2025ء میں صوبۂ بلوچستان میں ایک مرتبہ پھر دہشت گردی کی لہر اُٹھی اور دہشت گردوں نے عام شہریوں، سیکیوریٹی فورسز اور سیاسی شخصیات پرمتعدّد حملے کیے۔ شدّت کا اندازہ اس بات سےلگایا جاسکتا ہےکہ خودکُش حملوں، بم دھماکوں، ٹارگٹ کلنگ اور فائرنگ کے مختلف واقعات میں سیکیوریٹی اہل کاروں سمیت 400افراد شہید اور 600سے زائد زخمی ہوئے۔ 2025ء میں 8 خود کُش حملے، 160بم دھماکے، 140دستی بم حملے، 40بارودی سُرنگ دھماکے اور 35راکٹ حملے ہوئے۔ آٹھ خود کُش حملوں میں سیکیوریٹی اہل کاروں سمیت 53افراد شہید اور 168افراد زخمی ہوئے۔
ان میں سے سردار اختر جان مینگل کی جماعت کے دھرنے اور جلسے پردو، جب کہ سیکیوریٹی فورسز پر 6خود کُش حملے ہوئے۔ 160سے زائد بم دھماکوں میں 110افراد شہید اور 270زخمی ہوئے۔ 140 سے زائد دستی بم حملوں میں 15افراد شہید اور 50زخمی ہوئے۔ بارودی سرنگوں کے 40دھماکوں میں 10 افراد شہید اور 30زخمی ہوئے، جب کہ35راکٹ حملوں میں 6 افراد شہید اور 20زخمی ہوئے۔
گزشتہ برس سیکیوریٹی فورسز کی جوابی کاروائیوں اور آپریشنز میں دو سو سے زائد عسکریّت پسند ہلاک ہوئے، جب کہ ٹارگٹ کلنگ اور فائرنگ کے مختلف واقعات میں سیکیوریٹی اہل کاروں، مسافروں، مزدوروں اور عام شہریوں سمیت 720 افراد جاں بحق اور پانچ سو افراد زخمی ہوئے۔
4 جنوری کو تُربت میں سیکیوریٹی فورسز کے قافلے پر خود کُش حملے میں پولیس اہل کاروں سمیت6افراد جاں اور 40زخمی ہوئے۔ یکم فروری کوقلات کے علاقے، منگوچر میں کالعدم تنظیم، بی ایل اے کے مسلّح دہشت گردوں نے ایف سی کے قافلے پرحملہ کیا، جس میں 18ایف سی اہل کار جاں بحق ہوئے۔ 14فروری کو ہرنائی کے علاقے، شاہرگ میں بارودی سُرنگ پھٹنے سے12کان کن جاں بحق اور6 زخمی ہو گئے۔
19فروری کو کوئٹہ سے پنجاب جانے والی ایک مسافر کوچ، مسلّح افراد نے بارکھان کے علاقے، رڑکن میں روک لی اور 7مسافروں کو شناخت کرنے کے بعد فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ 3مارچ کو قلات میں قومی شاہ راہ پر سیکیوریٹی فورسز کے قافلے پر ایک خاتون نے خودکُش حملہ کیا، جس میں ایک اہل کار جاں بحق، جب کہ چار زخمی ہوگئے۔ 11 مارچ کو بولان میں پنیر ریلوے اسٹیشن کے قریب کالعدم تنظیم، بی ایل اے کے مجید بریگیڈ کے مسلّح دہشت گردوں نے کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس پر حملہ کر کے ٹرین کو ہائی جیک کرلیا اور ٹرین کے چار سو مسافروں کویرغمال بنالیا۔
اس دوران مسافروں کے شناختی کارڈ اور سروس کارڈ چیک کیے گئے اور پھر ان پر گولیاں برسائی گئیں، جس کے نتیجے میں چُھٹی پر گھر جانے والے 18سیکیوریٹی اہل کاروں سمیت 26افراد جاں بحق اور 37 زخمی ہوگئے۔ اس الم ناک واقعے کے بعد سیکیوریٹی فورسز نے علاقے میں ہیلی کاپٹرز کی مدد سے آپریشن کرکے یرغمالیوں کو بازیاب کروایا۔ آپریشن میں 33حملہ آور ہلاک ہوئے۔ واضح رہے، یہ کسی مسافر ٹرین کو اغوا کرنے کا پاکستان میں پہلا اور ایشیا میں دوسرا واقعہ تھا۔ 16مارچ کو نوشکی میں ایف سی کے قافلے پر خود کُش حملے میں تین اہل کاروں سمیت پانچ افراد جاں بحق ہوئے۔
