• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
امریکی صدر فوری امن معاہدہ چاہتے ہیں، مگر یورپ کی ناراضی بھی قبول نہیں
امریکی صدر فوری امن معاہدہ چاہتے ہیں، مگر یورپ کی ناراضی بھی قبول نہیں

الاسکا کے امریکی فوجی اڈے، اینکریج پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روس کے صدر پیوٹن کے درمیان ہونے والی ملاقات اِس لحاظ سے تو ناکام رہی کہ فریقین کی جانب سے جنگ بندی کا کوئی اعلان سامنے نہیں آیا۔ تین گھنٹے سے زاید جاری رہنے والی ملاقات میں دونوں رہنما کسی معاہدے پر راضی نہ ہوسکے۔ ملاقات میں دونوں اطراف کے خارجہ امور کے ماہرین بھی موجود تھے۔ 

یوکرین کی چوالیس ماہ سے جاری جنگ میں اب تک محتاط اندازوں کے مطابق 70ہزار سے زاید افراد ہلاک اور دو لاکھ سے زاید زخمی ہوچُکے ہیں، جب کہ19000 ہزار سے زاید یوکرینی بچّے لاپتا ہیں، جن کے اغوا کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ جنگ کہیں بھی ہو، بچّے بُری طرح متاثر ہوتے ہیں، جیسے غزہ میں ہو رہا ہے۔ 

یہ جنگ اُس وقت بھی جاری تھی، جب الاسکا کے یخ بستہ امریکی اڈّے پر دو بڑی طاقتوں کے سربراہ گرما گرم بحث میں مصروف تھے۔ امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو اور روسی وزیرِ خارجہ سروجی اپنے رہنماؤں کے ساتھ اجلاس میں موجود تھے، لیکن جنگ کے اصل متاثرین وہاں نہیں تھے، یعنی یوکرین کے صدر مدعو کیے گئے اور نہ ہی کسی یورپی رہنما کو بلوایا گیا، جن کی سر زمین پر یہ جنگ ہو رہی ہے۔

روس اور یوکرین، دونوں ہی یورپ کا حصّہ ہیں، اِس طرح کہا جاسکتا ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد یورپ ایک مرتبہ پھر جنگ میں ملوث ہوچکا ہے۔ ویسے بھی یورپی رہنماؤں نے روسی حملے پر کہا تھا کہ یہ دوسری عالمی جنگ کے بعد یورپ پر سب سے بڑا حملہ ہے اور وہ اسے ڈیل بھی اِسی طرح کر رہے ہیں۔پوار یورپ مکمل یک جہتی کے ساتھ یوکرین کے ساتھ کھڑا ہے اور وہ اس سلسلے میں امریکی دباؤ کو خاطر میں لا رہے ہیں اور نہ پیوٹن کے آہنی ارادوں کو اہمیت دے رہے ہیں۔

پیوٹن کو شاید اندازہ نہیں کہ ہر گزرنے والا دن اس یورپی اتحاد کو مضبوط سے مضبوط تر کر رہا ہے۔ یہ ملاقات امریکی صدر، ٹرمپ کی خواہش پر ہوئی تھی۔ اِس ملاقات میں اندرونِ خانہ کیا ہوا، اس کا بھی جلد پتا چل ہی جائے گا، لیکن جو ابتدائی تفصیلات سامنے آئیں، وہ دنیا کے لیے بہرحال مایوس کن ہی رہیں۔ چوں کہ اس جنگ کے نتیجے میں ہونے والی منہگائی سے پوری دنیا پس رہی ہے، اس لیے سب کی نگاہیں اس اہم ملاقات پر مرکوز تھیں۔

