• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یوں تو فروری2024 ء کے عام انتخابات کے بطن سے جنم لینے والی پارلیمنٹ کی’’جائزیت‘‘ پر قومی و بین الاقوامی طور پر بڑے سوالات اُٹھائے گئے، مگر سال2025 ء میں اِس پارلیمنٹ نے قانون سازی کا کام بڑی تیزی سے کیا، تاہم آئین میں کی گئی27ویں ترمیم سے پارلیمنٹ پر’’ربڑ اسٹیمپ‘‘ ہونے کا تاثر بڑے پیمانے پر اُبھرا۔ 

ایسا نہیں کہ پارلیمنٹ نے پورا سال ربڑ اسٹیمپ قانون سازی کی ہو، بلکہ اِسی پارلیمنٹ سے ایسے مثالی قوانین بھی منظور ہوئے، جن کا کئی دہائیوں سے انتظار تھا۔ اِس کی سب سے بڑی مثال’’نیشنل کمیشن فار مینارٹیز ایکٹ‘‘ یعنی اقلیتوں سے متعلق قومی کمیشن ایکٹ مجریہ2025 ء ہے۔ 

تاریخ میں پہلی بار مُلک میں اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے پاکستانیوں کے لیے خود مختار انسانی حقوق کمیشن ایکٹ منظور کیا گیا۔ مجموعی طور پر حکومت کے پیش کردہ33بل ایکٹ آف پارلیمنٹ بنے، جب کہ 11 پرائیویٹ ممبر بلز بھی قومی اسمبلی سے منظور کیے گئے۔

27 ویں آئینی ترمیم کے موقعے پر حکومت کے پاس قومی اسمبلی میں اپنے نمبرز پورے تھے، تاہم اس نے دو تہائی اکثریت کا ہدف سینیٹ میں پورا کرنے کے لیے اپوزیشن، تحریکِ انصاف کے سینیٹر سیف اللہ ابڑو اور جے یو آئی کے سینٹیر احمد خان پر نقب لگائی۔

اپوزیشن کے دونوں سینٹیرز نے ایوان میں کھڑے ہوکر حکومت کی پیش کردہ متنازع آئینی ترمیم کو ووٹ دیا، جس میں صدر اور چیف آف ڈیفینس فورسز کے عُہدوں کو تاحیات استثنا دے دیا گیا، جس کی مثال غالباً دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔ کہا جاسکتا ہے کہ یہ پارلیمنٹ کے کم زور ترین ثابت ہونے کے مواقع میں سے ایک تھا۔ سال بَھر میں پارلیمنٹ کا دوسرا کم زور ترین موقع تب آیا، جب اپوزیشن کی مخصوص نشستیں عدالتی فیصلے کی روشنی میں حکومت کے پاس چلی گئیں۔

پارلیمنٹ کی کارکردگی جاننے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ عام طور پر پارلیمنٹ کا ذکر کریں، تو خیال صرف سینیٹ(ایوانِ بالا) اور قومی اسمبلی(ایوانِ زیریں) کی طرف ہی جاتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ جب تک صدر کو بھی اِس تکون میں شامل نہ کیا جائے، اُس وقت تک پارلیمنٹ مکمل ہی نہیں ہوتی، کیوں کہ آئین و قانون سازی کا عمل اُس وقت تک مکمل نہیں ہوتا، جب تک چاروں صوبائی اسمبلیوں، سینیٹ اور قومی اسمبلی سے منتخب ہو کر آنے والا صدر اُس پر دست خط نہ کرے۔ اِس طرح پارلیمنٹ، قومی اسمبلی، سینیٹ اور صدرِ مملکت کے تین اداروں پر مشتمل ہوتی ہے۔ 

ظاہر ہے، اِس میں بنیادی اکائی اراکینِ پارلیمنٹ ہی ہوتے ہیں، جو قانون سازی کے عمل میں شریک ہوتے ہیں۔ اِن اراکین میں سب سے اہم وزیرِاعظم اور اُن کے وزرا ٹھہرتے ہیں، جو ایوان میں نہ صرف قانون سازی کے عمل میں کلیدی ذمّے داریوں کے حامل ہوتے ہیں، بلکہ اراکینِ اسمبلی کی طرف سے اُٹھائے گئے اعتراضات و نکات کا جواب دیتے ہیں، بلکہ ایوان میں اپنی کارکردگی کے جواب دہ بھی ہوتے ہیں۔پاکستان کی موجودہ حکومت میں وزیرِ اعظم، شہباز شریف کی قیادت میں55 ارکان پر مشتمل ایک بھاری بَھر کم کابینہ ہے۔ 

