• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آبی ذخائر کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں ہرسال ذخیرہ نہ کیے جانے کے باعث ساڑھے تین کروڑ ایکڑ فٹ بارشی پانی سمندر کی نذر ہوجاتا ہے اور مستقبل میں آبپاشی اور عام استعمال تو کیا،پینے کے پانی کا بھی بحران پیدا ہوسکتا ہے۔اس مسئلے پر فوری توجہ نہ دی گئی تو وہ وقت دور نہیں جس کے بارے میں گزشتہ دو دہائیوں سے آبی ماہرین خبردار کرتے چلے آئے ہیں کہ لوگوں کوسنگین صورتحال کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔اس لیے حکومت کو موثر منصوبہ بندی کرلینی چاہئے۔ ماہرین کے اندازوں کے مطابق زمین سے سالانہ 65 ارب کیوبک فٹ پانی نکالے جانے کے باعث اس کی سطح مسلسل فی سال ایک میڑ نیچے جارہی ہے۔ زیر زمین پانی ری چارج کرنے اور کم لاگت والے ذخیرے بنانے کی تجاویز ریکارڈ پر موجود ہیں،ضرورت صرف ان پر عمل کرنے کی ہے۔ فی الحقیقت بے حساب بارشی پانی تربیلا اور منگلا ڈیم کو بھرنے کیلئے کافی ہے لیکن ہر سال بہہ جانے کی وجہ سے ملک کو اربوں روپے سالانہ کا نقصان ہورہا ہے۔ اس رقم سے نئے آبی ذخائر بناکر یہ مسئلہ حل کیا جاسکتا ہے۔واٹر مینجمنٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ ضائع ہوجانے والا پانی موجودہ منگلا اور تربیلا ڈیم کے آبی ذخائر کی مجموعی گنجائش سے زیادہ ہے۔ پاکستان میں سالانہ تین سو سے ایک ہزار ملی میٹر تک بارشیں ہوتی ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے اس مقدار میں اضافہ ہورہا ہے۔ 2022میں ہونے والی شدید بارشوں کے بعد2023میں مجموعی طور پر معمول سے16فیصد زیادہ بارشیں ریکارڈ کی گئیں۔ 2024 میں یہ اضافہ 24 فیصد زیادہ تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زمینی پانی کو ریچارج کرنے کیلئے بارشی پانی کا استعمال خاطر خوا ہ مثبت نتائج کا حامل ہوسکتا ہے۔ آبادی میں اضافے کی وجہ سے شہری علاقوں میں گزشتہ 5 سال کے دوران روزمرہ استعمال کے لیےپانی کی ضرورت4ملین ایکڑ فٹ سے بڑھ کر 10ملین ایکڑ فٹ ہوگئی ہےجبکہ ریچارج نہ ہونے کی وجہ سے اس کی سطح تیزی سے نیچے جارہی ہے۔پاکستان کی مجموعی آبادی میں سے 25 فیصد دس بڑے شہروں میں رہ رہی ہے۔ اس میں سے کراچی میں سالانہ 6.87انچ،لاہور37،اسلام آباد31.13اور کوئٹہ میں 9.6انچ بارش ہوتی ہے۔ان شہروں میں صوبائی حکومتوں کی طرف سے بارشی پانی محفوظ کرنے کا کوئی انتظام نہیں،جو ترقی یافتہ ممالک کا معمول ہے۔ایسی صورتحال میں جبکہ منگلا ڈیم میں پانی کی سطح ڈیڈ لیول تک پہنچ گئی ہےاور اس کا اخراج بند ہوگیا ہے،ادھر تربیلا ڈیم میں پانی ڈیڈ لیول سے صرف تین فٹ اونچا رہ گیا ہے،جو آئندہ36گھنٹے میں آخری سطح پر پہنچنے کا خدشہ ہے،بارشی اور سیلابی پانی ذخیرہ کرنے کے انتظامات کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ نئے آبی ذخائر تعمیر کرکے اس صورتحال پر قابو پایا جاسکتا ہےلیکن سیاسی ،مالی یا تکنیکی مسائل کو جواز بناکر اس کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔اول تو پاکستانی معیشت کا دارومدار زراعت پر ہے،جو پانی مانگتی ہے ،پھر عام روزمرہ کے استعمال کیلئے بھی وافر مقدار میںاس کی ضرورت ہےاور اس سے بھی زیادہ پانی پینے کیلئے چاہئے،مگر آبی ذخائر پر کوئی توجہ نہ دینے کے باعث خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ خدانخواستہ ایک وقت ایسا بھی آسکتا ہے جب لوگ پینے کے پانی کی تلاش میں مارے مارے پھریں گے۔حکومت کواس سے پیشتر نئے آبی ذخائر بنانے اور بارشی پانی محفوظ کرنے کیلئے موثر منصوبہ بندی کرلینی چاہئے۔زیرزمین پانی ریچارج کرنے اور کم لاگت کے ذخیرے بنانے سے یہ مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔ کالا باغ جیسے بڑے ڈیم بھی بنائے جاسکتے ہیں مگر سیاسی مصلحتیں آڑے آرہی ہیں۔ اس حوالے سے حکومت کو معترض حلقوں کے تحفظات دور کرنے چاہئیں۔

تازہ ترین