• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہماری فتح کے انداز دُنیا سے نرالے ہیں...

2025ء میں پاکستان کی مسلّح افواج نے متعدد مواقع، بالخصوص مئی میں ہونے والی چار روزہ پاک، بھارت جنگ کے دوران اپنی دفاعی، حربی اور اسٹرٹیجک صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا، جب کہ فیلڈ مارشل، سیّد عاصم مُنیر مُلک کے پہلے چیف آف ڈیفینس فورسز بن گئے۔

گزشتہ برس کےآغاز میں فیلڈ مارشل نے فوجی مشقوں کے دوران پاک فوج کے افسران اور جوانوں کی جنگی صلاحیتوں اور پیشہ ورانہ مہارتوں کا مظاہرہ دیکھ کر مسرّت کا اظہار کیا اور میدانِ جنگ میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے پر زور دیا۔ سلِ رفتہ کی دوسری سہ ماہی میں اُنہوں نے بحرین کے کمانڈر نیشنل گارڈ، شیخ محمّد بن عیسیٰ بن سلمان الخلیفہ سے جی ایچ کیو میں خطّے کی بدلتی صُورتِ حال اور متعلقہ امور پر تبادلۂ خیال کیا اور پھر اپریل میں جمہوریہ ازبکستان کے نائب وزیرِ دفاع سے ملاقات کی۔

پاک آرمی: ہمیشہ کی طرح سالِ رفتہ بھی پاک فوج نےقومی وبین الاقوامی سطح پرکئی مشقوں میں حصّہ لیا۔ کھاریاں گیریژن میں آٹھویں بین الاقوامی پاکستان آرمی ٹیم اسپرٹ مقابلوں کا انعقاد کیا گیا۔60 گھنٹوں پر محیط اِن طویل مشقوں کا جائزہ لینے کے لیے فیلڈ مارشل، سیّد عاصم مُنیر نے خُود بھی شرکت کی۔ ان مشقوں میں پاک فوج کی ٹِیمز کے علاوہ پندرہ دوست ممالک کی ٹِیمز نے بھی حصّہ لیا۔ 

علاوہ ازیں، پاکستان ملٹری اکیڈمی نے ٹلہ فائرنگ رینج میں شان دار فائر پاور کا مظاہرہ کیا، جس میں پاک آرمی اور ایئرفورس سمیت مختلف ملٹری یونٹس نے حصّہ لیا، جب کہ کمانڈر سدرن کمانڈ اور ملتان کے کورکمانڈر، لیفٹیننٹ جنرل احسن گل ریز نے مظفّرگڑھ فیلڈ فائرنگ رینج میں منعقدہ آرمرڈ ڈویژن کی اعلیٰ ترین تربیت کے تسلسل کے عملی مظاہرے کا جائزہ لیا۔ ان مشقوں میں آرمرڈ، آرٹلری، ایئر ڈیفینس، انفینٹری، انجینئرز اور دیگر سروسز سمیت تمام فوجی یونٹس نے حصّہ لیا۔

اس موقعے پر کمانڈرز نے تمام فوجی یونٹس کی جنگی اہلیت کو سراہا اور ساتھ ہی خیرپور ٹامے والی رینجز میں اینٹی ٹینک گائیڈڈ میزائل کی تربیّتی مشقوں کا معائنہ اور میزائلز کی فائر پاور کا مشاہدہ بھی کیا۔ گزشتہ برس کی تیسری سہ ماہی کے آخر میں سی ڈی ایف فیلڈ مارشل، سیّد عاصم منیر نے ملتان گیریژن کا دورہ کیا اور پاکستان آرمی ایوی ایشنز میں Z-10ME اٹیک ہیلی کاپٹرکی شمولیت کی تقریب کی صدارت کی۔ 

