• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نوجوان اور یومِ پاکستان: ایک روشن مستقبل کی راہ

یومِ پاکستان ہر سال 23 مارچ کو بھرپور جوش و جذبے کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ یہ دن نہ صرف ہماری قومی تاریخ کی ایک روشن علامت ہے بلکہ یہ نوجوان نسل کے لیے ایک پیغام بھی رکھتا ہے کہ وہ ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ پاکستان کا مستقبل نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے اور یہی وہ طبقہ ہے جو آنے والے کل کی راہیں متعین کرے گا۔ اس مضمون میں ہم یومِ پاکستان کے تناظر میں نوجوانوں کے کردار، ان کی ذمہ داریوں، اور ایک روشن مستقبل کی راہ میں ان کے فرائض کا جائزہ لیں گے۔

یومِ پاکستان کی تاریخی حیثیت اور نوجوانوں کی ذمہ داری

یومِ پاکستان 23 مارچ 1940 کو منظور کی گئی قراردادِ لاہور کی یاد دلاتا ہے، جس میں پہلی مرتبہ برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ وطن کے قیام کی تجویز دی گئی تھی۔ یہ قرارداد بعد میں تحریکِ پاکستان کی بنیاد بنی اور 14 اگست 1947 کو پاکستان کے قیام کی صورت میں حقیقت بنی۔

اس وقت بھی نوجوان نسل نے آزادی کے حصول میں نمایاں کردار ادا کیا تھا۔ وہی جوش و جذبہ آج کے نوجوانوں میں ہونا چاہیے تاکہ وہ پاکستان کو ترقی، خوشحالی اور استحکام کی راہ پر گامزن کریں۔

نوجوان نسل: پاکستان کا اصل سرمایہ

پاکستان ایک نوجوان ملک ہے جہاں تقریباً 64 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے۔ یہ ایک انتہائی قیمتی اثاثہ ہے، بشرطیکہ نوجوان اپنی توانائیاں مثبت اور تعمیری سرگرمیوں میں صرف کریں۔ اگر یومِ پاکستان کی روح کو سمجھتے ہوئے نوجوان اپنے اندر قیادت، خود اعتمادی اور محنت کا جذبہ پیدا کریں، تو ملک ترقی کی منازل طے کر سکتا ہے۔

یومِ پاکستان اور نوجوانوں میں حب الوطنی کا جذبہ

یومِ پاکستان نوجوانوں کے لیے ایک موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ اپنی تاریخ، ورثے اور ملک کی بنیادوں کو سمجھیں۔ اس دن کو منانے سے ان میں حب الوطنی اور قومی یکجہتی کے جذبات پروان چڑھتے ہیں۔ درج ذیل نکات نوجوانوں میں حب الوطنی پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں:

قومی تاریخ سے آگاہی: نوجوانوں کو تحریکِ پاکستان کے بارے میں مکمل معلومات ہونی چاہئیں تاکہ وہ جان سکیں کہ ہمارے اسلاف نے کتنی قربانیاں دے کر یہ ملک حاصل کیا تھا۔

ملی نغمے اور تقاریر: یومِ پاکستان کے موقع پر تعلیمی اداروں میں ملی نغموں اور تقریری مقابلوں کا انعقاد کیا جاتا ہے، جس سے نوجوانوں کے اندر حب الوطنی کے جذبات مزید مضبوط ہوتے ہیں۔

ثقافتی اور ادبی سرگرمیاں یومِ پاکستان کے حوالے سے اردو ادب، شاعری اور ڈراموں میں تحریکِ پاکستان کو اجاگر کرنے والی تخلیقات نوجوانوں میں قومی شعور بیدار کرنے میں مدد دیتی ہیں۔

نوجوانوں کا تعلیمی میدان میں کردار

تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے اور نوجوانوں کے لیے سب سے اہم ہتھیار علم ہے۔ اگر نوجوان تعلیمی میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کریں گے تو ملک کے لیے ایک روشن مستقبل کی راہ ہموار ہوگی۔ درج ذیل نکات اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ تعلیم نوجوانوں کے لیے کیوں ضروری ہے:

