گزشتہ کئی برسوں کی طرح 2025ء میں بھی اسلامی ممالک میں بےامنی، عدم استحکام اور کشت وخُوں کا سلسلہ جاری رہا۔ سالِ رفتہ تقریباً 15ہزار فلسطینی مسلمان اسرائیلی دہشت گردی کے نتیجے میں شہید ہوئے، جب کہ اسرائیل نے ایران، یمن اور لبنان پربھی حملے کیے۔
دوسری جانب سوڈان میں بھی دو متحارب گروپس کے درمیان مسلّح تصادم جاری رہا، جب کہ انڈونیشیا میں انتخابات کے نتیجے میں نئےصدر کے انتخاب کے بعد معاشی عدم استحکام کا سلسلہ تھم گیا۔ نیز، بنگلا دیش میں بھی عبوری حکومت مختلف بُحرانوں پر قابو پانے میں کام یاب رہی۔ ذیل میں مسلم دُنیا کے، سالِ رفتہ کے اہم حالات و واقعات کا ذکر پیشِ خدمت ہے۔
فلسطین: عالمی طاقتوں کی موجودگی میں ہونے والے امن معاہدے کے باوجود اسرائیلی جنگی جنون کو لگام نہ ڈالی جا سکی۔ اِس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 19جنوری 2025ء کو ہونے والی عارضی جنگ بندی اُس وقت ختم ہوگئی کہ جب اسرائیلی فوج نے رات کے وقت اچانک غزہ پر بم باری شروع کردی، جس کے نتیجے میں 855سے زائد فلسطینی شہید اور 1,869سے زیادہ زخمی ہوگئے، جن میں خواتین اور بچّے بھی شامل تھے۔
گزشتہ برس اسرائیلی افواج نے سال بَھر غزہ کی شہری تنصیبات، رہائشی علاقوں، فوجی و سول انفرااسٹرکچر سمیت اسپتالوں اور درس گاہوں کو نشانہ بنایا۔ نتیجتاً غزہ تقریباً غیر آباد علاقہ بن گیا، لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ انسانی امداد کے راستےمسدود ہوگئے، جب کہ خوراک، دوا، پانی، رہائش اورطبی سہولتیں عنقا رہیں۔ جولائی 2025ء میں ثالثی کی کچھ کوششیں ہوئیں، مگر مستقل امن معاہدہ نہ ہوسکا۔
اکتوبر کے پہلے عشرے میں مصر کے شہر، شرم الشّیخ میں منعقدہ غزہ امن سربراہی کانفرنس میں اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ امن معاہدے پر امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ اور مصر، قطر اور ترکیہ کے سربراہان نے دست خط کر دیے۔ معاہدے پر دست خط کے بعد عالمی رہنماؤں سے اپنے خطاب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’’برسوں کی تباہی و بربادی اورخُوں ریزی کے بعد اب غزہ میں جنگ ختم ہوچُکی ہے۔‘‘
قبل ازیں، ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل پہنچے، جہاں انہوں نے اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ ’’غزہ امن معاہدے میں عرب اور مسلمان ممالک نے اہم کردار ادا کیا اور یہ صرف جنگ کا اختتام نہیں، بلکہ ایک نئی امید اورمشرقِ وسطیٰ کےایک نئے تاریخی دَور کا آغاز ہے۔‘‘ تاہم، اسرائیلی وزیرِاعظم، بینجمن نیتن یاہو کے جنگی جنون کے باعث اس امن معاہدے کے بعد بھی غزہ میں اسرائیلی جنگی کارروائیاں جاری رہیں، جن کے نتیجے میں متعدد فلسطینی شہری شہید ہوئے۔
دسمبر میں ’’وال اسٹریٹ جنرل‘‘ نےتل ابیب سے متعلق اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا کہ اسرائیل نے اپنی جدید فوجی ٹیکنالوجی کی آزمائش غزہ میں کی اور صیہونی ریاست غزہ جنگ کو اپنی نئی فوجی ٹیکنالوجی کی مارکیٹنگ کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ نیز، اسرائیلی کارروائیوں پر تنقید کے باوجود، روس کے خطرے کے سبب یورپی اور امریکی خریدار اِس ٹیکنالوجی میں خاصی دِل چسپی لے رہے ہیں۔
ایران، یمن، لبنان پر اسرائیلی حملے: 13جون کواسرائیل نےایران پر نہ صرف فضائی حملہ کیا، بلکہ میزائلز بھی برسائے، جسے 2025ء کا سب سے اہم بین الاقوامی واقعہ قرار دیا گیا۔ اس واقعے کے نتیجےمیں نہ صرف خطّےکا عسکری توازن بدلا، بلکہ اسلامی دُنیا کی سیاسی سمت، سفارتی ترجیحات پر بھی اِس کے دیرپا اثرات مرتّب ہوئے۔
