پشاور کے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں کانگو وائرس کے 2 مریض داخل ہیں۔
اسپتال انتظامیہ کے مطابق مریضوں کا تعلق ضلع کرک سے ہے۔
اسپتال انتظامیہ نے بتایا کہ کانگو وائرس کے مریضوں کو آئسولیٹ کر دیا گیا ہے۔
ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق ہر نئی نسل کے ساتھ ہماری ذہنی صحت خراب ہو رہی ہے، جس کی چار اہم وجوہات سامنے آئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً آدھے نوجوان ذہنی صحت کے مسائل کا شکار ہیں، جس کی وجہ کم عمری میں اسمارٹ فون کا استعمال، غیر صحت بخش (الٹرا پروسیسڈ) خوراک اور کمزور سماجی روابط بتائے جاتے ہیں۔
واضح ہو چکا ہے کولوریکٹل کینسر کو اب صرف عمر رسیدہ افراد کی بیماری نہیں کہا جا سکتا: ماہرین
ایک حالیہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ صرف 24 منٹ کے لیے موسیقی سننا اضطرابی کیفیت و بے چینی کی علامات کو نمایاں حد تک کم کر سکتا ہے۔
کرپس، بسکٹ اور کولڈ ڈرنکس دل کے دورے یا فالج سے موت کے خطرے کو 67 فیصد تک بڑھا دیتے ہیں۔ سائنسدانوں نے اس حوالے سے بتایا کہ روزانہ کتنی مقدار میں الٹرا پروسیسڈ فوڈز کھانے سے دل کے دورے یا فالج سے موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
برطانیہ میں گردن توڑ بخار سے 2 طالب علموں کی ہلاکت اور لاتعداد کے وائرس میں مبتلا ہونے پر کھلبلی مچ گئی۔
عمر کے ساتھ ان ریشوں میں خرابیوں میں اضافہ ہوتا اور ان ریشے یا ٹشوز کا پھٹنا سب سے عام مسئلہ ہوتا ہے۔
دنیا بھر میں کروڑوں افراد دائمی کمر درد کا شکار ہیں اور ایک نئی طبی تحقیق نے اس مسئلے کو وٹامن ڈی کی کمی سے جوڑ دیا ہے۔
ایک سائنسی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ دماغ کو مضبوط بنانے اور ڈیمنشیا کے خطرے کو کم کرنے کے لیے روزانہ صرف 17 منٹ سائیکل چلانا مفید ہے، اس تحقیق کے مطابق یہ آپ کے دماغ کو بہتر بنا سکتا ہے اور ڈیمنشیا سے بھی بچاؤ میں مدد سکتا ہے۔
گلوٹاتھائیون ایک قدرتی مادہ ہے جو جسم میں موجود 3 امینو ایسڈز گلائسین، سسٹین اور گلوٹامک ایسڈ سے بنتا ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق پوٹاشیم ایک اہم معدنی جزو ہے جو فالج کے خطرے کو 20 فیصد تک کم کرسکتا ہے، اسکی جسم میں کمی کی وارننگ کی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق برطانیہ میں لاکھوں افراد پوٹاشیم کی کمی کا شکار ہیں، جو دل کے دورے اور فالج کے خطرے کو کم کر سکتا ہے، مگر زیادہ تر لوگوں کو اس کا علم ہی نہیں ہوتا۔
امریکا میں ہونے والی ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ شدید کورونا وائرس یا انفلوئنزا (فلو) کے مریضوں میں مستقبل میں پھیپھڑوں کے کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
دنیا بھر میں بالوں کا جھڑنا ایک عام مسئلہ بن چکا ہے، خصوصاً مردوں میں یہ صرف ظاہری نہیں بلکہ نفسیاتی دباؤ کا سبب بھی بنتا جا رہا ہے۔
اس تحقیق کے ذریعے محققین صرف یہ جاننے کی کوشش نہیں کر رہے کہ لوگ زیادہ عرصہ کیسے زندہ رہ سکتے ہیں، بلکہ یہ بھی کہ وہ بہتر انداز میں کیسے زندگی گزار سکتے ہیں۔
چیا سیڈز (تخمِ داؤدی) کو انتہائی صحت بخش غذا سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز، فائبر، پروٹین، وٹامنز اور معدنیات بڑی مقدار میں موجود ہوتے ہیں، یہ ہاضمہ بہتر بنانے، جسم میں سوزش کم کرنے اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
ماہرین صحت نے آنتوں کے کینسر کی وہ ابتدائی علامات بتائی ہیں جو منہ میں ظاہر ہوتی ہیں۔ واضح رہے کہ برطانیہ میں ہر 12 منٹ بعد کسی نہ کسی شخص میں آنتوں کے کینسر کی تشخیص ہوتی ہے اور ہر سال تقریباً 17 ہزار افراد اس بیماری سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔ سرطان کی اس قسم کولوریکٹل کینسر بھی کہا جاتا ہے، یہ برطانیہ میں کینسر سے ہونے والی اموات کی دوسری سب سے بڑی وجہ ہے۔
حالیہ برسوں میں کولیجن سپلیمنٹس تیزی سے مقبول ہوئے ہیں اور اِنہیں خوبصورت جِلد، مضبوط بالوں اور صحت مند جوڑوں کے لیے مؤثر حل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