یاد رہے، مذکورہ ہیلی کاپٹر جدید ترین الیکٹرانک وار فیئر سویٹس سے لیس ہے اور اس کی شمولیت سےپاک فوج کی دشمن کے خلاف بھرپور ردِعمل کی صلاحیت میں اضافہ ہوا۔ بعد ازاں، فیلڈ مارشل نے مظفّر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینج پر جاری مشقوں میں موجود کاپٹرز کے ذریعے فائرپاور کا مظاہرہ بھی دیکھا۔ 16 تا26 نومبر پاک، سعودیہ انسدادِ دہشت گردی کے سلسلے کی مشترکہ مشق ہوئی۔AI Battar-IIنامی یہ مشق سعودی عرب کے شہر، تبوک میں منعقد ہوئی، جس میں دونوں ممالک کی افواج نے آپریشنل ہم آہنگی اور مشترکہ استعدادِ کار کا مظاہرہ کیا۔

پاک بحریہ: 2025ء کے آغاز میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، جنرل ساحر شمشاد مرزا نے اور ماڑہ کے فارورڈ نیول آپریشنل بَیس کا دورہ کیا۔ اس موقعے پر اُنہیں دفاعی صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ کرکے دکھایا گیا۔ جنرل ساحر شمشاد مرزا نے آپریشنل تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔ 7سے 11فروری کے دوران بحیرۂ عرب میں ’’امن 2025ء فوجی مشقیں‘‘ منعقد ہوئیں، جس میں تقریباً 60ممالک کی بحری افواج، فضائی یونٹس، میرینز اور خصوصی فورسز نے شرکت کی اور اس مشق کو کثیر القومی بری تعاون اورسمندری سلامتی کے فروغ کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم قرار دیا گیا۔

فیلڈ مارشل نے ان مشقوں میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی اور پاکستان نیوی کی میزبانی اورپیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔ مارچ میں پاک بحریہ کا بحری جہاز، پی این ایس یرموک مشرقِ وسطیٰ میں منعقد ہونے والی نمائش (IDEX / NAVDEX 2025)میں شرکت کے لیے روانہ ہوا، تاکہ بالخصوص خلیجی ممالک کے ساتھ بڑھتی ہوئی نیول ڈپلومیسی کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔ 25نومبر کو پاک بحریہ نے مقامی ساختہ میزائل کا کام یاب تجربہ کیا۔ یہ میزائل سمندر اور زمین دونوں پر موجود اہداف کو اعلیٰ درستی کےساتھ نشانہ بنا سکتا ہے۔ اس کام یابی سے پاکستان نیوی کی سمندری دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔

پاک فضائیہ: فروری 2025ء میں سعودی عرب کے کنگ عبدالعزیز ایئربَیس پر منعقدہ مشق ’’امن 2025ء‘‘ میں پاک فضائیہ کے جنگی دستے نے شرکت کی، جس میں لڑاکا طیّارے، جے ایف 17تھری، پائلٹس اور تیکنیکی عملہ شامل تھا۔ اس موقعے پرپاک فضائیہ کےدستے نے فضائی مشقوں کے ذریعے بین الاقوامی ایئرفورسز کے ساتھ ہم آہنگی اور عملی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ 

اس مشق کومشترکہ تربیت اور بین الاقوامی تعاون کی مثال قرار دیا گیا۔ 2025ء کی پہلی سہ ماہی میں بنگلا دیش کی مسلّح افواج کے پرنسپل اسٹاف آفیسر، لیفٹیننٹ جنرل ایس ایم قمرالحسن نے ایک اعلیٰ سطح کےوفد کےساتھ ایئر فورس ہیڈ کوارٹرز، اسلام آباد میں ایئرچیف مارشل، ظہیراحمد بابرسدھو سے ملاقات کی۔

اس موقعے پر لیفٹیننٹ جنرل ایس ایم قمر الحسن نے برّی اور بحری فوج کے سربراہان سے بھی ملاقاتیں کیں۔ اس دوران بنگلادیشی وفد کی پاک فضائیہ کے جدید منصوبوں، ٹیکنالوجیز اورمقامی طور پر تیار کردہ تیکنیکی فریم ورک میں دِل چسپی پاک، بنگلادیش کی بڑھتی ہوئی دوستی کا مظہر ثابت ہوئی۔ سال کی دوسری سہ ماہی کے آغاز میں پاک فضائیہ کے سربراہ، ظہیر احمد بابر سدھو نے اومان کا دورہ کیا اور وہاں کی سِول اور عسکری قیادت سے نتیجہ خیز مذاکرات کیے۔ 