اس میں 25 وفاقی وزرا کو قومی اسمبلی، جب کہ6سینیٹرز کو ایوانِ بالا سے کابینہ میں شامل کیا گیا ہے۔ کابینہ میں11 وزرائے مملکت، وزیرِ اعظم کے4مشیران کے ساتھ، وزیرِ اعظم کے9 معاونینِ خصوصی بھی شامل ہیں۔ وفاقی کابینہ کے ان ارکان کے علاوہ مختلف وزارتوں میں پارلیمنٹ سے لیے گئے24 پارلیمانی سیکریٹریز بھی تعیّنات ہیں، جو کابینہ کا حصّہ تو نہیں، مگر وزارتوں کے معاونین ضرور ہیں۔

پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں یعنی قومی اسمبلی کے فروری2024 ء سے دسمبر2024 ء تک81 روزہ اجلاسوں پر مشتمل11 سیشنز ہوئے تھے، جب کہ جنوری 2025 ء سے دسمبر2025 ء کے دوران85 دنوں پر مشتمل 11 سیشنز منعقد ہوئے۔ اس کے علاوہ، موجودہ حکومت کے دَور میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے چار مشترکہ اجلاس بھی ہوئے۔

پاکستان میں پارلیمنٹ کی کارکردگی کا مستقل بنیادوں پر جائزہ لینے والی ممتاز غیر سرکاری تنظیم، فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک(فافن) کی نومبر2025ء میں، قومی اسمبلی کے سات دن کے اجلاسوں پر مشتمل21 ویں اجلاس سے متعلق ایک تفصیلی رپورٹ جاری کی گئی، جو پارلیمنٹ کی سال بَھر کی کارکردگی تو ظاہر نہیں کرتی، مگر اِس رپورٹ سے مجموعی طور پر حکومت اور اپوزیشن کے اراکینِ اسمبلی کی ایوان کے اندر جاری قانون سازی سے دل چسپی کا اظہار ضرور ہوتا ہے۔

جاری رپورٹ کے مطابق، وزیرِ اعظم شہباز شریف نے نومبر میں سات روزہ اکیسویں سیشن میں صرف دو دن شرکت کی۔ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سات میں سے چار روز، جب کہ ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی سیّد غلام مصطفیٰ شاہ تمام کے تمام، یعنی سات کے سات روز اجلاس میں شریک رہے اور کم ازکم ایوان میں حاضری کے اعتبار سے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ 

حکومت کے11وزرائے مملکت میں سے چوہدری ارمغان سبحانی، وجیہہ قمر، عون ثقلین اور ڈاکٹر شزرا منصب علی خان نے تمام اجلاسوں میں شرکت کی اور اپنی اپنی وزارتوں کے پارلیمانی بزنس میں کردار ادا کرنے کے ساتھ، جواب دہی کے عمل میں بھی شامل ہوئے۔ باقی وزرائے مملکت میں بلال اظہر کیانی، کیسومل کھیل داس اور ملک رشید احمد خان سات میں سے چھے اجلاسوں میں شریک رہے۔

بیرسٹر عقیل ملک، عبدالرحمان کانجو اور مختار احمد ملک پانچ اجلاسوں میں شریک ہوسکے۔31 وفاقی وزرا میں سے صرف5وفاقی وزرا خواجہ آصف، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، خالد مگسی اور رانا مبشر اقبال قومی اسمبلی کے تمام7 روزہ اجلاسوں میں شریک رہے، جب کہ وفاقی وزراء میں سے احسن اقبال سات میں سے صرف دو، رضا ہراج، مصطفیٰ کمال، علیم خان اور اویس لغاری سات میں سے صرف تین، تین اجلاسوں میں شریک ہوپائے۔

پارلیمنٹ کے دیگر اہم ترین اراکین میں سات روزہ اکیسویں سیشن میں باپ پارٹی کے خالد حسین مگسی، پشتون خوا ملی عوامی پارٹی کے محمود خان اچکزئی اور مسلم لیگ ضیا کے اعجاز الحق قومی اسمبلی کے سات کے سات اجلاسوں میں شریک رہے، جب کہ ریکارڈ کے مطابق بلاول بھٹو زرداری بھی کسی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ، مولانا فضل الرحمان کی حاضری صرف ایک اجلاس میں لگی۔ نیز، ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی بھی صرف ایک اجلاس میں شریک ہوئے۔

فافن کے مطابق سال بَھر میں قومی اسمبلی کے سات اجلاس ہوئے، جس میں مسلم لیگ نون کے51 ارکان نے تمام کے تمام اجلاسوں میں شرکت کی،66 نے چار سے چھے اجلاسوں میں شرکت کی، جب کہ 8 ایسے اراکین تھے، جنہوں نے سال بَھر کسی بھی اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ 