اس فضائی کارروائی کے دوران اسرائیل نے ایران کی متعدّد فوجی اور نیوکلیئر تنصیبات کونشانہ بنایا، جس کےجواب میں ایران نے اسرائیل کی فوجی اور نیوکلیئر تنصیبات پر حملے کیے اور اس جنگ کے آغاز کے دو دن بعد ایران کے حمایتی حوثیوں نے بھی اسرائیل پر حملے شروع کر دیے۔
بعد ازاں، اسرائیل نے یمن پر بھی فضائی حملے کیے، جس سے بحیرۂ احمر اور خلیجِ عدن میں تیل کی ترسیل اور عالمی تجارت متاثر ہوئی۔ گرچہ اس موقعے پر امریکا، یورپی ممالک، خلیجی ریاستوں اور دیگر اسلامی ممالک نے فریقین کے درمیان ثالثی کی ضرورت پر زور دیا، مگر کوئی پائےدارامن معاہدہ نہ ہو سکا۔ تاہم، بارہ روز تک جاری رہنے والی اس اسرائیل، ایران جنگ کے بعد خلیجی ممالک اور دیگر اسلامی ریاستیں نئے دفاعی اتحاد اور متبادل شراکتوں پرغور کرنے لگیں۔
درحقیقت، اس جنگ نے خطّے کا توازن بدل دیا اور ایک ’’نئی جارحانہ حقیقت‘‘ کوجنم دیا۔ دریں اثنا، جب حوثی باغیوں نے اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کے خلاف حملے شروع کیے اور بحری جہازوں، شپنگ لائنز کو نشانہ بناکر بحیرۂ احمر کو خطرناک بحری زون میں بدل دیا، تو اس کے جواب میں امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) اور اتحادی افواج نے یمن میں فضائی وبحری کارروائیاں شروع کردیں، جنہیں ’’آپریشن رف رائیڈر‘‘ کا نام دیا گیا۔
فضائی بم باری، بندرگاہوں اور بنیادی ڈھانچوں کی تباہی، شہریوں کی ہلاکتوں، نقل مکانی اورامداد کی بندش نے یمن کے حالات مزید پیچیدہ کردیئے اور اس صورتِ حال نے دوبارہ ’’عالمی مسئلے‘‘ کی شکل اختیار کرلی۔ 17جون کو 20عرب اور اسلامی ریاستوں نے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا، جس میں اُنہوں نے ایران پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کی کہ اس قسم کی یک طرفہ فوجی مداخلت خطّے کے امن و استحکام کے لیے شدید خطرہ ہے۔
اِسی دوران خلیجی ریاستوں اور بعض اسلامی ممالک نے دفاعی شراکت داری، سکیوریٹی تعاون اور جدید عسکری خریداری پر سنجیدگی سے غور شروع کردیا، تاکہ اگر مستقبل میں دوبارہ ایران، اسرائیل جنگ ہو تو وہ خود کو محفوظ رکھ سکیں۔ مذکورہ صورتِ حال کے سبب عالمی طاقتیں دوبارہ مشرقِ وسطیٰ کی جانب متوجّہ ہوئیں۔
عالمی برادری نے اس بات پر زور دیا کہ خطّے میں عسکری مداخلت اور یک طرفہ حملے امن کی ضمانت نہیں، بلکہ یہ مزید تباہی کا باعث ہیں۔گزشتہ برس اسرائیل نے لبنان میں حزبُ اللہ کے ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں سیکڑوں ہلاکتوں کے ساتھ انفرااسٹرکچر بھی تباہ ہوا۔
ہرچند کہ نومبر 2024ء میں فریقین کے مابین جنگ بندی معاہدہ ہوا تھا، اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ اس نے ان حملوں میں حزب اللہ کے تربیّتی مراکز اور عسکری انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنایا۔ دریں اثنا، حزبُ اللہ نے غیرمسلّح ہونے سے انکار کر دیا اور مؤقف اختیار کیا کہ جب تک اسرائیل حملے جاری رکھےگا، وہ غیر مسلّح نہیں ہوگی۔
سوڈان: 2023 ء میں شروع ہونے والے سیاسی تنازعے کے سبب گزشتہ برس بھی سوڈان کی سیاسی و معاشی صورتِ حال خاصی دِگرگوں رہی۔ سال بھر فوجی اور نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز کے مابین جھڑپیں جاری رہیں اور دونوں متحارب گروہ مُلک کے مختلف حصّوں پر کنٹرول کے لیے لڑتے رہے۔ نومبر میں آر ایس ایف نے دارفور ریجن میں واقع، الفاشر پر قبضہ کرلیا، یادرہے،مغربی سوڈان کےبیش تر حصّے پر بھی اِسی کاکنٹرول ہے۔