ایئرچیف مارشل نے اومان کے شاہی دفتر کے وزیر، جنرل سلطان محمد النہانی، اومان کی رائل ایئرفورس کے کمانڈر، ایئر وائس مارشل خامس حماد الخضری، وائس ایڈمرل عبداللہ خامس الرئیبی اوراومانی مسلّح افواج کے چیف آف اسٹاف اور وزارت کےسیکریٹری، ڈاکٹرمحمد النعمانی سے ملاقاتوں میں دفاعی تعلقات کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے کا عہد کیا۔ 

گزشتہ برس جدید ترین جے ایف 17تھنڈر بلاک 3اور دورانِ پرواز ایندھن بَھرنے والے آئی ایل 78اورC-130پر مشتمل پاک فضائیہ کے دستے نے برطانیہ کے میئر فورڈ بَیس پر منعقدہ ’’رائل انٹرنیشنل ایئر ٹیٹو2025ء‘‘ میں شرکت اور بےمثال کام یابی حاصل کی۔ جے ایف17تھنڈر بلاک 3نے اپنی غیرمعمولی کارکردگی اور شائقینِ ہوابازی میں وسیع پیمانے پر اپنی مقبولیت کی بدولت اعلیٰ ترین’’اسپرٹ آف دی میٹ‘‘کی ٹرافی حاصل کی۔

2025ء کی تیسری سہ ماہی میں پیپلز لیبریشن آرمی ایئرفورس کے چیف آف اسٹاف، جنرل وانگ گینگ کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطح کے دفاعی وفد نےپاک فضائیہ کے سربراہ سے ملاقات کی اور دو طرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے پاک فضائیہ کے ملٹی ڈومین آپریشنز کو خصوصی طور پر سراہا، جب کہ تُرکی کے وزیرِ دفاع، یاسر گلر نے بھی پاک فضائیہ کے سربراہ سے ملاقات کی اور پاکستان اور تُرکیہ کے مابین پائے دار روابط، مشترکہ اہداف اور تزویراتی ہم آہنگی پر زور دیا۔

ظہیر احمد بابر سدھو نے دسمبر میں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان، رسال پور میں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’پاک فضائیہ نے آپریشن بنیان مرصوص میں دشمن کو عبرت ناک شکست دی اور پاک فضائیہ ہمیشہ مُلکی سالمیت وخود مختاری کا تحفظ کرتی رہے گی ۔‘‘

معرکۂ حق، بنیان مرصوص : 27 فروری 2019ء کو جب پاک فضائیہ نے بھارتی فضائیہ کےدو طیّارے مار گرائے، تو اُس وقت کے بھارتی وزیرِاعظم نے اپنی خفّت مٹاتے ہوئے کہا کہ ’’اگر ہمارے پاس رافیل طیّارے ہوتے، تو نتیجہ مختلف ہوتا۔‘‘ اس سے پہلے 1965ء کی 17روزہ جنگ میں بھی پاک فضائیہ نے دشمن کے 104جہاز تباہ کیے تھے، جب کہ پاکستان کے صرف 19طیّارےکام آئے۔

2020ء میں بھارت نے 36 رافیل طیّاروں کا سودا 787بلین یورو یعنی تقریباً 5889کروڑ بھارتی روپوں میں کیا اور 5رافیل طیّاروں کی پہلی کھیپ جولائی 2020ء میں اُسے ملی۔ 18مارچ2021ء کو ایئرچیف مارشل، ظہیر احمد بابر سدھو نے پاک فضائیہ کی قیادت سنبھالی، تو پہلا کام یہ کیا کہ دشمن کے امکانی حملے کے پیشِ نظر چین کےجے 10سی طیّارے، جن پر پی ایل 15میزائلز نصب تھے، فضائی بیڑے میں شامل کیے، جب کہ جے ایف 17بلاک ٹُو اور جے ایف 17بلاک تھری کو اپ گریڈ کیا گیا۔

