آبادی کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب، 2025ء میں بھی سیاسی اُتار چڑھاؤ اور قومی اہمیت کے حامل واقعات کا مرکز بنا رہا۔ عالمی بینک کے تازہ اعداد و شمار میں مُلک میں بے روزگاری اور غربت میں خطرناک اضافے کا انکشاف کیا گیا، تو اِس ذیل میں منفی رجحانات اِسی صوبے پر زیادہ اثر انداز ہوئے، جہاں 12کروڑ سے زائد افراد رہتے ہیں، جب کہ سیلاب کے بعد منہگائی کا زبردست ریلا بھی اِسی صوبے میں زیادہ نظر آیا۔
عوام کا پورا سال چینی کی قیمتیں کم ہونے کے انتظار میں گزرا، جو210روپے فی کلو سے بھی زیادہ پر فروخت ہوتی رہی۔ پنجاب حکومت نے لاتعداد منصوبوں کا اعلان کیا، لیکن عملی نتائج اُس حساب سے دیکھنے میں نہیں آئے۔ آٹے کی قیمتیں بھی بے قابو رہیں اور ایک مرحلے پر ٹماٹر500 روپے فی کلو کی حد چُھو گئے۔ یہی حال سبزیوں اور دیگر روزمرّہ استعمال کی اشیاء کا رہا۔ یوں کہا جاسکتا ہے کہ مجموعی طور پر عام آدمی کا پورا سال پریشانی ہی میں گزرا۔
2025ء میں پنجاب کی پہلی خاتون وزیرِ اعلیٰ، مریم نواز شریف دیگر صوبوں کے مقابلے میں میڈیا کے محاذ پر زیادہ سرگرم نظر آئیں۔ پورا سال نئے منصوبوں کی تشہیری مہم اخباری اشتہارات اور سپلیمنٹس کے ذریعے اِس قدر شدومد سے چلائی گئی کہ مخالفین کو ایک لحاظ سے تنقید کے لیے کُھلا میدان مل گیا۔ اِس ضمن میں ایک اشتہاری سپلیمنٹ میں وزیرِ اعلیٰ، مریم نواز شریف کی60سے زائد تصاویر کی اشاعت اور دورۂ جاپان خاص طور پر تنقید کا نشانہ بنے۔
اِسی طرح سیلاب کے دَوران بھی وزیرِ اعلیٰ کی اشتہاری مہم تنقید کا نشانہ بنی، یہاں تک کہ بعض اشتہاری مہمّات سوشل میڈیا پر سخت تنقید کے سبب روکنی بھی پڑیں۔ اِسی طرح الیکٹرانک میڈیا پر بھی وہ دیگر وزرائے اعلیٰ کے مقابلے میں نمایاں رہیں۔
بہرکیف، ان ترقیاتی منصوبوں کے کیا نتائج نکلتے ہیں، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا، لیکن اشتہارات کی حد تک پنجاب حکومت یہ تاثر دینے میں کام یاب رہی کہ صوبے کی پہلی خاتون وزیرِ اعلیٰ نے زندگی کا شاید ہی کوئی ایسا شعبہ چھوڑا ہو، جس میں عوام کے لیے فلاحی اقدامات نہ کیے گئے ہوں۔ تاہم، بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے ضمن میں عوام 2025ء میں بھی وہیں کھڑے دِکھائی دیئے، جہاں برسوں پہلے تھے۔ سالِ رفتہ میں صوبہ پنجاب نے اپنا زیادہ فوکس اقتصادی اور تعلیمی اقدامات پر مرکوز رکھا۔
اس سال5335ارب روپے کا ٹیکس فِری بجٹ منظور کیا گیا، جب کہ ہزاروں طلباء و طالبات میں لیپ ٹاپس تقسیم کیے گئے اور سَستے مکانات کی فراہمی کا منصوبہ بھی شروع کیا گیا۔ اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے بھرپور احتجاج کے باوجود صوبائی اسمبلی سے’’ لوکل گورنمنٹ بِل 2025ء‘‘ منظور ہوا۔ اِسی طرح پنجاب فرانزک اتھارٹی ایکٹ بھی منظور کیا گیا۔
