ایسے عالم میں، کہ دریائے سندھ سے نہریں نکالنے کا معاملہ وفاقی اکائیوں، بالخصوص سندھ کے لئے سخت پریشانیوں اور تحفظات کا ذریعہ بنا محسوس ہو رہا ہے، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ کا یہ بیان خاص اہمیت کا حامل ہے کہ نہروں کا مسئلہ فیڈریشن سے بڑا نہیں، اس معاملے پر اتفاق رائے ضروری ہے۔ ’’جیو نیوز‘‘ کے پروگرام ’’نیا پاکستان‘‘ میں ان کا مزید کہنا تھا کہ کالا باغ ڈیم کی طرح بعض عناصر اس منصوبے کو بھی متنازع بنا رہے ہیں، اس پر بات ہوسکتی ہے۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی کو معاملہ اتفاق رائے سے حل کرانے کا یقین دلایاگیا تھا۔ رانا ثناء اللہ کے بموجب یہ ایک پروجیکٹ ہےجس کے اچھے برے اثرات سامنے رکھ کر راستہ نکالا جاسکتا ہے، مشترکہ مفادات کونسل کا جب اجلاس ہوگا تو اس میں فیصلہ ہوگا۔ ایک ایسی صورتحال میں جب سندھ کے طول وعرض میں احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے ،وفاقی حکومت کا موقف سامنے آنا وقت کی ضرورت تھی۔ صحرائے چولستان میں خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے تحت جدید طریقوں کے مطابق کاشت کاری کے منصوبوں کا مقصد دوست ملکوں کو سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرکے قومی معیشت بہتر بنانے اور ملک بھر میں کاشتکاری جدید خطوط پر استوار کرنا بتایا گیا ہے جو بالخصوص موجودہ حالات میں ایک مثبت بات ہے لیکن صحرائی علاقے میں پانی پہنچانے کے لئے دریائے سندھ سے نہریں نکالنے کی تدبیر چھوٹے صوبوں، خصوصاً سندھ، میں سخت پریشانی کا سبب بنی ہوئی ہے۔ خدشہ ہے کہ ایسا ہوا تو سندھ کےکھیت بنجر ہو جائیں گے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے عید سے دو روز قبل جو پریس بریفنگ دی، اس میں اس دعوے کے ساتھ، کہ انکی پارٹی وفاقی حکومت کو گرانے کی طاقت رکھتی ہے وزیراعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ کینالز منصوبے کی حمایت نہ کریں۔ صدر آصف علی زرداری سے منصوبے کی منظوری پر ان کا کہنا تھا کہ صدر سے کہا گیا تھا کہ اضافی زمین آباد کرنا چاہتے ہیں، صوبوں کو اعتراض نہیں تو کریں لیکن اس اجلاس کے منٹس بھی غلط بنائے گئے۔ پروپیگنڈے کے ذریعے لوگوں کو بتایا گیا کہ سندھ حکومت ملوث ہے۔ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ کینالز کا معاملہ صرف سندھ کا نہیں، صوبوں کی ہم آہنگی کا معاملہ ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ گرین پاکستان انیشیٹیو سے اختلاف نہیں، اس انیشیٹیو کے لئے عمرکوٹ اور دادو میں زمین دی ہے۔ مراد علی شاہ کے مطابق ملک کے اعلیٰ ادارے کی طرف سے دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کی واضح مخالفت کی گئی تھی۔ انہوں نے صدر زرداری کی طرف سے منصوبے کی منظوری کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ منصوبوں کی منظوری متعلقہ حکومتی اداروں کے دائر کار میں آتی ہے اور اس کیلئے صوبائی اتفاق رائے درکار ہوتا ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ وفاقی جمہوری نظام میں مشترکہ مفادات کونسل خاص اہمیت کا حامل ادارہ ہے جو وفاق کے تمام یونٹوں کو یکجا رکھنے، غلط فہمیاں دور کرنے اور مسائل حل کرنے کا موثر ذریعہ ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ کے بیان اور وفاقی مشیر کے موقف کو اس اعتبار سے ہم آہنگ کہا جاسکتا ہے کہ سی سی آئی کے ذریعے اتفاق رائے کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔ فی الوقت حالات کی نوعیت ایسی بن گئی ہے کہ ایک طرف سی سی آئی کا اجلاس جلد بلانا ضروری معلوم ہوتا ہے دوسری جانب اس گمان کی حفاظت کی جانی چاہئے جو وزیراعلیٰ سندھ کے اس بیان سے نمایاں ہے کہ چولستان کینالز کی تعمیر پر مختص کردہ 45ارب روپے کا تاحال استعمال نہ ہونا سندھ حکومت کی درخواست کا مثبت جواب ہے۔ پورے ملک پر اثر انداز ہونیوالے منصوبوں کے لئے تمام صوبوں کو اعتماد میں لے کر ان کی رضامندی سے فیصلے کرنے کے طریق کار کی سختی سے پابندی کرنے میں سب کا بھلا ہے اور بہتر نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں۔