• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کیا سر پر بار بار لگنے والی چوٹیں دماغی نقصان سے منسلک ہیں؟

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

حالیہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ سوزش کی بلند سطح دماغ کے سفید مادے (white matter of the brain) خصوصاً لمبک نظام میں ہونے والے نقصان سے منسلک ہے۔

جریدے نیورولوجی میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق سر پر بار بار چوٹیں لگنے سے پیدا ہونے والی سوزش اور اس کی بڑھتی ہوئی سطح دماغ کے سفید مادے کو پہنچنے والے نقصان سے منسلک ہے۔

یہ تحقیق اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ بعض سابق فٹبالرز بعد ازاں دماغی امراض میں کیوں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

سینئر محقق کا کہنا ہے کہ فٹ بال، رگبی، مارشل آرٹس جیسے جسمانی کھیل جن کے دوران سر پر بار بار چوٹ لگتی ہیں، گزشتہ تحقیقات میں نیوروڈیجینیریٹیو امراض (neurodegenerative diseases)، مثلاً سی ٹی ای (کرونک ٹرامیٹک اینسیفالوپیتھی)، کے بڑھتے ہوئے خطرے سے منسلک پایا گیا۔ 

اس تحقیق کے لیے سائنس دانوں نے 223 مَردوں کا جائزہ لیا، جن میں سے 170 نے کالج یا پیشہ ورانہ سطح پر فٹبال کھیلی تھی، تمام شرکاء کی عمریں 50 کی آخری دہائی میں تھیں۔

محققین نے ہر فرد کے خون اور ریڑھ کی ہڈی کے سیال (اسپائنل فلوئڈ) کے نمونے حاصل کیے اور دماغی ساخت کا جائزہ لینے کے لیے ایم آر آئی اسکین کیے، اس کے ساتھ ساتھ سی ٹی ای کی علامات کا بھی معائنہ کیا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ تقریباً 59 فیصد فٹبالرز میں ذہنی تنزلی دیکھی گئی، جبکہ 58 فیصد میں رویے اور جذبات کو قابو میں رکھنے کی صلاحیت متاثر ہوئی۔

دوسری جانب وہ شرکاء جو کھیلوں سے وابستہ نہیں تھے، ان میں ذہنی تنزلی سامنے نہیں آئی اور صرف 2 فیصد افراد نے جذبات اور رویے کے نظم و ضبط میں مشکلات کی شکایت کی۔

سائنس دانوں کے مطابق سر پر بار بار چوٹ لگنے کے نتیجے میں ہونے والی سوزش کی بلند سطح دماغ کے وائٹ میٹر، بالخصوص لمبک نظام کو پہنچنے والے نقصان سے جڑی ہوئی تھی، لمبک نظام تحریک، یادداشت اور جذبات سمیت متعدد افعال کو منظم کرتا ہے۔

فٹبالرز میں وائٹ میٹر کو پہنچنے والا یہ نقصان یادداشت میں کمی سے بھی منسلک پایا گیا ہے۔

مزید برآں یہ تعلق ان 57 فٹبالرز میں زیادہ مضبوط دیکھا گیا جن میں سی ٹی ای ہونے کا قوی امکان ظاہر کیا گیا تھا۔

سینئر محقق کے مطابق چونکہ لمبک نظام ادراک اور رویے دونوں پر اثر انداز ہوتا ہے، اس لیے سوزش کو ہدف بنانا ایسے دماغی تغیرات کے خطرے کو ممکنہ طور پر کم کرنے کا ایک ذریعہ بن سکتا ہے جو سر پر بار بار لگنے والی چوٹوں سے وابستہ بگڑتی ہوئی علامات کا سبب بنتے ہیں۔


نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کیلئے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

صحت سے مزید