پنجاب کے بجٹ میں ترقیاتی پروگرام میں مناسب اضافہ کیا گیا، تو تعلیمی پروگرام کے تحت 700اسکولز ہائیر سیکنڈری لیول تک اَپ گریڈ کیے گئے۔ اِس پروگرام کے تحت آئی۔ ٹی لیبز بنائی گئیں اور طلبہ کے وظائف کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا۔ 3 مرلہ ہائوسنگ اسکیم کے تحت بے گھر افراد کے لیے’’اپنی چھت، اپنا گھر‘‘ منصوبے کا آغاز ہوا۔ اِس بار پنجاب کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تن خواہوں میں10فی صد اضافہ کیا گیا۔
زراعت کے شعبے کے لیے مختص رقم میں گیارہ فی صد اضافہ ہوا۔ تاہم، صوبے کے کاشت کار مطمئن نظر نہیں آئے۔ اِس ضمن میں کسانوں کی تنظیموں کی جانب سے کئی بار احتجاج بھی کیا گیا۔ پنجاب میں کم از کم تن خواہ کی حد بھی بڑھا کر40 ہزار کردی گئی، لیکن اِس فیصلے پر عمل درآمد اِس اعتبار سے دیکھنے میں نہیں آیا کہ نجی کمپنیز کے بے شمار ملازمین کو آج بھی25,20 ہزار روپے تن خواہ دی جا رہی ہے اور پھر یہ بھی کہ ایک تو تن خواہ کئی کئی ماہ تاخیر سے ملتی ہے اور دوم، اُنہیں کسی بھی وقت محض زبانی احکامات کے ذریعے ملازمتوں سے فارغ کر دیا جاتا ہے۔
یوں کہیے، پنجاب حکومت غیر سرکاری ملازمین کی نوکریوں کے تحفّظ میں ناکام رہی۔ ویسے دیکھا جائے تو یہ صُورتِ حال صرف پنجاب تک محدود نہیں، بلکہ مُلک بھر کے ملازمین اِسی طرح کے عدم تحفّظ سے دوچار ہیں۔ کہنے کو تو کم از کم معاوضے کے قانون کا اطلاق انڈسٹریل اور کمرشل سیکٹر کے تمام ملازمین پر ہوتا ہے، لیکن حقیقتاً اِس پر عمل درآمد ہوتا نظر نہیں آ رہا کہ قوانین میں سقم اور متعلقہ اداروں کی مجرمانہ چشم پوشی یا گٹھ جوڑ ملازمین کے حقوق کی پامالی کے بڑے اسباب میں شامل ہیں۔
سیلاب کی تباہ کاریاں
اگست 2025ء میں پاکستان کے دیگر صوبوں کی طرح پنجاب کو بھی شدید ترین سیلاب کی تباہ کاریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ صوبے کے تین دریائوں ستلج، راوی اور چناب میں پہلے کبھی ایسی طغیانی نہیں دیکھی گئی، جو گزشتہ برس نظر آئی۔ صوبے میں سیلاب سے300 افراد جاں بحق اور50 لاکھ بے گھر ہوئے، جب کہ 28لاکھ افراد محفوظ مقامات تک منتقل کیے گئے۔
اگر زرعی نقصانات کی بات کریں، تو ایک اندازے کے مطابق 22لاکھ ہیکڑ زرعی زمین پر کھڑی فصلیں تباہ ہوئیں۔ بے گھر افراد کو بچانے اور محفوظ مقامات تک پہنچانے میں سرکاری اداروں بشمول افواجِ پاکستان نے اہم کردار ادا کیا، جب کہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب، مریم نواز شریف بھی متاثرہ علاقوں تک جا کر امدادی کارروائیوں کی نگرانی کرتی رہیں۔
پنجاب حکومت نے سیلاب زدگان کے لیے 100 ارب روپے کا پیکیج منظور کیا، جسے حزبِ اختلاف نے ناکافی قرار دیا، تو وفاق میں مسلم لیگ نون کی اتحادی جماعت، پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی امدادی رقوم کی تقسیم پر تحفظّات کا اظہار کیا۔
پیپلز پارٹی کا مطالبہ تھا کہ متاثرین کو بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام کے تحت امداد فراہم کی جائے، تاہم صوبائی حکومت نے اِس مطالبے یا تجویز سے اتفاق نہیں کیا۔ صوبائی حکومت کی جانب سے سیلاب متاثرین کو جو امداد فراہم کی گئی، اُسے اُنھوں نے اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف قرار دیا۔
