تیونس، جسے انگریزی کی طرز پر’’ ٹیونس‘‘ بھی لکھا اور پڑھا جاتا ہے، شمالی افریقا کا ایک اہم مُلک ہے۔ رواں صدی کے دوسرے عشرے کے آغاز میں اسے خاص شہرت ملی کہ طاقت وَر آمریتوں سے نجات کی علامت’’عرب بہار‘‘ کا آغاز اِسی مُلک سے ہوا تھا۔ جس طرح آج کل ہمارے میڈیا میں تُرکی کے لیے’’تُرکیہ، تُرکیے‘‘ کے الفاظ عام ہو گئے ہیں، اِسی طرح تیونس کے لیے، انگریزی کے اتباع میں ٹیونسیہ اور ٹیونس لکھا، بولا جانے لگا ہے۔
تیونس پر تاریخ کے مختلف مراحل میں فونینشیوں، قرطاجیوں، رومنوں، بازنطینیوں، امویوں، عباسیوں، فاطمیوں، عثمانی تُرکوں اور فرانسیسیوں کی حُکم رانی رہی ہے۔ اسلامی عہد کے مختلف ادوار میں اہلِ تیونس اپنے آپ کو غلام نہیں سمجھتے تھے۔ اُنہیں غلامی کا احساس فرانسیسی سام راجی اقتدار کے عرصے میں ہوا۔ فرانسیسی عہد میں تیونس میں سیاسی جدوجہد جاری رہی اور مختلف سیاسی پارٹیز بھی وجود میں آتی رہیں۔ فرانس نے نپولین کے اقتدار میں مصر میں تہذیبی اور ثقافتی بالادستی کا جو تجربہ کیا تھا، وہ تیونس میں بھی کیا گیا۔
تہذیب اور کلچر میں جو فرق ہے، وہ استعماری قوّتوں میں بھی رہا ہے۔ برطانیہ، جس کی چار برّاعظموں میں سلطنت پر سورج غروب نہیں ہوتا تھا، مغربی تہذیب کا پیشوا تھا۔ آج وہی حیثیت امریکا کی ہے اور وہ بھی مغربی تہذیب کا محافظ ہے۔ تہذیب کی حیثیت ایک جسم کی ہے اور کلچر اِس جسم کے اندر رُوح کے مثل سمجھا جاتا ہے۔ فرانس، مغربی کلچر کا نگہہ بان ہے۔ ایک تہذیب میں کئی کلچر ہو سکتے ہیں، لیکن ایک کلچر کسی دوسرے کلچر کو برداشت نہیں کرتا۔
اِسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ امریکا اور برطانیہ میں مسلمان عورت کے حجاب پر کوئی پابندی نہیں ہے، لیکن فرانس کو یہ اسلامی علامت گوارا نہیں۔ اسلام کے شعائر کی توہین کے واقعات برطانیہ اور امریکا کے مقابلے میں فرانس میں زیادہ ہوتے ہیں۔ فرانس نے ایک نو آبادیاتی قوّت کی حیثیت سے شمالی افریقا کے ممالک پر تسلّط قائم کیا، تو ان میں اپنا کلچر مستحکم کرنے پر خاص توجّہ دی۔
تیونس میں فرانسیسی استعمار نے1881 عیسوی میں قدم رکھے اور 1956ء میں فرانس وہاں سے رخصت ہوا۔ سام راجی قوّتوں کا یہ شعار رہا ہے کہ وہ ایک ایسی نسل اور ایسے سیاسی عناصر تیار کر کے جاتی تھیں، جن کی نظر میں اُن کے آقاؤں کا طرزِ زندگی، زبان اور کلچر بہت مقدّس ہوتا تھا۔ وہ آزادی کے بعد استعماریت اور اس کی روایات و اقدار جاری رکھتے تھے۔ ایسے مُلک سیاسی طور پر آزاد ہوتے ہیں، بظاہر اُن پر سے سام راجی غلبہ ختم ہو جاتا ہے، لیکن نوآبادیاتی قوّت کا ثقافتی اور معاشرتی رنگ برقرار رہتا ہے۔