’’الاسکا سمٹ‘‘ کیوں نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکی، یہ جاننے کے لیے ہمیں دونوں فریقین کے مؤقف کا تجزیہ کرنا پڑے گا۔ روس کے صدر کا کہنا ہے کہ یوکرین کے روسی بولنے والے علاقے، جن پر اب تقریباً روسی افواج کا قبضہ ہے، روس میں ضم کردیئے جائیں۔ یہ علاقے یوکرین کے مشرقی حصّے ہیں اور روس کی سرحد سے ملحق ہیں۔ دس سال قبل صدر پیوٹن کی فوجوں نے یوکرین کے جزیرے کریمیا پر قبضہ کر کے اُسے روس میں شامل کر لیا تھا، جہاں روسی زبان بولنے والوں کی اکثریت لسانی کارڈ استعمال کر رہی تھی۔

پیوٹن کی دوسری شرط یہ ہے کہ یوکرین، نیٹو اور یورپ میں شامل نہیں ہوگا، جب کہ تیسری شرط کے مطابق، یوکرین کو اپنی فوج میں روسی احکامات کے مطابق کمی کرنی پڑے گی۔پیوٹن ان تمام مطالبات کا جواز یہ پیش کرتے ہیں کہ روسی سرحد کے قریب یوکرین کی طاقت اس کی سیکیورٹی کے لیے خطرہ ہے۔ یوکرین کے صدر ذیلنسکی کا، جو چوالیس مہینوں سے اپنے سے چار گُنا بڑی طاقت کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں، کہنا ہے کہ وہ ایک انچ زمین بھی روس کو نہیں دیں گے۔کوئی معاہدہ ان کی مرضی اور شمولیت کے بغیر قابلِ قبول نہیں۔ 

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ روس کو زمین دینے کا مطلب روسی جارحیت کو انعام سے نوازنا ہے۔ان کے حلیف28 یورپی ممالک، یوکرین کے صدر ذیلنسکی کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کرتے آ رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ جب اقتدار میں آئے، تو ان کا کہنا تھا کہ وہ24گھنٹوں میں یوکرین جنگ بند کروا دیں گے، لیکن آج230 دن گزرنے کے باوجود ابتدائی معاملات بھی طے نہیں کروا سکے۔

جب وہ ملاقات کے لیے الاسکا جارہے تھے، تو انہوں نے کہا کہ یہ میٹنگ ابتدائی ہے، اس میں بہت ہائی اسٹیکس ہیں اور بعد میں صدر ذیلنسکی کو بھی شامل کرلیں گے اور اس طرح اسے سہہ فریقی ملاقات کردیں گے۔ انہوں نے اس سمٹ کو پیوٹن کے خیالات جانچنے، جب کہ وائٹ ہاوس نے اسے لسننگ ایکسرسائز کہا۔ دوسری بات تو کسی حد تک درست نکلی، لیکن پہلی بات کے امکانات دور دور تک نظر نہیں آرہے کیوں کہ صدر پیوٹن، صدر ذیلنسکی کے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں۔ 

پیوٹن امریکا جیسی سُپر طاقت کے صدر کے ساتھ فوٹو سیشن کو تو اہم سمجھتے ہیں، لیکن جنگ بندی اُن کے ایجنڈے میں شامل نہیں، اُن کی بلا سے دنیا کسی بھی مشکل میں پھنسے، وہ اپنے زیرِ قبضہ علاقوں ہی کو فتح کرنا چاہتے ہیں۔ ماہرین اور بین الاقومی امور پر نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ وہ مزید شدید حملے کرکے زیادہ سے زیادہ زمین پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں، جو یورپ اور دنیا کے لیے ایک بہت سنجیدہ مسئلہ ہے۔1926 ء کے پیرس معاہدے کے تحت طے ہوا تھا کہ کوئی مُلک، کسی دوسرے مُلک پر فوجی قبضہ نہیں رکھ سکتا۔

کسی صورت بین لاقوامی سرحدیں تبدیل نہیں کی جاسکتیں۔ اور اسی معاہدے کے تحت دنیا کا موجودہ نظام قائم ہے، وگرنہ پچاس لاکھ آبادی سے کم کے ممالک، جن کے پاس اپنی فوج تک نہیں، کیسے قائم رہ پاتے۔ یہ حقیقت ہے کہ پانچ ایٹمی ممالک اقوامِ متحدہ کی سلامتی کاؤنسل کے مستقل رُکن ہیں اور وہی دنیا کے اہم فیصلے کرتے ہیں، تاہم وہ بھی بین الاقوامی سرحدیں صرف اُسی وقت بدلنے کی اجازت دیتے ہیں، جب وہاں کے عوام ایسا چاہتے ہوں۔