خاص طور پر کسانوں کا کہنا تھا کہ اُن کا فصلوں کی تباہی سے لاکھوں روپے کا نقصان ہوا، جب کہ حکومت کی جانب سے محض چند ہزار روپے دئیے گئے ہیں، جن سے نقصانات کی تلافی تو الگ رہی، چند روز کا راشن تک خریدنا ممکن نہیں۔
سیلاب سے پنجاب کے جو سات اضلاع متاثر ہوئے، اُن میں لاہور، نارووال، قصور، سیال کوٹ، اوکاڑہ، فیصل آباد اور سرگودھا شامل ہیں۔ سیلاب سے سِکھوں کا مقدّس روحانی مقام، گوردوارہ دربار صاحب، کرتار پور بھی متاثر ہوا، جسے صوبائی اور وفاقی حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر کام کرکے بحال کیا۔
سِکھ کمیونٹی میں بھارت کے خلاف سخت اشتعال بھی دیکھا گیا، کیوں کہ صوبے کے دریاؤں میں طغیانی کا بڑا سبب بھارت کی جانب سے اچانک پانی چھوڑا جانا تھا۔ پنجاب میں سیلاب کی یہ تباہ کاریاں نئی نہیں۔ قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک مُلک میں سیکڑوں بار سیلاب آچُکے ہیں، جن کے نتیجے میں مُلک کو اربوں ڈالرز کا نقصان ہو چُکا، لیکن افسوس کہ کسی بھی حُکم ران نے ان سیلابوں پر قابو پانے کے لیے کوئی جامع حکمتِ عملی نہیں بنائی۔
حالیہ سیلاب کے دَوران بھی وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے صوبے میں درجنوں ڈیمز بنانے کا اعلان کیا، لیکن اِس سلسلے میں سال کے آخر تک کوئی واضح پیش رفت نظر دِکھائی نہیں دی۔ گزشتہ سالوں میں حکومتی حکمتِ عملی صرف عارضی اقدامات اور غیر مُلکی امداد کی اپیلز ہی تک محدود رہی، حالاں کہ چین، ہالینڈ اور دیگر ممالک بہتر حکمتِ عملی کے ساتھ اِس قدرتی آفت پر قابو پا چُکے ہیں اور میڈیا رپورٹس کے مطابق، اُن کی طرف سے یہ آفرز بھی موجود ہیں کہ سیلابوں پر قابو پانے کے لیے وہ ٹیکنیکل مشورے دے سکتے ہیں۔
محتاط اندازوں کے مطابق گزشتہ برس سیلاب سے مجموعی طور پر4 کھرب روپے سے زائد کا نقصان ہوا۔ ایک سرکاری رپورٹ میں سفارش کی گئی کہ مستقبل میں سیلاب کی تباہ کاریاں روکنے کے لیے جو بھی اقدامات کیے جائیں، اُن میں ماحولیاتی تبدیلیاں پیشِ نظر رکھی جائیں، کیوں کہ آنے والے دنوں میں اِن تبدیلیوں کے باعث سیلابوں کی تباہ کاریاں اُن سے کہیں زیادہ ہوں گی، جن کا ہم نے ابھی مقابلہ کیا ہے۔
سیاسی منظرنامہ
گو کہ پنجاب کی سیاسی صُورتِ حال بھی مختلف حوالوں سے سارا سال ہنگامہ خیز رہی، تاہم اسلام آباد اِن سیاسی سرگرمیوں کا اصل محور رہا۔ تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان سے ملاقاتوں، اُن کے بیانات، ایکس(ٹوئٹر) پر اُن کے پیغامات، عمران خان کی بہنوں کی اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو، خیبر پختون خوا کے نئے وزیرِ اعلیٰ، سہیل آفریدی کی عمران خان سے ملاقاتوں کی کوششیں،27ویں ترمیم سے متعلق حکومتی ارکان کی پسِ پردہ سرگرمیوں، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات اور اِسی طرح کی دیگر سرگرمیوں کے حوالے سے اسلام آباد توجّہ کا مرکز رہا، لیکن پنجاب کا صوبائی دارالحکومت، لاہور بھی مرکزِ نگاہ رہا، جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اسلام آباد کے ایوانِ اقتدار میں جو کچھ بھی ہوتا ہے، اُس کی ڈوریاں لاہور سے ہلتی ہیں۔