پاکستان کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا کہ جب برطانیہ کے نوازے ہوئے، اُس کی روایات سے گہرا لگائو رکھنے والے جاگیردار، اشرافیہ کے نمائندے، سِول اور عسکری اداروں کے اعلیٰ عُہدوں پر فائز افسران نے تحریکِ پاکستان کو ایک حقیقت بنتے دیکھا، تو اُس میں شامل ہوگئے تھے۔ قیامِ پاکستان اور قائدِ اعظمؒ کی رحلت کے بعد مُلک پر یہی لوگ مسلّط ہوئے۔ فرانس نے بھی ایسے افراد کا ایک مضبوط گروہ تیار کر دیا تھا، جو ایک طرف تحریکِ آزادی کے ہیرو شمار ہوئے اور دوسری طرف، ہر لحاظ سے فرانسیسی رنگ میں رنگے ہوئے تھے۔
تیونس کی جدوجہدِ آزادی میں حبیب بورقیبہ اور اُن کے ہم مشرب افراد کا ایک گروہ پیش پیش تھا۔ یہ گروہ اپنے ظاہر اور فکر و نظر کے لحاظ سے فرانسیسی کلچر میں ڈھلا ہوا تھا۔ حبیب بورقیبہ کی تعلیم کا بڑا حصّہ فرانس میں مکمل ہوا تھا۔وہ سوچ و فکر، زبان، لباس، رہن سہن اور طرزِ زندگی میں فرانسیسی ہی تھے۔اُنہوں نے فرانسیسی کلچر تو اپنا لیا تھا، لیکن طرزِ حکومت میں فرانس کے جمہوری اصولوں سے انحراف کرنے لگے تھے۔
حبیب بورقیبہ نے ایک’’پاپولسٹ سیاست دان‘‘ کا چلن اختیار کیا اور ایسا سیاست دان ساری کائنات کو اپنے گرد گھومتا دیکھنے کا متمنّی ہوتا ہے۔ اہلِ نظر نے یہ تسلیم کر لیا ہے کہ’’پاپولزم‘‘ آمریت کا نیا عکس ہے۔ اکیسویں صدی کے دوسرے، تیسرے عشرے میں امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ، بھارت کا نریندرا مودی اور پاکستان کے عمران خان’’پاپولزم‘‘ کی بڑی مثالیں ہیں۔
وہ سارے نظام کو اپنی مرضی، سوچ اور شخصیت کے گرد گردش کرتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ حبیب بورقیبہ، تیونس کے پہلے صدر تھے۔ مغربی جمہوریت کے شیدائی ہونے کے باوجود، وہ ایک’’پاپولسٹ سیاست‘‘ دان تھے، جن کے نزدیک تیونس کی تعمیر و ترقّی اور وقار اُن کی ذات سے وابستہ تھا۔ پاپولزم نے سوچ میں آمریت داخل کر دی تھی۔ آزادی کے بعد تیونس میں مختصر عرصے کے لیے بادشاہت قائم ہوئی، جس کے تحت حبیب بورقیبہ نے وزیرِ اعظم کی ذمّے داریاں بھی انجام دیں۔
گزشتہ صدی کے آٹھویں، نویں عشرے میں افغانستان میں جہادی تحریکوں کے ہاتھوں سوویت یونین کو زبردست زک پہنچ چُکی تھی اور اس کی شکست واضح طور پر نظر آ رہی تھی۔ ایران کی شہنشاہیت کے خلاف خمینی انقلاب برپا ہو چُکا تھا اور وہاں اقتدار مذہبی عناصر کے ہاتھ آ گیا تھا۔ اِن عوامل نے اسلامی تحریکوں کو بڑی تقویت دی تھی۔
ہر طرف اسلامی انقلاب کے نعرے بلند ہو رہے تھے۔ حبیب بو رقیبہ نے تیونس میں اسلامی تحریک کو اپنی دانست میں کچل دیا تھا، لیکن مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں اسلامی قوّتوں کو نئی زندگی مل رہی تھی۔ اِس عرصے میں تیونس کے آمر، حبیب بو رقیبہ کی صحت روز بروز دگرگوں ہو رہی تھی، جس پر امریکا اور مغربی ممالک کو یہ فکر لاحق ہو گئی کہ شمالی افریقا کے اِس اہم مُلک پر کہیں ایران کی طرح اسلامی تحریک کی گرفت مضبوط نہ ہو جائے۔ چناں چہ اُنہوں نے اپنے نئے مہرے، زین العابدین بن علی کو آگے کیا اور اس نے حبیب بو رقیبہ کو معزول کر کے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔
زین العابدین بن علی بھی فرانس کا تعلیم یافتہ اور حبیب بو رقیبہ کے ماتحت کئی اہم فوجی اور سِول عُہدوں پر فائز رہا تھا۔ ابتدا میں اس کا تعارف معاشی اصلاح کار(Reformer)کے طور پر کروایا گیا، لیکن حکومت سنبھالنے کے بعد اس نے ایک سخت گیر ڈکٹیٹر اور اسلام کے بدترین مخالف کا رُوپ دھار لیا۔ اس نے اپنی پارٹی Constitutional Democratic Rally (التجمع الدّستوری الدیماکریطی ) تشکیل دی اور باقی تمام سیاسی جماعتوں کو، خواہ وہ سیکولر تھیں یا اسلامی، دبا دیا۔
لبرل مزاج کی جو پارٹیز تھوڑی بہت سرگرم تھیں، وہ بھی حکومت کے تابع تھیں۔ اس روشن خیال اور مغرب پرست آدمی نے مذہبی، سیاسی، سماجی آزادیوں کو کچلا، پریس کا گلا گھونٹا اور اظہارِ رائے پر سخت قدغنیں لگائیں۔ ایک سخت، بدعنوان حکومتی نظام قائم کیا، جس میں بے جا نوازش اور اقربا پروری حکومتی روایت بن گئی۔ مرکزی حکومت ہی میں نہیں، چھوٹے شہروں کے بلدیاتی اور انتظامی اداروں میں بھی رشوت اور سفارش کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا تھا۔امریکا، فرانس اور دیگر یورپی ممالک اپنے اِس وفادار کے چلن دیکھ رہے تھے، لیکن کسی نے اُس کی مخالفت نہیں کی۔
1970 ء اور اس کے بعد کے عشرے میں اسلامی دنیا میں نئے فکری رجحانات متعارف ہو رہے تھے۔ روس کی افغانستان پر یلغار اور اس کے مقابلے میں جہادی گروہوں کی کام یاب مزاحمت نے اسلامی دنیا میں نئے عزائم کو جنم دیا تھا۔ ایرانی انقلاب کو بھی اسلامی تحریکیں اپنا آئیڈیل سمجھنے لگی تھیں۔ اِنہی دو عشروں میں تیونس کے اندر سوشلسٹ فکر کے کچھ سیاسی عناصر منظّم ہوئے۔
اُن کے مقابلے میں اسلامی فکر کے دانش وَروں کے ایک گروہ نے راشد الغنوشی کی قیادت میں’’حرکَۃُ الاِتجاہ الاسلامی‘‘ (Movement de la Tendance Islamique) کے نام سے ایک تنظیم قائم کی۔ یہی تنظیم آگے چل کر تیونس کی مضبوط اور منظّم سیاسی جماعت’’ النّھضۃ‘‘ کے نام سے سامنے آئی۔ زین العابدین بن علی نے اسلامی تحریک پر بہت سخت ہاتھ ڈالا۔ راشد الغنوشی، اخوان المسلمین کی فکر کے تحریکی رہنما ہیں۔ وہ حبیب بو رقیبہ کی حکومت میں بھی زیرِ عتاب رہے تھے۔ نئے آمر کا بھی خاص نشانہ بنے، جس پر انہیں برطانیہ میں جلاوطنی کی زندگی اختیار کرنی پڑی۔
2011ء میں ایک نئے ظاہرے (phenomenon) نے ساری عرب دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ زین العابدین بن علی کی حکومت میں کرپشن دارالحکومت ہی میں نہیں، چھوٹے قصبات میں بھی کلچر بن چُکی تھی۔ ایسے ہی ایک قصبے کی بلدیاتی مارکیٹ میں ایک خوانچہ فروش، طارق الطیب محمّد بو عزیزی نے اپنی ریڑھی لگائی ہوئی تھی۔ قصبے کی بلدیہ کی رشوت خور خاتون اہل کار نے بو عزیزی سے رشوت مانگی۔ وہ نہ دے سکا، تو اس خاتون نے اس کا ٹھیلا اُلٹ دیا اور اس کے منہ پر تھپڑ مارے۔