صدر پیوٹن اُس نسل سے تعلق رکھتے ہیں، جس نے جوانی میں سوویت یونین جیسی طاقت کو آنکھوں کے سامنے بکھرتے دیکھا۔اب وہ پچیس سال سے روس کے حُکم ران ہیں۔ روس، دنیا میں سب سے زیادہ ایٹم بم رکھتا ہے اور اُس کے پاس عددی لحاظ سے بھی بڑی فوج ہے۔ روس کی آبادی اٹھارہ کروڑ، جب کہ یوکرین کی آبادی چار کروڑ ہے۔پھر یہ بھی یاد رہے کہ یوکرین، سوویت یونین کے بکھرنے سے قبل اس کا حصّہ تھا، لیکن یہ بھی یاد رہے کہ وسط ایشیا کی مسلم ریاستیں بھی سوویت یونین کا حصّہ تھیں، تو کیا یوکرین کے بعد اُن کی باری آئے گی۔ 

اس طرح دیکھا جائے تو پھر ہنگری، پولینڈ اور یوکرین عثمانی خلافت کا بھی حصّہ رہے ہیں۔تو کیا اب تُرکیہ ان پر دعویٰ کردے۔ دوسری طرف، تائیوان، چین کا جائز حصّہ ہے، وہ جب چاہے اُس پر فوجی قبضہ کرسکتا ہے، لیکن وہ صبر سے کام لے رہا ہے، حالاں کہ وہاں تو سب چینی ہیں۔ کینیڈا میں کیوبک کا علاقہ فرانسیسی بولنے والوں کا اکثریتی علاقہ ہے۔ وہ ایک دفعہ الگ بھی ہوا، تاہم بعد میں پھر کینیڈا میں شامل ہوگیا۔ایسے لسانی علاقوں کے لیے خصوصی سیاسی انتظامات اور نظام وضع کیے گئے ہیں تاکہ وہ سکون سے رہ سکیں۔اُن کی شناخت برقرار، حقوق اور روایات بھی محفوظ رہیں۔ 

جب مختلف لسانی یا مذہبی گروہ کسی مُلک کا حصّہ بنتے ہیں، تو وہ اپنے مفادات کے تحفّظ کی یقین دہانی چاہتے ہیں۔ اِسی پر دنیا کا نظام چل رہا ہے، وگرنہ تو دنیا ٹکڑوں میں بٹ جائے گی اور قبائلی نظام واپس آجائے گا۔ موجودہ قومی اسٹیٹ کا فلسفہ یہی ہے کہ بہت سے نظریاتی گروپس اپنے مفادات کی خاطر متحد ہوکر مُلک بنا لیتے ہیں، جس سے قومیں بن جاتی ہیں۔ یہ اِس لیے آسان ہوگیا کہ مواصلات اور کمیونی کیشن سسٹم بہت تیز ہوگیا ہے۔باہمی رابطے سیکنڈز کی بات ہے اور مسائل تیزی سے حل ہوجاتے ہیں، وگرنہ کیسے ممکن ہے کہ زلزلہ یا سونامی جاپان میں آئے اور سعودی عرب یا امریکا سے گھنٹوں میں مدد پہنچ جائے۔

صدر پیوٹن ایک خاص یک جماعتی نظام کے تحت حُکم ران ہیں، جب کہ امریکا اور یورپ جمہوریت کی راہ پر گام زن ہیں، لیکن ان سب میں بہت سے معاملات پر مفاہمت ہے۔ لکیریں اور ریڈ لائنز بھی موجود ہیں۔ ایٹمی طاقتیں ہونے کے باوجود وہ ایک دوسرے سے پنجا آزمائی نہیں کرتے۔ یہ پہلی اور دوسری جنگِ عظیم کے اسباق ہیں، جو انہیں اچھی طرح یاد ہیں۔ سوویت یونین ٹوٹ گئی، مگر پھر بھی ایٹمی جنگ نہیں ہوئی۔ سب کچھ ایک معاہدے کے تحت ہوا۔

