26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کی منظوری سے عدالتی نظام میں بڑی تبدیلیاں لائی گئیں۔ 26ویں آئینی ترمیم کے نتیجے میں سپریم کورٹ کا آئینی بینچ بنا، تو 27ویں آئینی ترمیم میں وفاقی آئینی عدالت قائم کر دی گئی، جسے مُلک کی سب سے بڑی عدالت کا درجہ حاصل ہوا اور سپریم کورٹ کا کام صرف ہائی کورٹ کے فیصلوں کے خلاف اپیلز سُننے تک محدود ہو گیا۔
سپریم کورٹ سے 22ہزارسے زائد کیسز وفاقی آئینی عدالت منتقل ہو گئے۔ آئینی ترمیم میں جوڈیشل کمیشن کو ہائی کورٹ کے ججز کو اُن کی مرضی کے بغیر کسی اور ہائی کورٹ منتقل کرنے کا اختیار بھی دے دیا گیا۔
سپریم کورٹ کے دو ججز، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے ستائیسویں آئینی ترمیم کو عدلیہ پر حملہ قرار دیا اور مستعفی ہوگئے۔ گزشتہ برس عدالتوں میں اہم کیسز زیرِ سماعت رہے، لیکن سب سے بڑا فیصلہ پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت کورٹ مارشل کارروائی کے نتیجے میں سامنے آیا۔
سابق ڈی جی آئی ایس آئی کو سزا: فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی، لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو سیاسی سرگرمیوں میں ملوّث ہونے، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی، اختیارات کے غلط استعمال اور متعلقہ افراد کو نقصان پہنچانے کے الزامات ثابت ہونے پر 14سال قید بامشقّت کی سزا سُنائی۔
سزا کا اطلاق 11دسمبر 2025ء کو فیصلہ سُنانے کے روز سے شروع ہوا۔ 12 اگست2024 ء کو ٹرائل شروع ہونے کے بعد سے وہ زیرِ حراست تھے، تاہم اِس عرصے کو سزا کی مدّت میں شامل نہیں کیا گیا۔
190ملین پاؤنڈ کیس اور توشہ خانہ کیس میں سزا: احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے 190ملین پاؤنڈز ریفرنس میں عمران خان کو14 سال قید بامشقّت اور10 لاکھ روپے جرمانہ، جب کہ بشریٰ بی بی کو7سال قید بامشقّت اور5لاکھ روپے جرمانے کی سزا سُنائی۔
عدالت نے القادر ٹرسٹ یونی ورسٹی کو حکومتی تحویل میں لینے کا حکم بھی دیا۔ علاوہ ازیں، اسپیشل جج سینٹرل اسلام آباد، شاہ رخ ارجمند نے توشہ خانہ ٹو کیس میں عمران خان اور اُن کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو مجموعی طور پر34سال قید اور 3کروڑ 28 لاکھ 51 ہزار 300 روپے جرمانے کی سزا سُنائی۔
جسٹس جہانگیری بطور جج نااہل قرار: اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں ڈویژن بینچ نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی بطور جج تعیّناتی غیر قانونی قرار دی۔
عدالت نے فیصلے میں کہا لکھا کہ طارق جہانگیری جب ایڈیشنل جج بنے اور جب مستقل ہوئے، تو وہ ایل ایل بی کی درست اور قابلِ قبول ڈگری کے حامل نہیں تھے۔ وہ وکیل اور جج بننے کے اہل ہی نہیں تھے۔ اس سے قبل ڈویژن بینچ نے جسٹس جہانگیری کو اسی کیس میں جوڈیشل ورک سے روکا، تو سپریم کورٹ نے وہ آرڈر معطّل کرتے ہوئے اُنہیں عدالتی کام کرنے کی اجازت دے دی تھی۔
عمران خان کی ضمانت: سپریم کورٹ نے 9مئی کے8مقدمات میں بانی پی ٹی آئی، عمران خان کی ضمانت منظور کی۔ تاہم،وہ 190ملین پاؤنڈ کیس میں سزا معطّل نہ ہونے کے باعث جیل سے باہر نہ آسکے۔
آئینی ترمیم کیس: 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف سپریم کورٹ میں 37 درخواستیں دائر کی گئیں، جو آئینی ترمیم کے بعد وجود میں آنے والے آئینی بینچ کے سامنے ہی مقرّر ہوئیں۔ درخواست گزاروں نے سماعت کے لیے فُل کورٹ بنانے کی استدعا کی، تاہم آٹھ رُکنی آئینی بینچ نے سماعت جاری رکھی۔
سماعتیں جاری تھیں کہ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد آئینی بینچ ختم ہوگیا اور وفاقی آئینی عدالت کا قیام عمل میں آگیا۔یوں آئین کی تشریح سے متعلق کیسز سپریم کورٹ سے وفاقی آئینی عدالت منتقل کر دیئے گئے۔
