وہ مجھے کہتی رہی مجھے خاص ہی رہنے دے، مجھے عام نہ کر ! لیکن ہم اپنی عادت سے مجبور تھے ، ہم سمجھتے رہ گئے کہ خاص کو گر عام کریں گے تو اس کے حسن اور حسنِ ظن سے عام بھی پرنور ہو جائے گا۔ اپنی یہ خوش فہمی اگرچہ غلط فہمی نہ تھی پھر بھی ہم فہم دار تو نہ تھے، ورنہ اپنی کج فہمی تو سمجھ ہی سکتے تھے کہ وہ کیوں کہتی عام نہ کر۔ کہنے والی تھی کون یہ ذکر خیربعد میں فی الحال ایک انکشاف... ہاں، ایک نیا انکشاف، اُڑتی ہوئی ملی ہے خبر بزمِ ناز سے کہ چوہدری ظہور الٰہی کو قتل کرانے والا کوئی اور نہ تھا ضیاءالحق تھا۔ اگر ایک اہم کتاب ہاتھ نہ لگتی تو اتنا بڑا واقعہ اپنے لئے تو پہیلی ہی رہتا: ’’ ... چوہدری ظہور الہٰی ہمیشہ کہتے تھے غصہ تھوک دو اور جنرل ضیا کے ساتھ چلو۔ اس وقت کی بات ہے جب میں ریٹائر ہو گیا اور جنرل ضیا کے خلاف بولنا شروع کیا...میں نے کہا اس کے ساتھ نہیں چلا جا سکتا۔ آپ کو نہیں علم وہ کیا ہے...ایک دن وہ میرے پاس آئے اور کہا میں آج جلدی میں ہوں مگر آپ کو ایک بات بتانے آیا ہوں۔ ابھی میں جنرل ضیا کے پاس تھا۔ میں نے ضیاء الحق کو کہا آپ سیدھے راستے پر نہیں ہیں۔ آپ سیدھے راستے نہیں آئیں گے تو ہم کچھ کریں گے، میں نے کہا آپ کیا کریں گے، چوہدری صاحب نے کہا دیکھیں کیا کریں، آج میں آپ کو یہ بتانے آیا ہوں آپ ٹھیک تھے۔ جنرل ضیاء قابلِ اعتماد نہیں ہے ہم آپ کے ساتھ ہیں، دوسرے دن میں پشاور میں گالف ایسوسی ایشن کی میٹنگ لے رہا تھا کہ مجھے اطلاع ملی کہ چوہدری ظہور الٰہی قتل ہو گئے۔‘‘ یہ سب باتیں جنرل فیض علی چشتی نےسہیل وڑائچ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہیں (حوالہ:’’ جرنیلوں کی سیاست‘‘) اس بات کے بعد اگلا سوال کیا گیا کہ ’’تو چوہدری ظہور الٰہی کو الذوالفقار نے نہیں مارا تھا؟‘‘ جواب ملا : ’’ میرا نہیں خیال ایسا ہوا ہے... ضیاء الحق نے یہ کام کروایا تھا اور میں نے یہ بات چوہدری شجاعت اور پرویزالٰہی کو بھی بتائی تھی لیکن وہ کہتے ہیں ہم دیہاتی آدمی ہیں ہم ساتھیوں کو نہیں چھوڑ سکتے۔ میرا یہ اندازہ ہے کہ یہ الذوالفقار کا کام نہیں تھا۔‘‘
المیہ یہ ہے کہ ہم تاریخ سے جان چھڑاتے ہیں، اسے پڑھتے نہیں، پڑھتے ہیں تو سمجھتے نہیں، سمجھتے ہیں تو کسوٹی پر نہیں لاتے، نہ عہد حاضر سے موازنہ و مقابلہ کرتے ہیں۔ تاریخ سے سبق سیکھنے کیلئے پڑھنا، سمجھنا اور سمجھ کر پڑھنا ضروری ہے۔ تاریخ کبھی یادوں کا بوجھ نہیں ہوتی بلکہ روح کی روشنی ہوتی ہے۔ تاریخ کو ہم نہیں بناتے یہ ہمیں بناتی ہے۔ المیہ یہ بھی ہے کہ ہمارا دانشور یا استاد، سیاستدان یا ڈپلومیٹ تاریخ کو بالائے طاق رکھنے کے درپے ہے، وجہ یہ کہ تحریک ہو تو تاریخ بھی ہو۔ جب اصلاحات، اِنوویشن اور ترقیات ہی زندگی کا حصہ نہ ہوں تو تاریخ سے وابستگی کا فقدان فطری ٹھہرا، پنجاب کو بڑھتی آبادی، ٹریفک مینجمنٹ اور امور صحت کے ساتھ جوڑ کر دیکھنا ہو گا۔ کے پی کے کو اس کی منفرد تاریخ اور افغان بارڈر سے لنک ایک خاص زاویہ ہے یا گلگت بلتستان کے ساتھ جڑنے میں جو بینیفٹ رکھتی ہے اس کو وفاق اور کے پی کے حکومت کو بیک وقت مدنظر رکھنا ہو گا، جب بلوچستان کو اس کی محرومیوں کے تناظر میں نہیں دیکھا جائے گا تو وفاق بھی کمزور ہوتا چلا جائے گا۔ بلوچستان کو این ایف سی میں سے بنتا حصہ دینا ہوگا، اور اس کی ایجوکیشن کی پستی اور فراہمی روزگار کو گوادر اور کوئٹہ اصلاحات کے فریم ورک میں لانا ہو گا، سندھ کو سندھ کے چیلنجز کے پیش نظر جانچنا مقصود ہے۔ سندھ کیلئے ہر وقت یہی نہیں سوچا جا سکتا کہ دریائے سندھ کا سارا پانی سارا سال سمندر ہی کی نذر ہوتا رہتا ہے سو نہریں نکال لیں تو کیا ہے، اجی اس وقت ٹھٹھہ اور سجاول کو دیکھیں جو خشک دریائے سندھ پر ماتم کناں ہیں! علاوہ بریں کشمیر کو حقیقت کے نقشہ پر دیکھنا بھی وقت کی ضرورت ہے، فقط شہ رگ کا راگ الاپنے سے کچھ ہاتھ نہیں آنے والا ۔
ہمارے سیاستدان یا میڈیا حقائق سے نابلد ہو۔ یا جان بوجھ کر حقائق سے روگردانی کریں اور الٹا کہیں کہ سسٹم خراب ہے، اس کا مطلب ہے سسٹم اتنا خراب نہیں جتنی ان کی نیت خراب ہے۔ دو تین دن قبل اسمبلی میں کھڑے ہو کر مولانا فضل الرحمٰن تقریر فرما رہے تھے کہ فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں مگر تائید کا انگوٹھا سویلین حکومت لگا دیتی ہے، ان کی یہ سب باتیں درست تھیں لیکن جب الیکشن 2002کے بعد مخدوم امین فہم کے مقابلہ پر ان کو اپوزیشن لیڈر بنانے کا فیصلہ کہیں اور تصدیق کی مہر سویلین نے لگائی وہ کیوں یاد نہیں، پھر انہیں ایم ایم اے پلیٹ فارم سے جو اس وقت کے صوبہ سرحد میں حکومت ملی تھی اس کا فیصلہ بھی تو ’’آسمانوں‘‘ ہی پر نہیں ہوا تھا؟ پھر قبلہ محمود خان اچکزئی، اختر مینگل اور وزیرِ اعلیٰ کے پی کے علی امین گنڈاپور حالیہ دور میں اپنی اور انسانی حقوق فضیلتوں کا تذکرہ کرتے ہیں تو وہ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ دہشت گردی محض ان کا مسئلہ نہیں ہے یہ تو سیاسیات و سماجیات اور جمہوریت کے سنگ سنگ پوری قوم کا مسئلہ ہے، اس کا حل صرف ان کی پسند سے نہیں ہونا تاریخ اور قومی ضرورت کی خواہش پر ہونا، اور یہ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ، دہشت گردی کی حالیہ لہر اور فلسطین و دیگر کمزوروں کی کمر توڑنے کی عالمی بےحسی کی حالت میں نہیں ہونا۔ ہاں وہ جو کہتی تھی مجھے عام نہ کر وہ ’’زاویہ زرداری‘‘ کی تاریخ تھی اور ’’ہاتھیوں کی لڑائی‘‘۔ جنرل چشتی سے جب پوچھا گیا معروف تاریخ میں تو ہے کہ جنرل ضیاء آپ کو مرشد مرشد کہتے تھے، آپ کہہ رہے ہو وہ ناقابلِ اعتبار تھا، اور وہ تو ہر کسی کو مرشد مرشد کہتا، یہ کھلا اختلاف نہیں؟ پس یہ تاریخی طور پر ثابت ہوا کہ ہر کسی کو مرشد مرشد کہنے والا خود ’’بےمرشدا ‘‘ہوتا ہے کہ یہ بھی ہے ایک داستان!