اگر مارنے مرنے کے جذبات، انسانی عقل پر حاوی ہوجائیں، تو پھر درندوں اور انسان میں کیا فرق رہ جائے گا۔ایٹم بم کا استعمال کوئی پاگل ہی کرسکتا ہے۔ دنیا کی تاریخ اٹھا کردیکھ لیں، جب قومیں کم زور پڑتی ہیں، تو وہ جُھک جاتی ہیں، اجتماعی خودکُشی نہیں کرتیں۔ ایک انچ زمین نہ دینے کا نعرہ بہت خُوب، لیکن گزشتہ ایک سو سال میں مُلک کے مُلک تبدیل ہوگئے۔ 

نئے مُلک اور قومیں وجود میں آگئیں، جو دوستوں کی طرح باہمی مفادات کی خاطر مل کر چل رہے ہیں۔مارو، کاٹو، مر جائو، تباہ ہوجائو، یہ قبائلی نظام کے اصول ہیں، جنہیں آج کی جدید دنیا پر لاگو نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اِسی لیے روسی، چینی نظام اور مغربی جمہوریت نہ صرف ساتھ چل رہے ہیں، بلکہ امریکی خلائی اسٹیشن پر روسی خلا باز بھی موجود ہیں۔ چین، بھارت، روس اور پاکستان کی فوجیں اپنے تمام تر اختلافات کے باوجود دہشت گردی کے خلاف ایک ساتھ مشقیں کرتی ہیں۔

صدر پیوٹن نے اب تک خود کو ایک’’آہنی لیڈر‘‘ کے طور پر پیش کیا ہے۔ شام میں وہ کام یاب رہے کہ مسلمان بٹے ہوئے تھے اور امریکا کے صدر اوباما کم زور پڑ گئے تھے۔ وہ یہی طاقت یوکرین میں برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کی ڈپلومیسی کسی حد تک کام یاب رہی۔ وہ الاسکا سمٹ میں ہر جگہ ٹرمپ کے ساتھ نظر آئے، گویا یہ تاثر دینے میں کام یاب رہے کہ وہ بھی ایک بڑی طاقت ہیں اور امریکا جیسی سُپر طاقت کے برابر بیٹھتے ہیں اور ضروری نہیں کہ امریکا کی بات مان بھی لیں۔

اسے سیاست کی زبان میں’’ آپٹکس‘‘ کہا جاتا ہے، یعنی تصاویر کے ذریعے اپنا بہتر امیج دنیا تک پہچانا اور پیوٹن اس میں کام یاب نظر آتے ہیں۔ پھر یہ کہ ٹرمپ بہت جلدی میں ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ فوراً جنگ بندی ہوجائے کہ وہ اپنے ووٹرز اور دنیا سے یہ وعدہ کرچُکے ہیں۔صدر پیوٹن ایک منجھے ہوئے سیاست دان ہیں، وہ اِس سے پہلے شام کے محاذ پر اوباما کو بے وقوف بنا چکے ہیں اور کچھ عرصے کے لیے اپنے حلیف بشار الاسد کو فوجی طاقت کے ذریعے اقتدار دینے میں کام یاب رہے، جب کہ کسی کو یاد بھی نہیں کہ شام کی خانہ جنگی میں پانچ لاکھ شہری ہلاک اور ایک کروڑ بے گھر ہوئے تھے۔