ججز ٹرانسفر کیس: وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائی کورٹ سے جسٹس سرفراز ڈوگر، سندھ ہائی کورٹ سے جسٹس خادم سومرو اور بلوچستان ہائی کورٹ سے جسٹس محمّد آصف کے اسلام آباد ہائی کورٹ تبادلے کے خلاف درخواستیں سپریم کورٹ کے آئینی بینچ سے مسترد ہونے کے فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواستیں بھی عدم پیروی پر خارج کر دیں۔ سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نے تین ججز کا تبادلہ آئین کے مطابق درست قرار دیا تھا، جس کے خلاف پانچ ججز نے نظرِثانی درخواستیں دائر کی تھیں۔
مخصوص نشستیں کیس: سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ ارکان قومی وصوبائی اسمبلی کی تعداد کی بنیاد پر خواتین اور اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں کے کیس میں نظرِثانی درخواستوں کا فیصلہ دیا کہ عدالت کو آئین دوبارہ لکھنے کا اختیار نہیں۔ حقائق کے تناظر میں آئین کے آرٹیکل 187 کا استعمال نہیں کیا جا سکتا تھا کہ مکمل انصاف کے نام پر اُسے ریلیف نہیں دیا جاسکتا، جو فریق ہی نہ ہو۔
سویلینز کا فوجی عدالت میں ٹرائل: سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے قرار دیا کہ شہریوں کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمہ چلایا جاسکتا ہے۔ پی ٹی آئی کارکنان کی 9مئی کی مبیّنہ دہشت گردی اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوّث سویلین ملزمان کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیلز منظور کر لی گئیں۔
آئینی بینچ نے فوجی عدالتوں میں سویلین ملزمان کے ٹرائل سے متعلق آرمی ایکٹ کی شقیں دوبارہ بحال کردیں اورسویلین ملزمان کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمات چلائے جانے کے قانون کو درست قرار دیا۔
ارشد شریف قتل کیس: وفاقی آئینی عدالت نے صحافی ارشد شریف کے قتل پر تحقیقات سے متعلق پیش رفت رپورٹ طلب کی اور عدالتی دائرۂ اختیار پر معاونت کی بھی ہدایت کی۔ جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے۔’’بتایا جائے، قتل کے ذمّے داران کو کٹہرے میں لانے کے لیے قانونی طور پر کیا ہو سکتا ہے؟‘‘
یہ کیس سپریم کورٹ سے آئینی عدالت منتقل کیا گیا تھا۔ دوسری جانب، اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس انعام امین منہاس نے صحافی ارشد شریف کے کینیا میں قتل کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی درخواستیں معاملہ سپریم کورٹ میں زیرِ التوا ہونے پر نمٹا دیں۔
جیل میں قیدیوں کی سیاسی گفتگو پر پابندی بحال: اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، سردار محمّد سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں لارجر بینچ نے جیل میں قیدیوں کی سیاسی گفتگو پر پابندی کا قانون کالعدم قرار دینے کا عدالتی فیصلہ معطّل کر کے جیل میں قیدیوں کی سیاسی گفتگو پر پابندی کا قانون بحال کر دیا، جب کہ بانی پی ٹی آئی سے جیل ملاقاتوں کے معاملے پر سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو ہدایت کی کہ24 مارچ کے عدالتی فیصلے پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ 24مارچ کو عدالت نے درخواست گزاروں کو ایس او پی کے مطابق بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی مشروط اجازت دیتے ہوئے جیل کے باہر ملاقاتیوں کی میڈیا ٹاک پر پابندی عائد کی تھی۔
