• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہر چند کہ گزشتہ برس بین الاقوامی سیاست میں پاکستان نے امریکا اور چین جیسی دونوں بڑی عالمی طاقتوں کے ساتھ اپنے تعلقات میں توازن پیدا کیا۔ اعلیٰ سطح کے دَوروں، اقتصادی تعاون نے ٹرمپ انتظامیہ اور پاکستان کے تعلقات میں نئی رُوح پھونکی، تو اسلام آباد اور بیجنگ کے مابین بھی تعلقات مزید مستحکم ہوئے۔ 

تاہم، سیاسی عدم استحکام، پالیسیز کے عدم تسلسل، غیر مؤثرطرزِ حُکم رانی اور بعض بین الاقوامی عوامل کے سبب داخلی سیاسی محاذ پر منفیت غالب رہی۔ سیاسی منظر نامے کے نمایاں واقعات پہ نظر دوڑائی جائے، تو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے ذریعے عسکری قیادت کو تاحیات تحفّظ دینے کے علاوہ آرمی چیف کے عُہدے کو ’’چیف آف ڈیفینس فورسز‘‘ میں بدل کر وسیع تر اختیارات دیے گئے، تو ساتھ ہی ’’عدلیہ کی تشکیلِ نو‘‘ کا بھی آغاز ہوا۔

دوسری جانب 26ویں آئینی ترمیم کے تحت بننے والے آئینی بینچز نے 2025ء میں مکمل فعال ہو کر کام شروع کر دیا، جس کے نتیجے میں سپریم کورٹ کے اختیارات تقسیم ہو گئے اور حکومت کو اپنی مرضی کے ججز کے ذریعے سیاسی فیصلے، جیسا کہ مخصوص نشستوں کا کیس، اپنے حق میں کروانے میں آسانی ہوئی۔

وفاق میں ایک دوسرے کی اتحادی جماعتوں، پاکستان مسلم لیگ (نون) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے مابین مالی بجٹ 2025-26ء اور پنجاب میں گورنر راج جیسے معاملات پر اختلافات پیدا ہوئے، تاہم صدرِ مملکت، آصف علی زرداری نے اپنی ’’مفاہمت کی سیاست‘‘ کے ذریعے اس اتحاد کو ٹوٹنے سے بچائے رکھا، جب کہ حکومت اور مقتدرہ بھی ’’ایک پیج ‘‘ پر رہے۔

پنجاب اور سندھ کے کچھ حلقوں میں ضمنی انتخابات کا انعقاد ہوا، جہاں حکومتی جماعتوں نے دھاندلی کے الزامات کے سائے میں برتری حاصل کی۔ علاوہ ازیں، حکومت نے انٹرنیٹ، سوشل میڈیا پر کنٹرول کے لیے ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کیا اور اس ضمن میں مُلک میں جدید فائر وال مکمل طور پر فعال کر دی گئی، جس سے نہ صرف’’ایکس‘‘ بلکہ ’’وی پی این‘‘ کے استعمال کو بھی محدود کردیا گیا۔ حکومت نے اسے ’’ڈیجیٹل دہشت گردی‘‘ کے خلاف دفاع قراردیا۔

سالِ رفتہ سابق وزیرِاعظم، عمران خان اور اُن کی جماعت، پاکستان تحریک انصاف کا مستقبل مزید غیر یقینی کی صُورتِ حال کا شکار ہوگیا کہ بانی پی ٹی آئی کے گرد گھیرا مزید تنگ کر دیا گیا۔ توشہ خانہ اور القادر ٹرسٹ کیس سمیت دیگر مقدمات کےعلاوہ ریاست کےخلاف اشتعال انگیزی کے جُرم میں سزائیں سُنائی گئیں، جب کہ عمران خان کی گرفتاری کے خلاف ریلیاں نکالنے اور مظاہرے کرنے پر مُلک بَھر سے پی ٹی آئی کے سیکڑوں کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔ 