گزشتہ برس بھارت نے پہلگام میں دہشت گردی کا ڈراما رچانے کے دوسرے ہی روز جب سندھ طاس معاہدے پر عمل درآمد معطّل کرنےکا اعلان کیا، تو یہ بات واضح ہوگئی کہ وہ 2019ء کی طرح اس دفعہ بھی پاکستان پر حملے کا منصوبہ بنا چُکا ہے۔ لہٰذا، پاک فضائیہ نے 22اپریل ہی سے اپنے فضائی دفاعی نظام کو مکمل طور پر فعال کر کے، جنگی جہازوں کے فضائی گشت میں اضافہ کردیا۔ اس موقعے پر ایئربورن وارننگ اینڈ کنٹرول سسٹمز چوبیس گھنٹے فضائوں کی نگرانی میں مصروف تھے، جب کہ الیکٹرانک وار فیئر سے لیس جہاز بھی مسلسل گشت پر تھے۔

علاوہ ازیں، تمام سرحدوں پر زمین پرنصب فضائی دفاعی نظام کو بھی پوری طرح الرٹ کردیا گیا، جب کہ بھارتی طیّاروں سے متعلق گفتگو بھی ریکارڈ کی جا رہی تھی۔ یاد رہے، بھارتی فوج نے ’’آپریشن سندور‘‘ شروع کرنے سے پہلے ہی اپنے 425جہاز پاکستانی سرحد کے قریب جمع کردیے تھے، جن میں رافیل، ایس یو 30، میراج2000، مِگ 29، ایئر وارننگ اینڈ کنٹرول سسٹم، الیکٹرانک آلات سے لیس جہاز اور دوسرے جہازوں میں دورانِ پرواز ایندھن بھرنے والے جہاز شامل تھے۔

اس کےعلاوہ بھارت کےپاس 5رُوسی ساختہ فضائی دفاعی نظام S-400بھی موجود تھا، جن میں سے دو چین کی سرحدوں پر اور تین پاکستان کے بارڈرپر نصب کر دیے گئے تھے۔ ان میں سے ایک نئی دہلی، دوسرا آدم پور اور تیسرا بھوج پر نصب کیا گیا۔ آپریشن سندور شروع ہونے سے قبل بھارتی جہاز 6000 مرتبہ پاکستانی سرحد کے قریب پرواز کرچُکے تھے، جس سے ظاہر ہورہا تھا کہ وہ شمالی سیکٹر (آزاد کشمیر) اور وسطی سیکٹر (پاکستان کے شمالی علاقوں) پر حملے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس موقعے پر پاکستانی طیّاروں کی تعداد دشمن کے جنگی جہازوں کے مقابلے میں تین گُنا کم تھی۔

6 اور7 مئی کی شب ایک بج کر پانچ منٹ پر بھارت کے مختلف ایئر بیسز سے 72 جنگی طیّارے فضا میں بلند ہوئے۔ اُن میں سے 33رافیل جہاز تھےاور اُن کا رُخ پاکستان کی طرف تھا۔ ان کی پرواز کے پانچ منٹ کے اندر ہی ائیر چیف مارشل خُود آپریشن رُوم میں موجود تھے۔ اُنہوں نے اپنے مخصوص 42 جنگی جہازوں کو فضا میں پہنچنے کا حُکم دیا۔ دُنیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ 114جنگی طیّارے ایک دوسرے پر حملہ آور ہونے کے لیے پرتول رہے تھے۔ 

پاکستانی J-10C طیّارے 200کلومیٹر، جب کہ بھارت کے رافیل طیّارے 150کلو میٹر تک دیکھ سکتے تھے۔ ایک گھنٹے کے معرکے میں پاک فضائیہ نے بھارت کے 10جہازوں کو لاک کیا اور ان میں سے 7 مار گرائے۔ گرچہ دشمن کے باقی جہاز بھی تباہ کیے جاسکتے تھے، لیکن چوں کہ پاکستان جنگ کےدائرے کو بڑھانا نہیں چاہتا تھا، اِس لیے اُنہیں چھوڑدیا گیا۔ 

