وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ جیسے ہی آئی ایم ایف بورڈ منظوری دے گا 1 ارب ڈالرز مل جائیں گے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ کچھ دن قبل آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ کیا گیا، ہم نے آئی ایم ایف کے تمام بینچ مارکس پورے کیے، یہ پاکستان کا پروگرام ہے ہمیں اس کی ضرورت ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ ہماری ذمے داری ہے کہ مہنگائی میں کمی کے ثمرات عوام تک پہنچیں، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کی نگرانی کے لیے ادارہ جاتی نظام بنا رہے ہیں، ملک میں معاشی استحکام آ چکا ہے اور معیشت درست سمت میں گامزن ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام کو اب پائیدار معاشی استحکام میں بدلنا ہے، ملکی زرِمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو رہا ہے۔
وزیرِ خزانہ نے کہا کہ ترسیلات کو 36 ارب ڈالرز تک لے کر جائیں گے، ملک میں سرمایہ کاری کا فروغ ضروری ہے، بینکنگ سیکٹر کا معیشت میں اہم کردار ہے، پالیسی ریٹ میں کمی سے معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ جون کے آخر تک ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح 10.6 فیصد حاصل کر لیں گے، گزشتہ سال ریوینیو میں 29 فیصد اضافہ ہوا، رواں سال ٹیکس ریوینیو میں 32.5 فیصد اضافہ ہوا، نئے ٹیکس فائلرز سے 105 ارب روپے حاصل کیے گئے، رواں سال تاجروں سے 413 ارب روپے حاصل کیے گئے۔
وزیرِ خزانہ نے کہا کہ ایف بی آر میں بہتر طریقے اور ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، رواں مالی سال معاشی گروتھ 3 فیصد رہنے کا امکان ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ امریکا پاکستان کا تجارتی شراکت دار ہے، ٹیرف معاملے پر وزیراعطم نے 2 کمیٹیاں بنا دی ہیں، اس معاملے پر پاکستان کا ایک وفد بھی امریکا جائے گا، ہم معاملے کا حل چاہیں گے، ہم چاہیں گے کہ اس معاملے پر پاکستان اور امریکا دونوں کا فائدہ ہو۔