جب کہ فوج، مُلک کے شمال اور مشرق، بشمول سوڈان پورٹ پر، جو جنرل بُرہان کا صدر دفتر ہے، کنٹرول رکھتی ہے۔ گزشہ برس امن مذاکرات اور جنگ بندی کی بین الاقوامی کوششیں، جیسا کہ جدہ اعلامیہ، ناکام رہیں، کیوں کہ کوئی بھی فریق معاہدوں پر عمل درآمد پرآمادہ نہیں۔ دریں اثنا، وقتاً فوقتاً خواتین اور لڑکیوں کےاغوا اور جنسی تشدّد کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہیں، جن کا الزام آر ایس ایف پرعائد کیا گیا۔
مُلک میں کوئی مستحکم سیاسی حکومت نہ ہونےکے سبب منہگائی کی شرح میں اضافہ ہوا۔ علاوہ ازیں، کم زور معاشی صُورتِ حال کے نتیجے میں سوڈان کی مزید قرض لینے کی صلاحیت ختم ہوگئی، جب کہ 2025ء میں 14 ملین سے زائد سوڈانی باشندے بےگھر ہوئے، 30ملین سے زائد افراد امداد کے محتاج ہوگئے۔ نیز، مُلک کی نصف آبادی کو شدید بُھوک کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم، سوڈان میں جاری سنگین سیاسی ومعاشی بُحران کے خاتمے کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔
شام: سالِ رفتہ شام بھی کئی برسوں سے جاری خانہ جنگی کے اثرات سے نکلنے کی کوششوں میں مصروف رہا۔ بین الاقوامی بندشوں اور جنگ کے سبب یہ مُلک دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ گیا، جب کہ افراط ِزر، بنیادی سہولتوں، خوراک اور ادویہ کے شدید بحُران کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ شام میں بشارالاسدحکومت کاخاتمہ، ہیئت تحریر الشام کے باغیوں کی غیرمتوقع پیش قدمی کے باعث ہوا، لیکن یہ گروہ پورے ملک پر حُکم رانی نہیں کرتا۔
یاد رہے، شام کے مختلف حصّوں پر کئی سال سے مختلف باغی گروہوں کا قبضہ ہے، جن میں حلب میں ہیئت تحریرالشام اور مُلک کے شمال مشرق میں کُردافواج کا جزوی کنٹرول تھا۔ گزشتہ برس شام میں افراط ِزر میں اس قدراضافہ ہوا کہ شہری بنیادی ضروریات تک پوری نہیں کر سکے۔
خوراک کی قیمتیں آسمان کو چُھونے لگیں۔ مغربی ممالک کی سخت پابندیوں نے معیشت تباہ کردی، توانائی، پانی، ادویہ، اورایندھن کی شدید قلت ہوگئی، لاکھوں لوگ بے گھر ہوگئے، جب کہ غربت کی شرح 90فی صد سے تجاوز کر گئی ہے۔
یمن: 2025ء میں بھی یمن کی سیاسی و معاشی صُورتِ حال انتہائی غیر مستحکم رہی، جس کی بنیادی وجہ وہاں دہائیوں سے جاری خانہ جنگی، اداروں کی تقسیم اورعلاقائی تناؤ ہے۔
گزشتہ برس بھی مُلک دوالگ الگ معاشی وسیاسی زونز میں تقسیم اورامن عمل تعطّل کا شکار رہا۔ یمن کی حکومت(جسے بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے اور جس کا مرکز عدن ہے) اور حوثی ملیشیا کے درمیان(جس کا شمالی علاقوں بشمول دارالحکومت صنعا پرکنٹرول ہے) تنازع جاری رہا بلکہ تقسیم مزید گہری ہوگئی۔
دسمبر 2025ء میں متّحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ سدرن ٹرانزیشنل کاؤنسل نےجنوبی یمن کے تمام 8گورنریٹس پرکنٹرول حاصل کرلیا، جس سے جنوبی یمن کی آزادی کا امکان پیدا ہوا۔ تاہم، اس پیش رفت سےحکومت کے زیرِ قبضہ علاقوں میں تناؤ پیدا ہوا۔
نیز، اقوام متّحدہ کی زیرِ نگرانی امن مذاکرات اور جنگ بندی کی کوششیں علاقائی کشیدگی (غزہ جنگ اوربحیرۂ احمر کے بُحران) کے سبب متاثر ہوئیں۔ گرچہ امریکا اور حوثیوں کے مابین مئی 2025ء میں جنگ بندی کامعاہدہ ہوا تھا، لیکن اس کے باوجود حوثی بحیرۂ احمر میں اسرائیل سے منسلک بحری جہازوں کونشانہ بناتے رہے۔
دوسری جانب حوثی حُکّام کی جانب سے انسانی حقوق کے کارکنوں کی گرفتاریوں کی وجہ سےکئی امدادی تنظیموں نے اپنی سرگرمیاں محدود کردیں، جس سے انسانی بُحران مزید گہرا ہوگیا۔ ان حالات کے پیشِ نظریمن کی معیشت شدید دباؤ کا شکار رہی اور 2015ء کے بعد سے فی کس حقیقی جی ڈی پی میں 58فی صد تک کمی واقع ہوئی۔