کم عُمری کی شادی جرم، شریعت میں باطل نہیں: اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس، محمّد اعظم خان نے15 سالہ لڑکی کو اپنے شوہر کے ساتھ رہنے کی اجازت دے دی۔ عدالت نے کہا۔’’کم عُمری کی شادی شریعت میں باطل نہیں، مگر قانون کے تحت جرم ہے۔‘‘ عدالتی فیصلے میں سفارش کی گئی کہ شادی، نابالغی اور فوج داری قوانین میں ہم آہنگی پیدا کی جائے۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس: اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس، ارباب محمّد طاہر کی سربراہی میں لارجر بینچ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی صحت اور وطن واپسی کے کیس کی سماعت کی۔اِس سے پہلے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان اِس کیس کی سماعت کر رہے تھے، جنہوں نے وزیرِاعظم سمیت کابینہ ارکان کو توہینِ عدالت کے نوٹس جاری کر دیئے تھے۔
جسٹس سردار کو ٹیکس کیسز سُننے والے ڈویژن بینچ میں شامل کر کے سنگل بینچ کے کیسز واپس لے لیے گئے، جس کے بعد یہ کیس جسٹس انعام امین منہاس کے پاس مقرّر ہوا اور اُنہوں نے کیس میں ماسٹر آف روسٹر کے تعیّن کے لیے لارجر بینچ کی تشکیل کے لیے معاملہ چیف جسٹس کو بھجوا دیا۔
چیئرمین پی ٹی اے کی برطرفی کا فیصلہ: اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار نے چیئرمین پی ٹی اے، میجر جنرل ریٹائرڈ حفیظ الرحمان کو برطرف کرنے کا فیصلہ سُنایا، جس کے خلاف پی ٹی اے، وفاق اور میجر جنرل ریٹائرڈ حفیظ الرحمان کی انٹرا کورٹ اپیلز یک جا کر کے سماعت کرتے ہوئے جسٹس محمّد آصف اور جسٹس انعام امین منہاس پر مشتمل ڈویژن بینچ نے ابتدائی دلائل سُننے کے بعد سنگل بینچ کا فیصلہ معطّل کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی اے کو عارضی طور پر عُہدے پر بحال کر دیا اور درخواست گزار اسامہ خلجی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔
عمران خان پیرول رہائی درخواست: بھارتی حملوں کے بعد وزیرِ اعلیٰ کے پی کے، علی امین گنڈا پور نے عمران خان کی پیرول پر رہائی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی کہ پاکستان کو بھارتی حکومت کی جانب سے جارحیت کا سامنا ہے، مختلف شہروں پر ڈرون حملوں سے بانی پی ٹی آئی کی جان کو جیل میں خطرہ ہے۔ مودی سینٹرل جیل، اڈیالہ کو بھی ڈرون حملے کے لیے اہم ٹارگٹ کے طور پر دیکھ سکتا ہے۔ تاہم، رجسٹرار آفس نے درخواست متعدّد اعتراضات عائد کر کے واپس کر دی۔
پیکا ایکٹ کیس: اسلام آباد ہائی کورٹ نے متنازع پیکا قانون کے تحت صحافیوں کے خلاف مقدمات کے اندراج اور تادیبی کارروائی روکنے کے لیے فوری حکمِ امتناع کی استدعا مسترد کر دی۔ جسٹس راجا انعام امین منہاس نے ریمارکس دیئے کہ اِس قانون کو پارلیمنٹ نے پاس کیا ہے، یہ صحیح ہے یا غلط، جوڈیشل ریویو میں اسے دیکھیں گے، پہلے وفاق سمیت دیگر فریقین کے جواب آنے دیں۔
توہینِ عدالت کیس: اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار نے ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹس اور ڈائریکٹر نیب کو توہینِ عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کیا، جسے چیف جسٹس، سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں ڈویژن بینچ نے معطّل کر دیا۔
جسٹس بابر ستار نے ڈویژن بینچ کی جانب سے عبوری آرڈر معطّل ہونے کے باوجود سماعت کر کے آرڈر جاری کیا، تو چیف جسٹس نے8صفحات کا نیا حُکم نامہ بھی معطّل کرتے ہوئے کہا۔ ’’توہینِ عدالت نوٹس معطّل کیا ہوا ہے، پٹیشن میرے پاس ڈویژن بینچ میں کلب ہے، ان کے پاس تو کیس ہی نہیں، پھر وہ آرڈر کیسے پاس کر سکتے ہیں۔‘‘ بعدازاں، جسٹس بابر ستار سے سنگل بینچ کیسز واپس لے لیے گئے۔
خاکروب کے لیے صرف مسیحی ہونے کی شرط ختم: اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس انعام امین منہاس نے خاکروب کی اسامیوں پر بھرتی کے لیے’’مسیحی‘‘ کا لفظ لکھنے پر پابندی عائد کرتے ہوئے’’شہری‘‘ لکھنے کا فیصلہ سُنایا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ سیوریج ورکرز کو زہریلی گیسز اور جان لیوا ماحول میں بغیر حفاظتی انتظامات کے چھوڑ دینا سنگین غفلت ہے، اُنہیں مکمل حفاظتی سامان اور سہولتیں فراہم کی جائیں۔