اِسی طرح تحریکِ انصاف سے وابستگی رکھنے والے مجلس وحدت المسلمین کے پلیٹ فارم سے منسلک اراکین میں سے، جنہیں9 اکتوبر2025 ء کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کے فیصلے کی روشنی میں آزاد قرار دیا گیا اور صرف ایک رُکن کو مجلس وحدت المسلمین کا رُکن مانا گیا،33 اراکین نے سات کے سات روز اکیسویں سیشن میں شرکت کی،34 نے چار سے چھے اجلاسوں میں شرکت کی، چار نے ایک سے تین اجلاسوں، جب کہ8 ایسے ارکان نکلے، جنہوں نے کسی بھی اجلاس میں شرکت نہ کی۔ 

پیپلز پارٹی کے21اراکین، قومی اسمبلی کے سات روز اجلاس میں روزانہ شریک ہوئے،40 اراکین چار سے چھے روز اجلاس میں شریک ہوئے، جب کہ12 اراکین ایسے تھے، جو ایک سے تین روز اجلاسوں میں شریک ہو پائے، جب کہ صرف ایک رُکن ایسا تھا، جو کسی اجلاس میں شریک نہیں ہوپایا۔ 

اِسی طرح ایم کیو ایم کے8 اراکین نے تمام کے تمام سات روز اجلاسوں میں شرکت کی، 13 اراکین چار سے چھے اجلاسوں میں شریک ہوسکے، جب کہ صرف ایک رکنِ قومی اسمبلی ایسا تھا، جو کسی اجلاس میں شریک نہ ہو پایا۔ قومی اسمبلی کا اکیسواں سیشن مجموعی طور پر عام سیشنز میں اراکین کی عدم دل چسپی کی عکّاسی کرتا ہے، تاہم ستائیس ویں آئینی ترمیم وہ واحد موقع تھا، جس میں ایوان کے اندر دو، چار کو چھوڑ کر تمام کے تمام اراکین موجود تھے۔

بدقسمتی یہ ہے کہ متنازع ترین انتخابات سے آنے والی پارلیمنٹ سال بھر جمہوریت کی کم زوری اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر کوئی سیر حاصل بحث نہ کرسکی۔ وزیرِ داخلہ، محسن نقوی خال خال ہی پارلیمنٹ میں نظر آئے، تاہم، وہ کسی بھی جگہ خود اُٹھ کر اراکینِ پارلیمینٹ کو جواب دینے سے گریز کرتے رہے، یہ ذمّے داری وزیرِ مملکت برائے داخلہ، طلال چوہدری ادا کرتے رہے۔

قومی اسمبلی میں لیڈرآف دی اپوزیشن گویا جزو لازم ہوتا ہے، مگر ابھی تک لیڈرآف دی اپوزیشن کا نوٹی فیکیشن ہی جاری نہیں کیا گیا۔ سال کے آغاز تک عُمر ایوب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تھے، مگر9 مئی کے مقدمے میں عدالتی فیصلے کے بعد وہ اسمبلی کی نشست سے محروم ہوئے، جہاں ضمنی انتخاب بھی منعقد ہوا اور اُن کی جگہ مسلم لیگ نون کے بابر نواز ایوان کے رُکن بن گئے۔ لیڈر آف دی اپوزیشن کے طور پر تمام اپوزیشن نے محمود خان اچکزئی پر اتفاق کیا، مگر سال کے آخر تک اسپیکر قومی اسمبلی کی طرف سے اُن کا نوٹی فیکیشن جاری نہیں کیا گیا۔

گزشتہ برس پی ٹی آئی کے کئی ارکانِ قومی اسمبلی کو مختلف عدالتوں کی جانب سے9 مئی کے مقدمات میں سزائیں سُنائی گئیں، جس کے باعث وہ اسمبلی رُکنیت سے بھی محروم ہوگئے۔ خالی ہونے والی اِن نشستوں پر ضمنی انتخابات ہوئے، جن میں مسلم لیگ نون کو برتری حاصل رہی اور یوں اسے قومی اسمبلی کے ایوان میں سادہ اکثریت حاصل ہوگئی۔ 

اِس پیش رفت کے نتیجے میں مسلم لیگ نون کا پیپلز پارٹی پر انحصار بھی کم ہوگیا۔ پی ٹی آئی کی جانب سے ایوان میں سال بَھر احتجاج جاری رہا اور ہر طرح کی قانون سازی کی مخالفت کی گئی، یہاں تک کہ انسانی حقوق کمیشن کے قیام کے خلاف بھی پی ٹی آئی ارکان کی طرف سے احتجاج کیا گیا۔

