، اور پھر حکومت سونپ بھی دی جاتی۔ غور کریں تو یہ آپشن عمران خان کیلئے بھی کھلا ہے بھلے ہی عمران خان نے اینٹی نواز اور اینٹی زرداری بیانیہ کے علاوہ کوئی فریضہ سر انجام نہیں دیا ، اصلاحات کا عمل دور دور تک تھا نہ کوشش اور’’اسٹیٹس کو‘‘ہی کی آبیاری تھی لیکن عمران سحر میں گرفتار عمرانی سیاست کا مائنڈ سیٹ بدستور ان کے ساتھ ہے۔رہی بات بلاول بھٹو زرداری کی سیاسی پوزیشن کی تو کچھ لوگ زرداری صاحب سے ہٹ کر بھی بلاول سیاست پر اس کے فکر، اسمبلی تقاریر ، بی بی سن ، بھٹو نواسہ اور نوجوان قیادت کی حیثیت سے دیکھنے لگے ہیں یا سوچتے ہیں۔ گو بلاول جمہوریت کے مخصوص جملوں اور فلاسفی کی بات کرتے ہیں خان کی طرح بڑے سبز باغوں کی نہیں ، اور سندھ میں ان کے وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ کی کارکردگی، منصوبہ بندی اور ارادے کسی طرح سے مریم نواز سے کم نہیں ، اور بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ سرفراز بگٹی بھی برے نہیں جا رہے ، اور نہ پیپلزپارٹی پر فارم 47 کا دھبہ ہے، پھر بھی سحر نہیں بن سکا حالانکہ صدارت ، گورنریاں اور سینٹ کی چیئرمینی پر پیپلزپارٹی کی پوری آئینی دسترس ہے! کم لکھے کو پورا سمجھئے کہ گورنر ہاؤس پنجاب میں بظاہر پیپلزپارٹی ہے لیکن اس کے ذیلی سیکریٹریٹ کے ہر گوشے میں ایک مائیکرو لطیف کھوسہ براجمان ہے جو عمرانی سحر میں ہے، ہم نے خود دیکھا کہ تحریک انصاف کے ٹکٹ ہولڈرز اور ان خاندانوں کو محض اس لئے پروٹوکول میسر ہے کہ وہ اینٹی نواز تو ہیں یا کبھی پیپلزپارٹی میںرہے ہیں، یقیناً اس سے بلاول بھٹو تو کیا گورنر سردار سلیم حیدر بھی آشنا نہیں۔ گویا بلاول بھٹو کو اپنی نظریاتی و جمہوری پوزیشن کا ادراک ہونا چاہئے ، اور پی ٹی آئی نے جو نقصان پی پی پی کو پہنچایا ہے وہ نون نے نہیں پہنچایا،سیاسی پوزیشن کہتی ہے آئندہ تمام صوبوں میں بلاول بھٹو کا مقابلہ عمرانی سحر سے ہے جو آسان نہیں!عوام مائنڈ سیٹ سنڈروم سے نکل کر اصلاحات و جمہوریت کی طرف نہ بڑھے تو مراعات پر اسمبلی ممبران، ججز اور تمام تر بیوروکریسی ہی کی دسترس ہوگی۔ عوام اپنی پوزیشن بھی تو دیکھیں!

تازہ ترین