دریں اثناء، مُلک کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کے اندرونی حلقوں میں قیادت کے حوالے سے اختلافات بھی کُھل کر سامنے آئے۔ اڈیالہ جیل سے آنے والی ہدایات اور بُشریٰ بی بی کے سیاسی کردار پر پارٹی دو دھڑوں میں مُنقسم نظر آئی، جس کا فائدہ حکومتی اتحاد نے اُٹھایا۔ پی ٹی آئی نے ’’فائنل کال‘‘ کے نام سے ایک سے زائد لانگ مارچ کیے، جنہیں اسلام آباد کے داخلی راستوں پر سخت سیکیوریٹی اور کنٹینرزکے ذریعے روکا گیا۔ 

دوسری جانب مفاہمت اور مذاکرات کی بجائے تصادم کی سیاست کو آگے بڑھانے کے لیے بانی پی ٹی آئی نے علی امین گنڈاپور کو ہٹا کر سُہیل آفریدی کو نیا وزیرِ اعلیٰ، خیبر پختون خوا بنا دیا، جنہوں نے اپنے منصب پر فائز ہونے کے بعد حکومت اور اسٹیبلشمینٹ کے خلاف سخت بیان بازی کی۔ تاہم، سال کے آخر تک پارٹی اس ضمن میں تذبذب کا شکار نظر آئی کہ سڑکوں پر احتجاجی سیاست اپنائی جائے یا مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے۔ 

نیز، پارٹی کو اپنے مطالبات پر بھی نظرِثانی کرنی پڑی۔ دوسری جانب فیصل آباد کی ایک عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے 196حامیوں کو مجرم قرار دیتے ہوئے ان میں سے قائدِ حزبِ اختلاف، عُمر ایّوب، 6ارکان قومی اسمبلی اور ایک سینیٹر کو 2023ء میں احتجاج کرنے پر 10سال تک قید کی سزا سنائی۔ نیز، سابق ڈی جی آئی ایس آئی، لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد 14سال قید بامشقّت کی سزا سنائی گئی۔

گزشتہ برس مُلک کو درپیش سیکیوریٹی چیلنجز اور بھارت کے خلاف کیے گئے ’’آپریشن بنیان مرصوص‘‘ اور مُلک کے مختلف حصّوں میں موجود دہشت گرد عناصر کے خلاف جاری ’’آپریشن عزمِ استحکام‘‘ نے بھی مُلک کی داخلی سیاست پر گہرے اثرات مرتّب کیے۔ 

دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کو توسیع دیتے ہوئے بلوچستان اور خیبر پختون خوا میں کالعدم تنظیموں کے خلاف بڑے پیمانے پر ٹارگٹڈ آپریشنز کیے گئے۔ حکومت نے ان آپریشنز کو معاشی استحکام اور سی پیک کی حفاظت کے لیے ناگزیر قرار دیا۔ علاوہ ازیں، افغان سرحد پر ہونے والی کشیدگی کے سبب پاکستان کے طالبان حکومت کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہوگئے اور اس دوران سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی اور مہاجرین کی واپسی کے معاملے پر سیاسی بحث جاری رہی۔

گزشتہ برس اکتوبر میں حکومت نے تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) پر انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت پابندی لگانے کی منظوری دی اور بعد ازاں وقتاً فوقتاً کالعدم ٹی ایل پی کے رہنماؤں اور کارکنوں نے جماعت سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے سیاست کو خیرباد کہنے کا اعلان کیا۔

2025ء کو افواجِ پاکستان کے سپہ سالار، چیف آف ڈیفینس فورسز، فیلڈ مارشل سیّد عاصم مُنیر کا سال قرار دیا جائے، تو ہرگز بےجا نہ ہوگا اور اُنہیں مقبولیت کی بلندیوں پر لے جانے کا کریڈٹ جاتا ہے، بھارتی پردھان منتری، نریندرا مودی کو۔ سانحۂ پہلگام کے ہنگام، بھارت نے 6اور 7مئی کی درمیانی شب، ’’آپریشن سندور‘‘ کے نام پر جس جارحیت کا ارتکاب کیا، وہ ایک خوف ناک جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔ 