اپنی روزی کے وسیلے کی بربادی اور اپنی عزتِ نفس کی پامالی کو وہ مزدور برداشت نہ کر سکا اور اس نے اپنے آپ کو آگ لگا کر خود کُشی کر لی۔ اِس خود کُشی نے زین العابدین بن علی کے فاسد حکومتی نظام کی بنیادیں ہلا دیں۔ پورے مُلک میں احتجاج شروع ہو گیا اور اس نظام کے ستائے لوگ مظاہروں کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ جو چنگاری تیونس سے پھوٹی تھی، وہ طویل آمریّتوں کے ستائے مصری، شامی، یمنی اور دیگر کئی ممالک میں شعلہ بن کر پھیلی اور آمریّت کے بڑے بڑے پیڑ زمین بوس ہو گئے۔
زین العابدین بن علی نے طاقت سے ان مظاہروں کو دبانے کی کوشش کی، لیکن حالات قابو سے باہر ہو چُکے تھے۔ مُلک کا نظام درہم برہم ہو گیا اور اُس کے لیے مُلک سے فرار ہونے کے سِوا کوئی راستہ نہیں بچا، جس پر اُس نے سعودی عرب میں جا کر پناہ لی۔ مصر کے ڈکٹیٹر، حُسنی مبارک کو بھی اقتدار چھوڑنا پڑا اور یمن کا صدر، علی عبداللہ صالح بھی فرار ہو کر سعودی عرب میں پناہ گزین ہوا۔ اِس انقلابی لہر کو’’عرب بہار‘‘ کا نام دیا گیا۔
زین العابدین بن علی کا23 سالہ قصرِ اقتدار زمیں بوس ہوا اور ایک نئے عہد کا آغاز ہوا۔ شیخ راشد الغنوشی اپنی دس سالہ جلاوطنی ختم کر کے وطن واپس آ گئے۔ فوری طور پر کچھ دستوری انتظامات کیے گئے۔ طاقت کا توازن قائم کرنے کے لیے دستور میں ترمیم کی گئی۔ جامد مرکزیت اور بے تحاشا صدارتی اختیارات ختم کر کے ایک متحرّک، متوازن حکومتی نظام قائم کرکے نئے انتخابات کا ڈول ڈالا گیا۔
2014ء کے الیکشن میں’’ندا تیونس‘‘پارٹی کو85 اورشیخ راشد الغنوشی کی اسلامی جماعت’’النّہضۃ‘‘ کو69 نشستوں پر کام یابی حاصل ہوئی اور یہ بھی ثابت ہو گیا کہ عوام مُلک میں لادین آمریت نہیں، بلکہ اسلامی جمہوریت چاہتے ہیں۔ شیخ راشد الغنوشی پارلیمنٹ کے اسپیکر منتخب ہوئے۔ النّہضۃ کی اِس کام یابی پر امریکا اور اس کے اتحادی یورپی ممالک مضطرب ہو گئے۔
ان کی منافقت اور دُہرے معیارات کا یہ حال ہے کہ ووٹ کے ذریعے منتخب حکومت ہی ان کے نزدیک سندِ جواز رکھتی ہے، لیکن ووٹ اور آزادانہ انتخاب کے ذریعے اسلامی قوّتوں کا اقتدار میں آنا اُنہیں ہرگز گوارا نہیں۔ یہ بات پہلے 1991ء میں الجزائر کے معاملے میں ثابت ہو چُکی تھی، جہاں پہلے مرحلے میں اسلامک سالویشن فرنٹ بھاری اکثریت سے کام یاب ہوا تھا، پھر اگلے سال دوسرے مرحلے کے انتخابات ہونے تھے، جن میں کام یابی کے بعد فرنٹ کی حکومت قائم ہونے کے واضح امکانات تھے، لیکن امریکا اور مغربی قوّتوں نے الجزائری فوج کو آگے کیا، جس نے دوسرے مرحلے کے انتخابات سے پہلے اقتدار پر قبضہ کر کے مُلک کو خانہ جنگی کی آگ میں جھونک دیا۔یہی معاملہ2006ء کے انتخابات میں فلسطین میں پیش آیا تھا، جب حماس نے بھاری اکثریت سے انتخاب جیتا اور اسماعیل ہانیہ وزیرِ اعظم بنے۔