نوٹ: پارلیمنٹ کی مجموعی کارکردگی کا مکمل ڈیٹا اس کا پارلیمانی سال مکمل ہونے پر مارچ کے مہینے میں جاری کیا جاتا ہے۔ لہٰذا (جائزہ رپورٹ) میں مکمل ڈیٹا شامل نہیں ہے۔

دوسرے پارلیمانی سال میں منظور کردہ حکومتی پرائیویٹ ممبر بلز

(1)منگل2 دسمبر، البیرونی انٹرنیشنل یونی ورسٹی، اسلام آباد بل (2)جمعرات13 نومبر، گھریلو تشدّد (انسداد اور تحفّظ) بل(3)منگل12 اگست، لیگل پریکٹیشنرز اینڈ بار کونسلز (ترمیمی) بل(4)منگل12 اگست، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (تنظیمِ نو) (ترمیمی) بل(5)منگل12اگست، ایسڈ اور جلاؤ جرم بل (6)منگل 12اگست، جامعات میں مستحق افراد کے لیے خصوصی نشستوں کے تحفظ کا بل(7)منگل 12 اگست، زکوٰۃ اور عشر (ترمیمی) بل (8)جمعہ16 مئی، تجارتی تنظیمیں (دوسری ترمیم) بل (9)جمعہ16 مئی، اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کم عُمری کی شادی کی ممانعت کا بل(10)منگل13 مئی، انٹرنیشنل ایگزامینیشن بورڈ بل (11)منگل13 مئی، گھرکی انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بل۔

دوسرے پارلیمانی سال میں منظور کیے گئے حکومتی بل

(1) پیر،8دسمبر، نیشنل ایگری ٹریڈ اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی بل (2) پیر، 8دسمبر، کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ترمیمی) (3) پیر یکم دسمبر،فیڈرل پراسیکیوشن سروس (ترمیمی) بل (4) پیر یکم دسمبر، نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق (ترمیمی) بل (5) جمعرات27نومبر، کنگ حمد یونی ورسٹی آف نرسنگ اینڈ اسوسی ایٹڈ میڈیکل سائنسز بل (6) جمعرات27نومبر، دانش اسکولز اتھارٹی بل (7)جمعرات27 نومبر، قانونِ شہادت (ترمیمی) بل (8) جمعرات27 نومبر، پاکستان آرمی (ترمیمی) بل(9)جمعرات13نومبر، پاکستان ایئر فورس (ترمیمی) بل(10) جمعرات13 نومبر، پاکستان نیوی (ترمیمی) بل(11) جمعرات13نومبر، سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) (ترمیمی) بل(12) بدھ 12نومبر، آئین (ستائیسویں ترمیم) بل(13) پیر10نومبر، پرائیویٹائزیشن کمیشن (ترمیمی) بل(14) پیر29 ستمبر، آسان کاروبار بل(15) بدھ13اگست، نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی (ترمیمی) بل(16) بدھ13اگست، انسدادِ دہشت گردی (ترمیمی) بل(17) بدھ13اگست، پیٹرولیم (ترمیمی) بل(18) جمعرات7اگست، پاکستان لینڈ پورٹ اتھارٹی بل(19) بدھ6اگست، سوسائٹیز رجسٹریشن (ترمیمی) بل(20) بدھ6اگست، فوجداری قوانین (ترمیمی) بل(21) جمعہ27جون، فنانس بل (22)جمعرات22 مئی، آف دی گرڈ (کیپٹو پاور پلانٹس) لیوی بل(23) پیر 19 مئی، ایکسپلوسِوز (ترمیمی) بل (24)پیر19مئی، پاکستان نیوی (ترمیمی) بل (25)جمعہ 16مئی، انکم ٹیکس (ترمیمی) بل(26) جمعہ16مئی، حوالگیِ مجرمین (ترمیمی) بل (27)جمعہ16مئی، پاکستان شہریت (ترمیمی) بل (28) جمعہ16 مئی، نیچرلائزیشن (ترمیمی) بل (29) جمعہ16مئی، سول سرونٹس (ترمیمی) بل (30) جمعہ16مئی، اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹیز (ترمیمی) بل (31) جمعہ16مئی، فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (ترمیمی) بل (32) پیر12 مئی، اسپیشل ٹیکنالوجی زون اتھارٹی (ترمیمی) بل(33) پیر12مئی، نیشنل کمیشن برائے اقلیتی حقوق بل۔

سنڈے میگزین سے مزید