اِس کی ایک بڑی وجہ اڈیالہ جیل سے متعلق سرگرمیاں بھی رہیں، جہاں پی ٹی آئی کے بانی قید ہیں اور ہفتے میں دو بار وہاں ملاقاتیوں کا ہجوم لگتا رہا۔ چوں کہ یہ جیل پنجاب حکومت کے دائرۂ اختیار میں ہے، اِس لیے صوبائی حکومت بھی مخالفانہ بیانات کی زَد میں رہی۔
دوسری طرف، حزبِ اختلاف نے صوبائی اسمبلی میں بھی ماحول گرم رکھا، یہاں تک کہ بات کئی ارکانِ اسمبلی کی معطّلی تک بھی گئی، جب کہ حکومت کی جانب سے اپوزیشن کے کئی ارکان کو ہنگامہ آرائی کی بنیاد پر رُکنیت سے نااہل کروانے کی کارروائی کا اعلان کیا گیا، مگر پھر افہام و تفہیم سے معاملہ حل کرلیا گیا۔
پنجاب کی سیاسی صُورتِ حال میں تلاطم اُس وقت بھی پیدا ہوا، جب کالعدم تحریکِ لبیک کے کارکنان نے جلوس کی صُورت لاہور سے اسلام آباد جانے کی کوشش کی۔ یہ مظاہرین جب مریدکے میں جمع ہوئے، تو اُن کا پولیس سے تصادم ہوگیا۔ بعد ازاں، اِس ضمن میں سوشل میڈیا پر بہت سی خبریں اور افواہیں گردش میں رہیں، خاص طور پر اِس جماعت کے سربراہ کی پُراسرار گم شدگی معمّا بنی رہی۔
اِس واقعے کے بعد پنجاب کابینہ نے تحریکِ لبیک پاکستان پر پابندی لگانے کی سمری منظور کر کے وفاقی حکومت کو حتمی مظوری کے لیے بھیجی، جس پر وفاقی حکومت نے24 اکتوبر کو اِسے دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا۔ سال کے آخر میں’’لوکل گورنمنٹ بِل 2025ء‘‘ بھی بحث مباحثے کا موضوع بنا رہا۔ پنجاب حکومت نے اگرچہ غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کے انعقاد کا فیصلہ کیا، لیکن اس کے ساتھ چند شرائط اور دیگر قانونی موشگافیوں کی وجہ سے انتخابات کا انعقاد کھٹائی میں پڑا رہا۔
عام تاثر یہی ہے کہ پنجاب حکومت کو درپردہ یہ خوف ہے کہ کہیں دیگر سیاسی جماعتیں ان انتخابات کو ہائی جیک نہ کرلیں۔ یہی وجہ ہے کہ انتخابات کے انعقاد سے متعلق سال کے آخر تک کوئی ٹھوس پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ گزشتہ برس قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹ کی کئی نشستوں پر ضمنی انتخابات کا مرحلہ بھی پیش آیا، جس میں مسلم لیگ نون نے بھرپور کام یابی حاصل کی۔
یہ نشستیں پاکستان تحریکِ انصاف کے اُن ارکان کی نااہلی سے خالی ہوئی تھیں، جنہیں مختلف عدالتوں کی جانب سے نو مئی کے مقدمات میں سزائیں سُنائی گئیں۔ پی ٹی آئی نے اپنے بانی چئیرمین کی ہدایت پر محض لاہور کی ایک نشست پر الیکشن لڑا، جب کہ باقی حلقوں میں اُس نے امیدوار کھڑے نہیں کیے، تاہم لاہور کی نشست بھی مسلم لیگ نون نے جیت لی۔