اُن کی حکومت کو اسرائیل، امریکا اور دیگر مغربی ممالک کے علاوہ مصر اور خلیجی عرب ممالک نے اپنے لیے خطرہ تصوّر کیا۔ خلیجی ممالک، فلسطین کو جو مالی مدد دیتے تھے، وہ بند کر دی گئی، مصر نے رکاوٹیں کھڑی کیں اور پی ایل او کے صدر، محمود عباس نے اپنا مکروہ کردار ادا کیا، جس کی وجہ سے پورے فلسطین میں حماس کی حکومت کے لیے کام کرنا ممکن نہ رہا۔ اِسی وجہ سے حماس نے غزہ میں اسماعیل ہانیہ کی وزارتِ عظمیٰ میں اپنی حکومت الگ قائم کی۔
تیونس میں صدر قیس سعید اکتوبر2019ء کو منصبِ صدارت پر فائز ہوئے۔اُن پر آمرانہ سوچ غالب آئی اور اواخر جولائی 2021ء میں پارلیمینٹ معطّل کر دی، وزیرِ اعظم کو معزول کر دیا گیا اور مُلک میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی۔ وہ مُلک کو جمہوریت اور قانون کی حُکم رانی سے ہٹا کر وہاں ایک تیسری آمریت کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ میڈیا کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے۔ حکومتی آمرانہ اقدامات پر اعتراض اور احتجاج کرنے والی اپوزیشن جماعتوں کے خلاف سخت کارروائیاں کی گئی ہیں۔ راشد الغنوشی، جن کی عُمر اِس وقت چوراسی سال ہے، ریاست کے خلاف سازش کے جھوٹے کیس میں جیل میں ڈال دیئے گئے ہیں۔
صدر قیس سعید آمرانہ طرزِ فکر و عمل اختیار کرتے ہوئے شاید بھول گئے کہ مُلک میں ایک ہی بوعزیزی نہیں تھا، جس نے خُود سوزی کر کے زین العابدین بن علی کی آمریت کی بنیادیں اکھاڑ دی تھیں۔ سوموار چار اگست کو عوامی جذبات کا لاوا پَھٹ پڑا اور ایک دَم ہزاروں لوگ’’آمریت مُردہ باد‘‘ کے نعرے لگاتے ہوئے قیس سعید کے نظام کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے۔ الجزیرہ نیٹ کی رپورٹ کے مطابق، وہ نعرے لگا رہے تھے کہ ’تیونسی جمہوریہ کو ایک بڑے قید خانے میں بدل دیا گیا ہے۔‘‘
وہ شیخ راشد الغنوشی اور’’آزاد دستوری پارٹی‘‘ (The Free Constitutional Party) کے لیڈر عبیر موسیٰ کے علاوہ درجنوں دیگر سیاست دانوں، وکلا، صحافیوں اور سیاسی کارکنوں کی رہائی اور جبری طور پر جلاوطن کیے گئے رہنماؤں کی واپسی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ آگے چل کر شاید حالات2011 ء کی طرح رُخ اختیار کرلیں کہ ایک اور’’عرب بہار‘‘ کے جھونکے چلنے لگیں اور تیونس کے قیس سعید کے علاوہ مصر کے السیسی کے قصرِ آمریت کو بھی لرزہ براندام کر دیں۔ (مضمون نگار، لگ بھگ 40 برس تک شعبۂ تعلیم سے وابستہ رہے۔ معروف مذہبی اسکالر اور کئی کتب کے مصنّف ہیں)