اس سے پہلے اگلے مورچوں پر گولہ باری ہوتی تھی، کبھی جنگی جہاز فضائی حدود کی خلاف ورزی کیا کرتے تھے یا پھر بالاکوٹ میں مبیّنہ سرجیکل اسٹرائیک کرکے جنگی جنون کی پیاس بجھائی جاتی تھی، مگراِس قسم کی مُہم جوئی کے دوران دونوں ممالک کی طرف سے یہ اہتمام رہتا تھا کہ محاذ آرائی متنازع علاقوں تک محدود رہے اور مکمل جنگ کی نوبت نہ آئے۔ 

مثلاً، بالاکوٹ واقعے کے بعد پاک فضائیہ نے بھارتی فوج کے نوشہرہ بریگیڈ ہیڈ کوارٹر سے کچھ فاصلے پر بم گرائے اور وہاں موجود بھارتی آرمی چیف، جنرل بپن راوت کو نشانہ بنانے سے گریز کیا تاکہ کشیدگی ایک خاص حد سے آگے نہ بڑھے۔جب پاک فضائیہ کے ان جنگی جہازوں کی واپسی پر بھارتی طیّارے تعاقب کرتے ہوئے پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہوگئے اور اُنہیں تباہ کردیا گیا، تو محض 58گھنٹے بعد ہی بھارتی پائلٹ، ابھےنندن ورتمان کو واپس کردیا گیا تاکہ جوہری صلاحیت کے حامل دو ممالک کے درمیان جنگ کے امکانات کو کم کیاجا سکے، مگر اِس بار بھارت کی طرف سے ایسی واضح جارحیت کا ارتکاب کیا گیا، جس کی کوئی توجیہہ پیش نہیں کی جا سکتی۔ 

بھارتی وزارتِ دفاع کے مطابق، پاکستان میں 9مقامات پر حملہ کیا گیا اور پریس ریلیز میں اعتراف کیا گیا کہ کسی فوجی ہدف پر میزائل نہیں داغا گیا بلکہ عام افراد کو نشانہ بنایا گیا۔ بھارت نے جن علاقوں پر میزائل حملہ کیا، اُن میں کوٹلی، مظفرآباد، سیال کوٹ، شکر گڑھ، مریدکے اور بہاول پُور شامل ہیں۔ مساجد اور مدارس پر کیے گئے ان حملوں میں بےگناہ، نہتّےشہری شہید ہوئے۔

یعنی یہ کارروائی کسی متنازع علاقے تک محدود نہیں رہی بلکہ پاکستان کے مختلف شہروں پر حملہ کر کے دراصل طبلِ جنگ بجا دیا گیا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان حملوں کے جواب میں اَمرت سر، نئی دہلی اور دیگر بھارتی شہروں پر میزائلز برسائےجاتے، لیکن ریاستِ پاکستان نے ذمّےداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ’’آپریشن بنیان مرصوص‘‘ کے دوران صرف عسکری نوعیت کے اہداف کو نشانہ بنانے پر اکتفا کیا۔

اگر مودی جی پلواما میں پیراملٹری فورس پر حملے اور پہلگام میں سیّاحوں پر فائرنگ کے واقعات کے بعد پاکستان کے خلاف مُہم جوئی کی حماقت نہ کرتے، تو ہماری افواج کو مُلکی دفاع کےلیےخود کو سیسہ پلائی دیوار ثابت کرنے کا موقع میسّر نہ آتا اور دنیا کو بھی ہرگز علم نہ ہوتا کہ اس خطّے کے آسمانوں پر پاک فضائیہ کے شاہینوں کی اجارہ داری ہے اور اِسے بھارت سمیت کوئی چیلنج کرنے کی ہمّت نہیں کرسکتا۔ 

پوری دنیا متجسّس ہےکہ 6اور7مئی کی درمیانی شب پاک فضائیہ نےاپنےسےتین گُنا بڑے دشمن کو کیسے بدترین شکست سے دو چار کیا اور جدید ترین جنگی جہاز، رافیل سمیت بھارتی فضائیہ کے 7لڑاکا طیّارے مار گرانے کی اَن ہونی کیسے کر دکھائی؟ 

بالاکوٹ سرجیکل اسٹرائیک کے بعد جب پاکستان نے بھارت کے دو مِگ 21جنگی طیّارے مار گرائے اور بھارتی پائلٹ، ابھےنندن کو گرفتار کرلیا گیا، تو مودی نے کہا تھا کہ ’’اگر ہمارے پاس رافیل ہوتا، تو صُورتِ حال مختلف ہوتی۔‘‘ بھارتی فضائیہ پُراعتماد تھی کہ اِس بار فرانسیسی جنگی جہاز، رافیل اُن کے پاس ہیں، جنہیں ناقابلِ شکست تصوّر کیا جاتا ہے، مگر پاک فضائیہ نے اُن کا غرورخاک میں ملادیا۔ اس شب جو کچھ ہوا، وہ محض ایک فضائی جھڑپ نہیں تھی، بلکہ ایک دھماکا خیز انکشاف تھا، جس نے بھارت کی فضائی برتری کا وہ فسانہ قطعاً جھوٹا ثابت کر دیا، جو اُس کے مغربی حواریوں نے برسوں سے پھیلا رکھا تھا۔ بھارتی فضائیہ کئی دنوں سے تیاری میں مصروف تھی۔ 

تقریباً 180بھارتی طیّارے مغربی محاذ پر یلغار کو تیار تھے۔ ان کا مقصد واضح تھا، بالاکوٹ کی مُہم جوئی کودُہرانا، پاکستان کے دفاع کا خواب چکنا چُور کرنا اور اس خطّے میں اسٹرٹیجک برتری ثابت کر کے اپنی طاقت کی دھاک بٹھانا۔ رافیل کو، جس کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا تھا کہ اس کانشانہ کبھی نہیں چُوکتا، وارکرنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ رافیل طیّارے، جنہیں جدید جنگی جہاز F-35سے بھی زیادہ طاقت وَر سمجھا جاتا ہے، بےجان لاشوں کی طرح گرتے چلے گئے اور J-10C سے مات کھاگئے۔

تو کیا یہ ٹیکنالوجی کی برتری تھی؟ یہ تاثریک سَر غلط اور حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہے۔ کیا آپ کو 1965ء کی جنگ یاد نہیں؟ پاکستان کے پاس امریکی ساختہ پُرانے جنگی جہاز، F-86سیبر ہوا کرتے تھے، جب کہ بھارتی فضائیہ برطانیہ کے تیار کردہ جدید، ہاکر ہنٹر طیّارے اُڑا رہی تھی۔ عمومی تاثر تھا کہ پاک فضائیہ کے سیبر طیّارے بھارتی ہاکرہنٹرجہازوں کامقابلہ نہیں کر سکتے، مگر17روزہ جنگ کے دوران بھارت کے110نگی جہاز، جب کہ پاک فضائیہ کے 18لڑاکا طیّارے تباہ ہوئے۔

تب رُوس کے مِگ 21جدید ترین طیّاروں میں شامل ہوتے تھے، مگر پاک فضائیہ کے شاہینوں نے اسکواڈرن لیڈر، سیّد سجاد حیدر کی قیادت میں پٹھان کوٹ ایئربیس پر اُن بھارتی طیّاروں کو زمین ہی پر نیست و نابود کردیا۔ اگرکام یابی کا انحصار محض ٹیکنالوجی ہی پر ہوتا، تو بھارت کے پاس کس چیز کی کمی تھی؟ فرانسیسی ساختہ رافیل طیّارے، رُوس کا بنایا ہوا دفاعی نظام S-400اور اسرائیلی ڈرون طیارے HAROP۔ بہرحال، اس لڑائی کے نتیجے میں مغربی ٹیکنالوجی کی برتری کا سحر ضرور ٹوٹا ہے، فرانس کے دفاعی معاہدے خطرے میں پڑگئے ہیں اور چین کے تیارکردہ ہتھیاروں کی مانگ بڑھ گئی ہے،مگر یہ کارنامہ پاکستانی شاہینوں کے ہاتھوں سَرانجام پایا ہے۔ 