مجموعی طور پر 2025ء ایک معمول کا سال رہا۔ تاہم، سال کے آخر میں کالعدم ٹی ایل پی کے پُرتشدّد مظاہروں اور اِس سے قبل تباہ کُن سیلاب نے اسے ایک غیر معمولی سال بنا دیا کہ اِن دونوں واقعات کے گہرے سائے 2026ء کے اُفق پر بھی منڈلاتے رہیں گے۔
آلودہ ، مگر’’ ستھرا پنجاب‘‘
پنجاب، کئی برسوں سے اسموگ اور فضائی آلودگی کے اعتبار سے دنیا بَھر میں سرِفہرست چلا آ رہا ہے اور گزشتہ برس بھی لاہور کے آلودہ ترین شہر ہونے کی خبریں میڈیا کا موضوع رہیں کہ نومبر، دسمبر میں یہ آلودگی ہر سال کی طرح اپنی انتہا پر پہنچ گئی۔ دنیا کا آلودہ ترین شہر قرار پانے کے بعد صرف ایک ہفتے میں19 ہزار افراد نے اسپتالوں سے رجوع کیا۔
پنجاب حکومت اگرچہ ہر سال دعویٰ کرتی ہے کہ’’اِس بار انتہائی مؤثر اقدامات کیے جائیں گے‘‘، لیکن 4ہزار سے زائد فیکٹریز کے دھویں، اینٹیں بنانے والے سیکڑوں بھٹّوں، لاہور میں60 لاکھ سے زائد گاڑیوں، فصلیں جلانے اور فضائی آلودگی کا سبب بننے والے درجنوں دیگر ذرائع کے سامنے بے بس ہو جاتی ہے۔ جہاں تک جرائم کا تعلق ہے، تو پنجاب حکومت کا بنایا ہوا ادارہ کرائم کنٹرول( CCD) پورے مُلک میں تنقید کا نشانہ بنا۔
سی سی ڈی کے تحت سیکڑوں افراد کی ہلاکتوں کی خبریں منظرِ عام پر آئیں، جن میں دُبئی سے انٹرپول کے ذریعے لائے گئے ایک اشتہاری طیفی بٹ کی ہلاکت کا واقعہ بھی شامل ہے، جو کراچی سے لاہور لے جاتے ہوئے راستے میں رحیم یار خان کے مقام پر ہلاک ہوا۔ اِسی دَوران ایک رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ پنجاب، خصوصاً لاہور میں مختلف اقسام کے جرائم میں اضافہ ہوا ہے، جب کہ شہری اسٹریٹ کرائمز سے پریشان رہے۔
پنجاب پولیس نے صوبے میں بڑھتے جرائم کی روک تھام کے لیے80نئے تھانے بنانے کا فیصلہ کیا۔کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ نے جنوری 2025ء سے دسمبر کے شروع تک500پولیس مقابلوں میں 670افراد کو ہلاک کیا۔ اِن پولیس مقابلوں پر ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے سخت تشویش کا اظہار کیا۔
وزیرِ اعلیٰ، مریم نواز نے’’ستھرا پنجاب‘‘ کے تحت صوبے بَھر میں تجاوزات کے خاتمے کے لیے بھرپور مہم کا آغاز کیا، جب کہ اِس دَوران گلی محلّوں کی صفائی ستھرائی پر بھی خصوصی توجّہ دی گئی۔ اِس ضمن میں بعض حلقوں نے تنقید بھی کی، مگر عوامی، حتیٰ کہ بین الاقوامی سطح پر بھی اُن کے اِس اقدام کو خوب سراہا گیا۔
اِسی طرح ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کے ضمن میں بھی پنجاب حکومت نے مؤثر اقدامات کیے، جس کے نتیجے میں ٹریفک مسائل میں خاصی کمی نوٹ کی گئی۔ دریں اثنا، وزیرِ اعلیٰ نے شہریوں کی جائیدادیں قبضہ مافیا سے واگزار کروانے کے لیے غیر روایتی طریقہ اختیار کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کو خصوصی ٹاسک دیا، جس سے عوام کو برسوں سے قبضہ شدہ جائیدادیں واپس ملنا شروع ہوئیں، مگر پھر لاہور ہائی کورٹ نے صوبائی حکومت کو اِس طرح کی کارروائیوں سے روک دیا۔