کوسٹل ہائی وے پر مسلّح افراد کی جانب سے ناکہ بندی کے دوران مسافر کوچ سے، پنجاب سے تعلق رکھنے والے پانچ مسافروں کو شناخت کے بعد اتار کر فائرنگ کر کے قتل کردیا گیا۔ 29مارچ کو مستونگ میں لک پاس کے مقام پر بی این پی کے دھرنے پر خود کُش حملےکی کوشش ناکام بنائی گئی۔ اس حملے میں دو پارٹی کارکنان زخمی ہوئے۔ 6مئی کو مچھ بولان میں سیکیوریٹی فورسز کی گاڑی کے قریب بم دھماکے میں پاک فوج کے سات جوان شہید ہوگئے۔
21مئی کو خضدار میں آرمی پبلک اسکول کی بس پر خودکُش حملے میں چار بچوں سمیت آٹھ افراد جاں بحق، جب کہ 39 بچّوں سمیت 53افراد زخمی ہوگئے۔ 10جولائی کو کوئٹہ سے پنجاب جانے والی مسافر کوچ کو کالعدم تنظیم کے مسلّح افراد نے ژوب سرہ ڈھاکا کے مقام پر روکا اور پنجاب کے شناختی کارڈز کے حامل 9مسافروں کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔ 16جولائی کو آواران میں دہشت گردوں سے فائرنگ کے تبادلے میں میجر رب نواز طارق شہید ہوگئے۔
اسی روز کراچی سے کوئٹہ آنے والی مسافر کوچ پرقلات کے قریب فائرنگ سے تین قوال جاں بحق اور 13مسافر زخمی ہوگئے۔ 18جولائی کو مستونگ میں بی سی پولیس کے قافلے پر فائرنگ سے ڈی ایس پی سمیت تین اہل کار شہید ہوئے۔ 19جولائی کو کوئٹہ میں مغربی بائی پاس پربم دھماکےمیں میجرمحمد انور کاکڑ شہید ہوگئے۔ 24جولائی کو مستونگ میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں میجر زید سلیم سمیت تین اہل کاروں نے جامِ شہادت نوش کیا۔
16اگست کو مستونگ میں سیکیوریٹی فورسز کی گاڑی پر بم دھماکے میں میجرمحمّد رضوان طاہر سمیت تین اہل کار شہید ہوگئے۔ 31اگست کو کوئٹہ میں ایف سی ہیڈ کوارٹرزپر خود کُش حملے میں تین ایف سی اہل کاروں سمیت 12افراد شہید ہوگئے، جب کہ فائرنگ کےتبادلےمیں خودکُش حملہ آور کے پانچ ساتھی بھی مارے گئے۔ 2ستمبر کو کوئٹہ کے شاہوانی اسٹیڈیم میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے جلسے کے اختتام پرخودکُش حملے میں 16افراد جاں بحق اور 33افراد زخمی ہوگئے۔ جلسےمیں سرداراخترجان مینگل اورمحمود خان اچکزئی سمیت دیگر سیاسی رہنما بھی شریک تھے، جوخوش قسمتی سےمحفوظ رہے۔ 15ستمبرکو تُربت میں سیکیوریٹی فورسز کی گاڑی کےقریب بم دھماکے میں کیپٹن وقار کاکڑ سمیت پانچ افراد شہید ہوگئے۔ 18ستمبر کو چمن میں افغان بارڈر کے قریب بم دھماکے میں پانچ افراد جاں بحق ہوئے۔
سالِ رفتہ، افغانستان کے بلوچستان سے متصل بارڈر پر واقع چمن، ژوب اور نوشکی میں افغان طالبان اور پاکستانی فورسز کے درمیان کئی جھڑپیں ہوئیں، جن میں 15 فوجی اہل کار اور 15 ایف سی کےجوان شہید ہوئے،جب کہ جوابی کارروائیوں میں متعدد حملہ آور مارے گئے۔
دسمبرمیں چاغی کےعلاقے، نوکنڈی میں کالعدم تنظیم، بی ایل ایف سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون زرینہ رفیق عرف ترانگ ماھو نے ایف سی کیمپ پر خودکُش حملہ کیا، جس میں پانچ اہل کار شہید ہوگئے۔ صوبے بَھر میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافےکے بعد حکومت نے رات کے وقت مسافر بسوں سمیت دوسری ٹرانس پورٹ چلانے اور سفر کرنے پر پابندی عائد کردی، جب کہ ان واقعات کے تناظر میں وزیرِاعلیٰ بلوچستان، سرفراز بُگٹی کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیموں نے فورسز سے زیادہ بے گناہ لوگوں کوشہید کیا اورریاست کوناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔ پاکستان کو توڑنے کی کوشش کرنے والوں کا ہر صُورت قلع قمع کریں گے۔
