• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مودی مسلمانوں کی جتنی فکر کررہے ہیں، اتنی تو بیرسٹر جناح نے بھی نہیں کی ہوگی، سنجے راوت


بھارتی راجیہ سبھا میں سخت گیر ہندو تنظیم شیو سینا بھی متنازع "وقف ترمیمی بل" کے خلاف بول پڑی۔

 مہاراشٹر سے رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے کہا کہ مودی آج جتنا مسلمانوں کی فکر کر رہے ہیں، اتنی تو بیرسٹر جناح نے بھی نہیں کی ہوگی۔

وقف کی زمینیں بیچ کر مسلمان لڑکیوں کی شادی کروانے کے وزیر داخلہ کے بیان پر سنجے راوت نے کہا کہ یہ بات کرکے مودی حکومت کا بھانڈا پھوٹ گیا، ان کا یہ بل لانے کا اصل مقصد ہی زمینیں بیچنا ہے۔

خیال رہے کہ بھارت میں مسلمانوں کی کھربوں روپے مالیت کی وقف املاک ہڑپنے کا مودی حکومت کا متنازع "وقف ترمیمی بل" لوک سبھا میں منظور کرلیا گیا۔

 حکمراں جماعت نے عددی اکثریت کا فائدہ اٹھا کر 232 کے مقابلے میں 288 ووٹوں سے بل منظور کیا۔ بل کو اب اگلی منظوری کے لیے راجیہ سبھا میں پیش کیا گیا ہے۔

 راجیہ سبھا سے منظوری کے لیے 236 اراکین میں سے 119 اراکین کی حمایت درکار ہوگی۔

وقف ترمیمی بل کیا ہے؟

مودی حکومت نے مسلمانوں کی وقف کردہ زمین کے انتظام میں زبردست تبدیلیوں کا منصوبہ بنایا ہے جس سے حکومت اور مسلمانوں کے درمیان ممکنہ طور پر کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔

زمین اور جائیدادیں وقف کے زمرے میں آتی ہیں اور مذہبی، تعلیمی یا خیراتی مقاصد کے لیے کسی مسلمان کی جانب سے عطیہ کی گئی ہیں، ایسی اراضی کو منتقل یا فروخت نہیں کیا جا سکتا۔

حکومت اور مسلم تنظیموں کا اندازہ ہے کہ وقف بورڈ کے پاس تقریباً 8 لاکھ 51 ہزار 5 سو 35 جائیدادیں اور 9 لاکھ ایکڑ اراضی ہے جس سے وہ بھارت کے سرِ فہرست تین بڑے زمینداروں میں شامل ہوتے ہیں۔

وزیرِ اعظم نریندر مودی کی حکومت کا پیش کردہ وقف (ترمیمی) بل میں مرکزی وقف کونسل اور وقف بورڈ میں غیر مسلم اراکین کو شامل کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے اور اس سے حکومت کو متنازع وقف املاک کی ملکیت کا تعین کرنے کا اختیار مل جائے گا۔

یہ قانون مسلم برادری اور مودی حکومت کے درمیان کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید