دہشت گردی کے خلاف پوری قوم،ہمارے سکیورٹی اداروں کا مؤقف اور کردار بالکل واضح اور دو ٹوک ہےکہ وہ اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے جب تک ملک سے دہشتگردی کے ناسور کا جڑ سے خاتمہ نہیں ہوتا۔آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا عید الفطر کے موقع پر دورہ وانا(جنوبی وزیرستان)اور ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے چہکان میں اظہار خیال بھی اس امر کا عکاس ہے۔آرمی چیف نے مغربی سرحد پر تعینات افسروں اور جوانوں کے ساتھ عید منائی۔نماز عید الفطر ادا کی اور پاکستان کے استحکام اور خوشحالی کے لیے دعا کی۔انہوں نے قوم کیلئے غیر متزلزل لگن،مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملکی دفاع کے لیے فوجی جوانوں کا عزم قابل فخر ہے۔ان کی قربانیاں نہ صرف ملک کو محفوظ بناتی ہیں بلکہ مادر وطن سے گہری محبت کی بھی عکاسی کرتی ہیں۔امن و استحکام کے لیے شہداء کی قربانیاں ہماری کامیابیوں کی بنیاد ہے۔خیبر پختونخوا کے عوام نے بھی ہمیشہ دہشتگردی کی لعنت کے خلاف بہادری کا مظاہرہ کیا اور ثابت قدم رہے۔دہشتگردی کے تمام واقعات کے تانے بانے افغانستان اور بھارت سے ملتے ہیں۔داعش،کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور دیگر انتہا پسند تنظیمیں،ان کو جو بھی نام دیں ہمارے لیے سب ایک ہیں اور ان کے پیچھے بھارتی خفیہ ایجنسی,را,ہے۔بھارت ایک عرصے سے افغان سرزمین پاکستان میں مداخلت کے لیے استعمال کر رہا ہے جس کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان بے اعتمادی کی فضا قائم ہے۔افغان حکومت کو چاہیے کہ وہ بھارت کے ناپاک عزائم کے لیے اپنی سر زمین استعمال کرنے کی اجازت نہ دے اور پاکستان کے ساتھ مل کر خطے میں پائیدار امن و استحکام کےلئے اپنا کردار ادا کرے۔پاکستان کو دہشت گردی کے حوالے سے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں زیادہ تر مسائل درپیش ہیں۔پاک فوج اور سیکیورٹی ادارے ہمارے کل کے لیے اپنا آج قربان کر رہے ہیں۔تمام سیاسی پارٹیوں کو بھی ملک کی ترقی و استحکام اور دہشتگردی کے خلاف یکجا ہونا پڑے گا۔