گزشتہ برس بلوچستان کے حوالے سے بعض حلقوں نےاس رائے کا اظہار بھی کیا کہ امریکا، بلوچستان کی معدنیات میں دِل چسپی لے رہا ہے اور ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ امریکا یہاں سرمایہ کاری میں دِل چسپی رکھتا ہے۔ متذکرہ حلقوں نے اِس ضمن میں امریکی وزیرِ خارجہ، مارکو روبیو کے اس بیان کا حوالہ دیا کہ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ واشنگٹن، پاکستان کے ساتھ اہم معدنیات اور ہائیڈروکاربن کے شعبے میں تعاون بڑھانے کا خواہاں ہے اور اقتصادی تعاون کے نئےشعبے تلاش کرنے کا منتظر ہے۔
دریں اثنا، وفاقی وزیرِ تجارت، میرجام کمال نے کہا کہ اسلام آباد امریکی کمپنیز اور کاروباری اداروں کو بلوچستان میں مقامی کمپنیز کے ساتھ مشترکہ منصوبوں کے ذریعےکان کنی اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرے گا اور مراعات بھی دے گا۔ گزشتہ برس ہی بلوچستان اسمبلی نے ’’مائنز اینڈ منرلز ایکٹ‘‘ کی بھی منظوری دی۔
گرچہ مذکورہ ایکٹ کی منظوری کے دوران اپوزیشن جماعتوں نے بھی حکومت کا ساتھ دیا، مگر ان اپوزیشن جماعتوں کی مرکزی قیادت کی جانب سے جب اس ایکٹ کی مخالفت کی گئی، تو میڈیا پر یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ جو جماعتیں مرکز میں بل کی مخالفت کررہی ہیں، انہی جماعتوں کے صوبائی ارکانِ اسمبلی نے بلوچستان حکومت کا ساتھ دے کراسے پاس کروایا۔
پھر جب تنقید بڑھی، تو جے یوآئی اور اے این پی نے اپنے اراکین کو نوٹسز جاری کردیے، جب کہ اس ایکٹ کے خلاف نواب زادہ حاجی لشکری رئیسانی سمیت مختلف قوم پرست اور مذہبی جماعتوں نے بلوچستان ہائی کورٹ میں آئینی درخواستیں دائر کردیں اور شدید مخالفت کے بعد 29ستمبر کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کے ازسرِنو جائزے کی قرارداد منظور کرلی گئی۔ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے لائی گئی اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ مذکورہ ایکٹ کاازسرِنو جائزہ لیا جائے اورایکٹ پرعمل درآمد روک دیا جائے، جس کے بعد مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 2025ء پر عمل درآمد کو ایک ایگزیکٹیو آرڈر کے ذریعے معطل کردیا گیا۔
گرچہ 2025ء میں بلوچستان کو وسائل کی کمی اور دہشت گردی سمیت دیگر دیرینہ چیلنجز کا سامنا رہا،اس کے باوجود کچھ مثبت تبدیلیاں بھی دیکھنےمیں آئیں۔ مثال کے طور پرمتعدد ترقیاتی منصوبوں میں پیش رفت ہوئی اورسب سے بڑھ کریہ کہ 20جنوری کونیوگوادر انٹرنیشنل ائیر پورٹ مکمل طورپرفعال ہوگیا۔ یہ منصوبہ تقریباً 266ملین امریکی ڈالرز کی لاگت سے تیار کیا گیا ہے۔ 4300 ایکڑ رقبے پر پھیلا یہ جدید ترین گرین فیلڈ ایئرپورٹ پاکستان کا سب سے بڑا ہوائی اڈا ہے، جہاں دنیا کےسب سےبڑے مسافر بردار طیّارے بھی با آسانی لینڈ کرسکتے ہیں۔
سالِ رفتہ، بلوچستان میں ٹریفک حادثات میں پانچ سو سےزائد افراد جاں بحق، جب کہ تقریباً دو ہزار زخمی ہوئے۔ ان میں سب سے زیادہ حادثات کوئٹہ، کراچی قومی شاہ راہ پر پیش آئے اور کوئٹہ، کراچی جیسی ’’خونی شاہ راہ‘‘ کی تعمیر اوراسے دو رویہ کرنے کے لیے بلوچستان ہائی کورٹ کے احکامات پر وفاقی حکومت نے فنڈز جاری کر کے اس پر کام بھی شروع کر دیا۔ بلوچستان میں کان کنی ایک بڑی صنعت ہے، مگر افسوس کہ اکیسویں صدی کے اس جدید دَور میں بھی یہاں انیسویں اور بیسویں صدی کے فرسودہ طریقوں سے کان کنی ہوتی ہے۔
