عمرکوٹ (نامہ نگار )عمرکوٹ میں 35خراب آر او پلانٹس کی مرمت میں کرپشن کا انکشاف، عوام پینے کے صاف پانی کے لیے پریشان، صوبائی وزیر کا حکم محکمہ پبلک ہیلتھ عمرکوٹ نے ہوا میں اڑادیا، عمرکوٹ میں 35آر او پلانٹس جو کڑوے پانی کو میٹھا فراہم کرتے تھے، گزشتہ ڈیڑھ سال سے خراب ہیں، اور کروڑوں روپے کے فنڈز مرمت کے نام پر مبینہ طور پر کرپشن کی نظر ہو چکے ہیں۔ مقامی باشندے پینے کے میٹھے پانی کے لیے پریشان اور دربدر ہیں، سندھ حکومت کے نوٹس کے باوجود کوئی عمل نہ ہو سکا۔ تفصیلات کے مطابق عمرکوٹ میں پبلک ہیلتھ کے زیر انتظام 70آر او پلانٹس ہیں، جن میں سے 35 پلانٹس گزشتہ ڈیڑھ سال سے فنی خرابی کی وجہ سے خراب پڑے ہیں۔ متعلقہ پبلک ہیلتھ کے ذریعے ہر سال کروڑوں روپے کے فنڈز کاغذی طور پر دکھا کر مبینہ طور پر کرپشن کی نظر ہو جاتے ہیں۔ عمرکوٹ کے مختلف گاؤں میں پبلک ہیلتھ کے 70آر او پلانٹس لگے ہیں جن کی سالانہ بجٹ 8کروڑ 40لاکھ 51ہزار روپے جاری کی جاتی ہے۔ تاہم گزشتہ سال 2024 میں ان 70 آر او پلانٹس کے لیے عمرکوٹ کے مختلف چار تعلقوں میں الگ الگ 10کروڑ کے این آئی ٹی کرائے گئے، جن میں 45کروڑ روپے جعلی ٹھیکیداروں کے ذریعے ملی بھگت سے ہڑپ کر لیے گئے۔موصولہ معلومات کے مطابق 2013کے سیلاب کے دوران عمرکوٹ میں 70آر او پلانٹس کی منظوری دی گئی تھی، جس کا ٹھیکہ ایک نجی کمپنی کو دیا گیا تھا، مگر کمپنی عمرکوٹ اور تھر کو پانی فراہم کرنے میں ناکام رہی۔ اس کے بعد پبلک ہیلتھ کے حکام نے عدالت میں درخواست دائر کی کہ آر او پلانٹس پبلک ہیلتھ کے حوالے کیے جائیں، جس پر عدالت کے نوٹس اور سندھ حکومت کے ذریعے 2022میں یہ آر او پلانٹس پبلک ہیلتھ کے حوالے کیے گئے تھے۔