ٹیکس کیسز: اسلام آباد ہائی کورٹ نے600 ارب روپے سے زائد کے ٹیکس کیسز نمٹا دیئے۔ جسٹس محمّد اعظم خان اور جسٹس انعام امین منہاس پر مشتمل خصوصی ڈویژن بنچ نے 424ارب روپے کے ٹیکس کیسز نمٹائے۔
جسٹس بابر ستار اور جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان پر مشتمل ڈویژن بنچ نے 150ارب روپے کی ٹیکس ریکوری کے94مقدمات نمٹائے۔ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس انعام امین منہاس نے 36 ارب روپے کے ٹیکس کیسز پر حکمِ امتناع ختم کیا۔
وزیرِاعظم کا ہرجانہ کیس: وزیرِاعظم شہباز شریف، عمران خان کے خلاف 10ارب روپے ہرجانہ کیس میں وڈیو لنک کے ذریعے لاہور کے سیشن کورٹ میں پیش ہوئے اور عدالت سے استدعا کی کہ عمران خان نے پاناما کیس واپس لینے کے لیے10 ارب کی پیش کش کا الزام لگایا، ہرجانے کا دعوی کیا، تو عمران خان بار بار وکیل بدل کر کارروائی مؤخر کرواچکے ہیں، کیس کی سماعت آگے بڑھائی جائے تاکہ مقدمہ منطقی انجام تک پہنچے۔پی ٹی آئی کے وکیل نے وزیرِاعظم پر جرح مکمل کی۔
9 مئی کیسز میں سزائیں: فیصل آباد کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے9 مئی کے 3مقدمات میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عُمر ایوب، سینیٹ میں قائدِ حزب اختلاف شبلی فراز، رُکن قومی اسمبلی زرتاج گل اور صاحب زادہ حامد رضا سمیت 196رہنماؤں اورکارکنان کو 10-10سال تک قید کی سزائیں سُنائیں۔
لاہور اور سرگودھا کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے 9مئی کیسز میں پی ٹی آئی رہنماؤں یاسمین راشد، محمود الرشید، اعجاز چوہدری، سرفراز چیمہ، پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر احمد بھچرسمیت 44ملزمان کو 10,10 سال قید کی سزا سُنائی۔ دریں اثنا، انسدادِ دہشت گردی عدالت نے 9مئی کے گلبرگ مقدمے میں یاسمین راشد، محمود الرشید، عُمر سرفراز چیمہ اور دیگر کو دس، دس سال قید کی سزا سُنائی۔
یوٹیوبر، ڈکی بھائی کیس: پاکستانی یوٹیوبر، سعد الرحمان عرف ڈکی بھائی کو غیر قانونی جوئے کی ایپس کی تشہیر کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا، جنہوں نے ضمانت پر رہائی کے بعد نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن اتھارٹی (این سی سی آئی اے) کے افسران پر تشدّد اور رشوت مانگنے سمیت دیگر سنگین الزامات عائد کیے۔
جج کے کم عُمر بیٹے کی حادثہ کیس میں ضمانت: اسکوٹی پر گھر جاتی دو لڑکیاں ریڈ زون میں گاڑی کی ٹکر سے جاں بحق ہو گئیں۔ گاڑی اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محمّد آصف کا کم عُمر بیٹا، ابو ذر چلا رہا تھا، جس کے پاس شناختی کارڈ اور ڈرائیونگ لائسنس بھی نہیں تھا۔
پولیس نے تھانہ سیکرٹریٹ میں مقدمہ درج کر کے ملزم کو گرفتار کیا اور عدالت میں پیش کر کے چار دن کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا۔ حادثے میں جاں بحق لڑکیوں کے اہلِ خانہ کی جانب سے فی سبیل اللہ معافی کا بیان دیا گیا۔
وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت کے اہم فیصلے: وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت (فوسپاہ)،فوزیہ وقار نے گزشتہ برس اہم فیصلے دیئے۔1425 شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے75 فی صد کیسز نمٹا دیئے گئے۔ زچگی کی چھٹی کے دَوران خاتون کی نوکری سے برطرفی صنفی امتیاز قرار دیتے ہوئے نجی کمپنی پر10لاکھ روپے جرمانہ اور خاتون کو ملازمت پر بحال کرنے کا حکم دیا۔
وفاقی اردو یونی ورسٹی کے وائس چانسلر کے خلاف شکایت کا فیصلہ سُنایا کہ آفس میں خواتین سے متعلق تضحیک آمیز اور متعصّبانہ جملے بولنا بھی ہراسگی کے زمرے میں آتا ہے۔ فوسپاہ نے 11کروڑ کی مشترکہ جائیداد سے محروم خاتون کو سابق شوہرسے حق دِلوایا۔