کان کنی کے دوران کسی قسم کے حفاظتی اقدامات اختیار کیے جاتے ہیں اور نہ احتیاطی تدابیر کا خیال رکھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ برس مختلف واقعات میں 60سے زائد کان کن جاں بحق اور 30زخمی ہوئے۔ اسی طرح بلوچستان کے متعدّد علاقوں میں منشیات کی کاشت اوراسمگلنگ کے رجحان میں اضافہ دیکھنےمیں آیا۔ اس ضمن میں سالِ رفتہ رپورٹ ہونے والی کاروائیوں کے مطابق پندرہ ہزار کلو گرام سے زائد منشیات برآمد کی گئی، جس میں چرس، ہیروئن اورآئس شامل ہیں۔
تاہم، منشیات فروشی کے خلاف بڑی کاروائیوں میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ 5اگست کوحب کے علاقے، کُنڈ ملیر میں ایک کارروائی کے دوران چھے سو کلو گرام چرس، دو سو کلوگرام آئس اورغیرمُلکی شراب کی آٹھ ہزار بوتلیں برآمد کی گئیں، جن کی مجموعی مالیت 120ارب روپے بتائی گئی۔ اسی طرح گوادر میں کوسٹ گارڈز نے ایک کاروائی میں 1876کلوگرام چرس اور 105کلوگرام آئس سمیت ہیروئن اور افیون کی بڑی مقدار برآمد کی، جس کی عالمی مارکیٹ میں مالیت 134ملین ڈالرز سے زیادہ ہے۔
اسی طرح مختلف کارروائیوں میں اربوں روپے مالیت کی منشیات تو برآمد کی گئی، لیکن کوئی قابلِ ذکر گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ یاد رہے، اس وقت کوئٹہ شہرسمیت بلوچستان کے تمام اضلاع میں ہزاروں افراد منشیات کی لت میں مبتلا ہیں، جن میں نوجوان اور بچّے بھی شامل ہیں۔ بلوچستان میں بھنگ، چرس اور افیون کی بڑے پیمانے پر کاشت ہوتی ہے اور اس ضمن میں صوبے کے بعض اضلاع کافی مشہور ہیں، مگرحکومت اور انتظامیہ ان سماج دشمن عناصر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتی۔
گزشتہ برس وقتاً فوقتاً وزیرِاعلیٰ، سرفراز بُگٹی کی قیادت میں موجودہ مخلوط حکومت کی جانب سے صوبے میں وسیع تر اصلاحات اور گُڈ گورنینس کا دعویٰ تو کیا جاتا رہا، مگر صوبے کے دیرینہ مسائل اب بھی جُوں کے تُوں ہیں۔ صوبے کی ایک بڑی آبادی پینے کے صاف پانی کی قلّت اور صحت و تعلیم کے مسائل کا سامنا کررہی ہے۔
نومبر 2025ء میں سامنے آنے والے’’پاکستان پاپولیشن کاؤنسل‘‘ کے اس سروے کا ذکر مُلک بَھر کے میڈیا میں بڑے زور شور سے کیا گیا اور بلوچستان کے سیاسی حلقوں میں اس پربحث جاری ہے، جس کے مطابق مُلک بَھر کے 20ا ضلاع انتہائی پس ماندہ ہیں اور ان میں 17 اضلاع بلوچستان میں واقع ہیں۔
صوبے کی پس ماندگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہےکہ کئی علاقوں میں آبادی کا قریبی مراکزِ صحت سے فاصلہ 93کلو میٹر ہے اوران دُور دراز علاقوں کے مکینوں تک دَورِجدید کی سہولتیں پہنچانا نہایت مشکل امرہے۔ گرچہ بلوچستان کے عوام سے ہر دَورِ حکومت میں بہت سے وعدے کیےگئے اور پھر وعدہ خلافیاں بھی ہوئیں، مگر اس کے باوجود بلوچستان کے عوام مایوس نہیں۔ سو، ہم بھی یہ اُمید کرتے ہیں کہ نئےسال میں بلوچستان کےعوام کے دُکھوں اور تکالیف کامداوا ہوگا اور انہیں بھی مُلک کے باقی عوام کی طرح صحت، تعلیم، مواصلات اور زراعت کے جدید ذرائع میسر آئیں گے۔