اب کھیل بدل چُکا ہے اور بھارت کی فضائی برتری کا خواب، 36رافیل طیّاروں کی خریداری، Spectra EW ریڈارز اور فرانسیسی انجینئرنگ پر مبنی نظام فضائوں میں بکھرگیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مودی جی کوجنگ بندی کے لیے سعودی عرب، ترکیہ اور امریکا سے رجوع کرنا پڑا، جب کہ دوسری جانب اپنے ہی نہیں، پرائے بھی ہماری دفاعی صلاحیتوں کے معترف ہوچُکے ہیں۔ آج اسلامی ممالک ہماری قوّت پر نازکررہے ہیں۔ سعودی عرب، پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدے پر دستخط کرچُکا، تو یہ وقت ہےخُود کو سنبھالنے کا۔ 

یہ موقع ہے، پاکستان کی معاشی مشکلات دُور کرنے، اپنی تقدیر بدلنے کا۔ مذکورہ بالا پاک، بھارت جنگ کے بعد برّی فوج کے سربراہ، جنرل سیّد عاصم مُنیرکو فیلڈ مارشل کے عُہدے پر ترقّی دے دی گئی اور پھر 27ویں آئینی ترمیم کے بعد آرمی چیف اور چیف آف ڈیفینس فورسز کے عُہدوں پر بیک وقت ازسرِ نو تعیّناتی سے فیلڈ مارشل عاصم مُنیر تینوں مسلّح افواج کے سربراہ بن چُکے ہیں۔

ہر معاشرے کو آگے بڑھنے کے لیے ہیرو اور وِلن درکار ہوتے ہیں، خواہ یہ کردار حقیقی ہوں یا پھر تخیّلاتی۔ سچ تو یہ ہے، ہمارے ہاں اکثر اوقات ہیرو کواُس کے اپنے ہی مداحوں کے شر سے بچانا ناگریز ہوجاتا ہے۔ شریف المجاہد اپنی تصنیف، ’’Quaid E Azam Jinnah‘‘ کے ابتدائیہ میں محمد علی جناحؒ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ایڈیسن کے مطابق، ہیرو کو بعض اوقات اس کے اپنے مداحوں سے نجات دلانا پڑتی ہے۔ 

اگر وہ ہیرو پہلے ہی فوت ہوچُکا ہو، تو اپنی قبر سے احتجاج نہیں کرسکتا۔ اگر ایسا ہو کہ اس کے چاہنے والے اُس سے وہ تمام باتیں منسوب کردیں، جنہیں وہ خود عزیز رکھتے ہیں یا اُس کی شخصیت کو اپنی اقدار اور جذبات کے مطابق ڈھالنےکی کوشش کریں۔ 

مزید برآں، کسی تاریخی شخصیت کے دوبارہ زندہ ہونے اور تاریخ کے وسیع منظرنامے میں اپنی جائز جگہ حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے اُس مشہور غلط فہمی کو دُور کیا جائے، جو اُس کے پُرجوش مداحوں نےدانستہ یا نادانستہ پھیلائی ہوتی ہے۔ ’’آپریشن بنیان مرصوص‘‘میں پاکستان کی فقید المثال کام یابی کے بعد افواجِ پاکستان کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم مُنیر کو بھی قومی ہیرو کا درجہ حاصل ہوگیا، مگر نہ جانے کیوں ہمیں ان کے مداحوں سے خوف آتا ہے۔

عمران خان تاحال قید ہیں، سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد 14سال قید بامشقّت کی سزا سنائی جا چُکی ہے، تو اب یوں محسوس ہوتا ہے، اس ہیرو کو اُن کے بدخواہوں سے نہیں، بلکہ خیرخواہوں سے بچانے کی ضرورت ہے۔ انہیں اپنے چاہنے والوں کے شر سے محفوظ رکھنا اور پرستاروں سے نجات دلانا بہت ضروری ہے تاکہ فیلڈ مارشل کے رینک کی طرح وہ تاحیات قوم کے ہیرو رہیں۔

سنڈے میگزین سے مزید