جدید ٹیکنالوجی اور تحقیق: دنیا ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور پاکستان کے نوجوانوں کو بھی جدید ٹیکنالوجی، سائنسی تحقیق اور ڈیجیٹل مہارتوں میں مہارت حاصل کرنی چاہیے تاکہ وہ عالمی سطح پر اپنا مقام بنا سکیں۔

قائدانہ صلاحیتوں کا فروغ: یومِ پاکستان ہمیں قائداعظم محمد علی جناح کی شخصیت سے متاثر ہو کر لیڈرشپ کی صلاحیتیں اپنانے کا درس دیتا ہے۔

تعلیمی اداروں میں مثبت سرگرمیاں: تعلیمی اداروں میں یومِ پاکستان کی تقریبات کے ذریعے نوجوانوں کو اپنی تاریخ، ثقافت اور قومی ذمہ داریوں کے بارے میں شعور دیا جا سکتا ہے۔

معاشی ترقی میں نوجوانوں کا کردار

پاکستان کی معاشی ترقی میں نوجوان اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس وقت فری لانسنگ، اسٹارٹ اپس، اور کاروباری مواقع سے فائدہ اٹھا کر نوجوان نہ صرف خود کفیل ہو سکتے ہیں بلکہ ملک کی معیشت کو بھی مضبوط کر سکتے ہیں۔

کاروباری رجحان پیدا کرنا: حکومت کی جانب سے نوجوانوں کے لیے مختلف کاروباری اسکیمیں متعارف کروائی گئی ہیں، جن سے فائدہ اٹھا کر وہ اپنی کمپنیز قائم کر سکتے ہیں۔

ڈیجیٹل اکانومی میں شمولیت: دنیا تیزی سے ڈیجیٹل معیشت کی طرف بڑھ رہی ہے، اور پاکستانی نوجوانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ آئی ٹی، سافٹ ویئر ڈیویلپمنٹ، اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ میں مہارت حاصل کریں۔

صنعتی ترقی اور ہنر مند افرادی قوت: پاکستان کو صنعتی ترقی کی اشد ضرورت ہے اور اس میں نوجوان اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ٹیکنیکل اور ووکیشنل ایجوکیشن حاصل کر کے نوجوان ایک ہنر مند افرادی قوت میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔

سماجی و ثقافتی ترقی میں نوجوانوں کا کردار

پاکستان کی سماجی و ثقافتی ترقی میں نوجوانوں کا ایک نمایاں کردار ہے۔ اگر وہ اپنی توانائیوں کو مثبت سرگرمیوں میں لگائیں تو ملک کو امن، ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔

رضاکارانہ خدمات: یومِ پاکستان کے موقع پر نوجوانوں کو فلاحی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے، جیسے کہ یتیم خانوں میں امداد، بلڈ ڈونیشن کیمپ اور صفائی مہمات۔

اسپورٹس اور صحت مند سرگرمیاں: کھیلوں میں شرکت نہ صرف جسمانی صحت کے لیے ضروری ہے بلکہ اس سے ٹیم ورک، قیادت اور مثبت مقابلے کی صلاحیتیں بھی پیدا ہوتی ہیں۔

سماجی ہم آہنگی کا فروغ: نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ فرقہ واریت، تعصب، اور نفرت انگیز رویوں سے گریز کرتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ محبت، رواداری اور یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔

نیز، یومِ پاکستان نوجوانوں کے لیے ایک پیغام ہے کہ وہ ماضی کی جدوجہد کو یاد رکھیں اور ملک کے روشن مستقبل کے لیے اپنی ذمہ داریوں کو پہچانیں۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ تعلیم، معیشت، سماجی ترقی اور قومی یکجہتی میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ اگر آج کے نوجوان قائداعظم اور علامہ اقبال کے خواب کو عملی شکل دینے کے لیے محنت کریں تو پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل کرنا ممکن ہو سکتا ہے۔

پاکستان کا مستقبل نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے اور اگر وہ اپنی صلاحیتوں کو مثبت طور پر بروئے کار لائیں تو ملک کو ایک شاندار اور روشن مستقبل کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