اپنے جنگی طیّاروں کی تباہی کے بعد بھارت نے اپنے جہاز پاکستانی سرحدوں سے 300کلومیٹر دُور کر دیئے اور ساتھ ہی 8 مئی کو ایک سو سے زائد اسرائیلی ساختہ ڈرونز لاہور، گوجرانوالہ، شور کوٹ، بُلہاری، چکوال، راول پنڈی، اٹک، بہاول پور، میاں والی اور کراچی کی طرف بھیجے، جن کو گرا دیا گیا۔ 

9 اور 10مئی کی شب بھارت نے پاکستان کے مختلف فوجی اڈّوں پر دُورمار میزائلز سےحملہ کیا، تو پاکستان نے’’بنیان مرصوص‘‘ نامی آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ الفتح سیریز کے ایف وَن اور ایف ٹو دُور مارمیزائلز اور پاک فضائیہ نے بھارت کے 27 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا اور ان تنصیبات کو بھی تباہ کردیا گیا کہ جو پاکستان کے معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہو رہی تھیں۔ خاص بات یہ ہے کہ بھارت کے رُوس سے خریدے گئے فضائی دفاعی نظام S-400کو بھی، جو آدم پور اور بھوج میں نصب تھے اور جن پر اُسے بڑا ناز تھا، تباہ کردیا گیا۔ علاوہ ازیں، اُڑی کے فیلڈ سپلائی ڈِپو اور پونچھ میں نصب ریڈار اسٹیشنز بھی تباہ کیے گئے۔

مئی 2025ء میں ہونے والے آپریشن، ’’بنیان مرصوص‘‘ کےحوالے سےیہ بتانا بھی ضروری ہے کہ پاکستان کی 3بندرگاہیں ہیں،جن میں سے دو سندھ اور ایک بلوچستان میں ہے، یعنی کراچی، بن قاسم اور گوادر بندرگاہ۔ گوادر بندر گاہ مُلک کی سب سے گہری بندرگاہ ہے اور پاکستان کی ساری تجارت ان تین بندرگاہوں کے ذریعے ہوتی ہے۔ پاک بحریہ کی بنیادی ذمّے داری ہے کہ دشمن ان بندرگاہوں کو کوئی نقصان نہ پہنچائے اوران کے دفاع کو یقینی بنایا جائے۔ علاوہ ازیں، پاک بحریہ کے پاس 5آب دوزیں ہیں اور اُن میں سے 3جنگ کے لیے نہ صرف تیارتھیں، بلکہ پانیوں میں مناسب مقامات پر بھی تعیّنات تھیں۔ 

پاک بحریہ نے’’ہنگور‘‘ کی مدد سے1971ءمیں بھارت کا ’’ککری’’ نامی جہاز غرقِ آب کیا تھا اور اب اُس کی جگہ 3آب دوزیں بھارت کے لیے بڑے خطرات کا پیش خیمہ تھیں۔ لہٰذا، دشمن کے جہاز کراچی کی جانب چند گز بڑھتے ہوئے بھی سو مرتبہ سوچتے ہوں گے۔ بھارتی ایئرکرافٹ کیریئر جہاز، ’’وکرانت‘‘ کی بھی بڑی دُھوم تھی، جسے بھارت نےخود 3ارب امریکی ڈالرز خرچ کرکے تیار کیا تھا۔

یہ 450 ٹن وزنی بحری بیڑا ہے، جس پر 30جنگی طیّارے با آسانی تعینات ہو سکتے ہیں، مگر جب 6 اور7مئی کی شب بھارتی فضائیہ کے 4 رافیل اور3 دیگر طیّارے پاک فضائیہ نے ڈھیر کر دیئے، تو ’’وکرانت‘‘ پاکستانی سمندری حدود میں داخل ہونےکی ہمت نہ کرسکا ورنہ ایک تارپیڈو ہی اُسے ڈبونے کے لیے کافی تھا۔ بعدازاں، ستمبر کے مہینے میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک تزویراتی معاہدہ طے ہوا، جس کے مطابق کسی ایک مُلک پرحملہ دونوں ممالک کے خلاف جارحیت تصوّر کیا جائے گا۔

سنڈے میگزین سے مزید