پیوٹن اور روس اس خانہ جنگی میں شریک تھے، لیکن اس کے باوجود ان پر کوئی الزام نہیں آیا۔لیکن بالاخر شام ان کے ہاتھ سے نکل گیا اور حد یہ کہ اُن کا شامی فوجی اڈا بھی اب ان کے ہاتھ میں نہیں رہا۔ یورپی لیڈر، پیوٹن کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ پیوٹن نے ان کو گیس اور تیل کی فراہمی بند کردی، لیکن وہ یہ وار سہہ گئے۔ منہگائی کی بلا کی آئی اور یورپ اسے بھی ختم کرنے میں کام یاب رہا۔

البتہ پاکستان جیسے ممالک انرجی اور خوراک کے بحران کی وجہ سے مُلک مُلک بھیک مانگتے پھرے اور صدر پیوٹن نے اپنی تمام تر دولت کے باوجود، مجال ہے کہ ایک پائی کی بھی امداد دی ہو۔ہاں، چین اور بھارت کو، جو پہلے ہی اس کے ہم نوا اور پکّے دوست ہیں،35 فی صد کم پر تیل فراہم کیا۔

مسلم دنیا کی بدقسمتی ہے کہ اسی دوران غزہ کے اندوہ ناک المیے نے جنم لیا، وگرنہ انہیں بخوبی پتا چل جاتا کہ ان کی معیشتوں کی بربادی یوکرین جنگ سے ہوئی، جس سے ان کا کچھ لینا دینا نہیں۔یوکرین کی جنگ سے قبل صدر پیوٹن نے روس کی اقتصادی قوّت مضبوط کر لی تھی، کیوں کہ وہ سوویت یونین زمانے میں افغانستان کی پہلی جنگ اور بعد میں مشرقی یورپ میں اس کے اثرات دیکھ چکے تھے۔ تاہم، امریکی اور یورپی پابندیوں نے اس کی معیشت کو سخت نقصان پہنچایا اور مزید پابندیاں کیا اثرات مرتّب کریں گی، یہ دیکھنا ہوگا۔

الاسکا ملاقات کے فوراً بعد صدر ٹرمپ نے صدر ذیلنسکی سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی، لیکن اب کی بار وہ اکیلے نہیں تھے، بلکہ یورپ کے سب سے طاقت وَر ممالک کے سربراہ بھی ذیلنسکی کے ساتھ تھے۔ وہ پوری طرح ذیلنسکی کے ساتھ کھڑے رہے اور کوئی بھی ایسی بات ماننے سے انکاری رہے، جو ٹرمپ، پیوٹن کی طرف سے لے کر کر آئے تھے۔اس طرح ان یورپی رہنماؤں نے پیوٹن کو واضح پیغام دے دیا کہ مغربی لیڈرشپ ان کی کسی دھونس، دھمکی میں نہیں آئے گی۔ 

اگر پیوٹن، ٹرمپ کی امن کوششوں کو کم زوری جان کر اُن سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے، تو وہ ان کی راہ میں آہنی دیوار ہیں۔ ٹرمپ امن کی غیر معمولی خواہش رکھنے کے باوجود ایک معاملے میں مجبور ہیں اور وہ ہیں مغربی طاقتوں کے رہنما۔ ان سے الگ ہوکر امریکا کے لیے اکیلے پرواز کرنا ناممکن ہے۔ پیوٹن اب تک یورپی رہنماؤں کو مذاکرات سے باہر رکھنے میں کام یاب رہے، لیکن شاید اب یہ ممکن نہ ہو۔

یاد رہے کہ اوباما کے زمانے میں وہ روسی زبان بولنے والی، جرمن چانسلر مرکل سے پیغام رسانی کرواتے تھے مگر اب ان کے آپشنز بہت محدود ہیں۔ انہوں نے خود کو یورپ سے دور کرلیا ہے۔ روسی صدر کے لیے امریکا کے غیر روایتی صدر سے ڈیل کرنا اِس لیے بھی مشکل ہوگا کہ وہ بھی ان کی طرح سخت قوم پرست ہیں۔ وہ امریکا کو’’ فرسٹ‘‘ بنانا چاہتے ہیں اور اس مشن میں ان کا فطری ساتھی یورپ ہی ہے۔