عالمی بینک نے2025ء میں یمن کی جی ڈی پی میں مزید 1.5فی صد کمی کا تخمینہ لگایا اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت، آئی آر جی کے زیرِقبضہ علاقوں میں (خاص طور پرعدن) افراطِ زر مزید بڑھا۔ نیز، یمنی ریال کی قدر میں نمایاں کمی واقع ہوئی، جس نے قوّتِ خرید بُری طرح متاثر کی۔
لبنان: گزشتہ برس بھی لبنان کو سنگین معاشی بُحران اور پیچیدہ سیاسی عدم استحکام کا سامنا رہا، جس میں 2024ء میں اسرائیل اور حزبُ اللہ کے مابین ہونے والی جنگ اور علاقائی کشیدگی نے مزید شدّت پیدا کی تھی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ لبنان میں کسی بھی وقت کشیدہ صُورتِ حال پیدا ہوسکتی ہے۔
اسرائیلی حُکام نے لبنانی فوج سےمطالبہ کیاکہ وہ حزبُ اللہ کو غیرمسلح کرے، بصورت ِدیگر اسرائیل کارروائی کرے گا۔ دریں اثنا،پوپ لیو چہاردہم نے لبنانیوں پر زور دیا کہ وہ مفاہمت کے راستے پر چلیں اور مُلک میں رہنےکی ہمت کریں، جب کہ دوسری جانب اقوامِ متّحدہ کےامن دستے’’یونیفل‘‘نے بھی امن برقرار رکھنے کی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ علاوہ ازیں، مُلک میں غربت اور غذائی عدم تحفّظ میں اضافہ ہوا اور لبنانی پاؤنڈ امریکی ڈالر کے مقابلے میں تاریخی گراوٹ کا شکار ہوگیا۔
ترکیہ: سالِ رفتہ ترکیہ کو اہم سیاسی و معاشی چیلنجز کا سامنا رہا،جن میں سیاسی عدم استحکام اور افراط زِرپر قابو پانے کے لیے سخت معاشی پالیسیز شامل ہیں۔ دوسری جانب ترکیہ کا سیاسی منظرنامہ بھی ڈرامائی طور پر غیرمستحکم رہا۔ 19 مارچ 2025ء کو استنبول کے میئر اور صدر اردوان کے اہم سیاسی حریف، اکرم امام اوغلو کو بدعنوانی اور دہشت گردوں سے تعلق کے الزامات کے تحت گرفتار کر لیا گیا۔
اس اقدام کو وسیع پیمانے پر سیاسی قرار دیا گیا اور اس کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک شروع ہوگئی، جو 2013ء کے گیزی پارک مظاہروں کے بعد سب سے بڑی تحریک تھی۔ نیز، انسانی حقوق کی تنظیموں نے تُرکیہ میں میڈیا، عدلیہ اور دیگر ریاستی اداروں پرحکومتی کنٹرول اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔
صدر اردوان نے اپنے سیاسی مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے علاقائی ممالک اور عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی کوششیں جاری رکھیں۔ ترکیہ کی معیشت 2025ء میں مالیاتی سختی اوربلند افراطِ زرکےدرمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش کرتی رہی۔
بلند افراطِ زر ایک بڑا مسئلہ رہا۔2025ء کے اختتام تک افراط ِزرکی شرح29 فی صد تک گرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جو سال کے شروع میں اس سے کہیں زیادہ تھا۔ ترک لیرا کی قدر میں کمی اور بیرونی کرنسیز کے مقابلے میں اتار چڑھاؤ جاری رہا، جس سے درآمدی اشیا کی قیمتیں بڑھیں اور شہریوں کی قوّتِ خرید متاثر ہوئی۔ مختصراً، 2025ء ترکیہ کے لیے سیاسی طور پر ہنگامہ خیز سال رہا، جب کہ معاشی محاذ پر حکومت افراطِ زر پر قابو پانے اور معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے پُرعزم نظر آئی۔
پوری اُمّتِ مسلمہ کے ضمن میں بحیثیتِ مجموعی دیکھا جائے، تو2025ء ایک ایسا سال تھا، جس نے ثابت کیا کہ مشرق ِوسطیٰ اور مسلم دُنیا پرصرف ایک بحران اثر انداز نہیں ہوتا بلکہ متعدد بُحران ایک دوسرے سے منسلک ہوکر ایک ایسا سلسلہ بناتے ہیں، جو ریاستی سالمیت، معاشی استحکام اور علاقائی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