کوئٹہ (اسٹاف رپورٹر) پر امن احتجاج سب کا حق ہے عوام اور سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے کی کسی کو بھی اجازت نہیں دی جائے گی بلوچ یکجہتی کمیٹی کہاں رجسٹرڈ ہے؟ ماضی میں بی واے سی کے پر امن احتجاج کے دوران 13پولیس کی گاڑیاں جلائی گئیں اور پولیس اہلکاروں کو زخمی کیا گیا۔ 19مارچ کو ایم پی او کے تحت 61افراد کو جیل بھیج دیا گیا\13ریمانڈ پر ہیں جبکہ 35نوجوانوں کو والدین اور قبائلی عمائدین کی ضمانت پر چھوڑ دیا گیا ۔بلوچ یکجہتی کمیٹی حوالے سے حکومت کا موقف واضح ہے اگر عدالت کسی کو ریلیف دیتی ہے تو ہمیں کو ئی اعتراز نہیں،بی این پی سے مذکرات ہورہےہیں ۔حکومت اور بلو چستان نیشنل پارٹی کے درمیان مذاکرات جا ری ہیں۔ ان خیالات کا اظہار حکومتی ترجمان شاہد رند ،ڈی آئی جی کوئٹہ اعتزاز گورایا اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ سعد بن اسد نے سی سی پی او آفس کوئٹہ میں مشترکہ پریس کانفرنس کر تے ہوئے کیا ، ترجمان بلو چستان حکومت شاہد رند نے کہا کہ11 مارچ کو جعفر ایکسپریس پر حملہ ہوا جس کے بعد تقریباً24گھنٹے کلیئرنس آپریشن کو لگے اگلے ہی روز کوئٹہ کے قبرستان میں چند میتوں کی تد فین کر نے کے بعد بی وائی سی نے قبرکشائی کی کوشش کی اور 12گھنٹوں تک سر یاب روڈ سمیت مختلف مقامات پر احتجاج جا ری رہا ، پہلے دن سے حکومت بلو چستان کا موقف واضح ہے کہ پر امن احتجاج ہر شہری کا حق ہے لیکن اس نے احتجاج کرنا کہاں ہے جگہ کا تعین ضلعی انتظامیہ کریگی۔