نسلِ نو کے بے حد پسندیدہ، ہر دل عزیز شاعر رحمان فارس نے ہماری درخواست، فرمائش پر ’’سنڈے میگزین‘‘ کے ’’سالِ نو ایڈیشن 2026ء‘‘ کے لیے سالِ گزشتہ کو (ماہ بہ ماہ) یک سر اچھوتے انداز، انتہائی خوب صُورتی و عُمدگی سے کچھ یوں منظوم کیا ہے۔
؎ ’’جنوری کتنی اُمیدوں سے بَھرا آیا تھا.....گلشنِ جاں میں عجب رنگ ہرا آیا تھا.....فروری سرد سہی، دل میں حرارت تھی بہت.....آٹھ اور بیس دِنوں میں ہی شرارت تھی بہت.....مارچ تھا فصلِ بہاراں کا پسندیدہ گلاب..... خوشبوئے عشق سے لب ریز گُلِ حُسن و شباب..... جونہی اپریل کِھلا، اِک گُلِ اُمید مِلا .....چشمِ شاعرکو عجب معجزۂ دید مِلا..... مئی آیا تو مئے شام و سَحر لے آیا.....شعلۂ جاں کے جنم دن کی خبر لے آیا.....کیسا کیسا دلِ مجنوں کا پسینہ نکلا.....جُون تو آتشِ ہجراں کا مہینہ نکلا .....شامِ جولائی بھی، جو لائی، وہ حدّت تھی فقط.....رُخِ محبوب سے دُوری ہی کی شدّت تھی فقط.....جب اگست آیا تو لگتا تھا کہ سال اچھا ہے.....جس پہ تقدیر ہنسی تھی کہ خیال اچھا ہے.....حادثے کی کوئی بنیاد ستمبر میں پڑی..... یار کی نیلگوں خاموشی میں ہلچل تھی بڑی.....یاد اچھی نہیں وابستہ اس اکتوبر سے.....آنسوئوں سے بَھرے دن رات خوشی کو ترسے.....قرضِ جاں ایسےنومبر میں ادا ہوتا گیا.....دل بہت ٹُوٹ کے راضی برضا ہوتا گیا.....قہقہے کافی مِلے اور مِلے آنسو بھی.....اِس دسمبر میں تو حیران ہوں مَیں بھی، تُو بھی.....اب نئے سال میں جو بھی ہو، وہ منظور ہمیں.....دل اُسی عشقِ گزشتہ سے کرے چُور ہمیں۔‘‘
عمومی طور پر تو ہم جیسی اقوام کے لیے سالِ نو، سالِ رفتہ ہی کی پرچھائیں، پَرتو ہوا کرتا ہے، لیکن سال 2025ء کے ماہِ مئی کے چار ایّام (7 تا 10مئی) نے تو گویا مُلکی تاریخ ہی بدل کر رکھ دی۔ پہلگام واقعے کو بنیاد بنا کر انتہا پسند ’’مودی سرکار‘‘ نے ’’آپریشن سندور‘‘ کے نام سے جو ’’ایڈونچر‘‘ کرنےکی کوشش کی، اُسے پاک فوج کے جوابی کاری وار، سیسہ پلائی دیوار ’’آپریشن بنیان مرصوص‘‘ کے ذریعے ایسا تہس نہس، ملیا میٹ کیا گیا کہ سال ختم ہوگیا، مگر بھارت ہنوز اپنے زخم چاٹ رہا ہے۔
ذلّت و ہزیمت میں کمی کچھ یوں بھی نہ آنے پائی کہ مہان امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ نے تو یہ جملہ ’’پاکستان نے بھارت کے سات طیارے مار گرائے‘‘ جیسے کسی سبق کی طرح رٹ کر ہر فورم پر دہرانا ضروری سمجھا۔ بات کسی بھی تناظر میں ہوتی، ٹرمپ گھوم پِھر کر بھارتی طیاروں کی تباہی، درِ پردہ انڈین ایئرفورس کی نااہلی ہی پر آجاتے۔
ابھے نندن کی ’’ٹی پارٹی‘‘ کے بعد، نریندر مودی کا اصرارتھا ’’بھارتی فضائیہ کے پاس رافیل ہوتے، تو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔‘‘ اور اب، جب کہ رافیل بھی گھائل پرندوں کی طرح زمین پر آرہے، تو اس جگ ہنسائی کے بعد اصولاً تو زبان پر تالے لگا کے، منہ سر لپیٹ بیٹھ جانا چاہیے تھا، لیکن وہ کیا ہے کہ ؎ شرم تم کو مگر نہیں آتی۔
ہٹ دھرمی ہنوز برقرار ہے۔ لیکن اس سارے منظر نامے، A blessing in disguise یا خرابی میں مضمر (کہ بہرحال جنگ، جنگ ہی ہوتی ہے، خواہ نتیجہ کسی کے بھی حق میں ہو اور وہ کسی طور امن کا متبادل نہیں ہوسکتی) تعمیر کی صُورت، جو نکلی وہ یہ تھی کہ دنیا بھر میں پاک فوج کی دھاک، سکّہ بیٹھتا چلا گیا۔ ایسے ہی تو پاکستان اور سعودی عرب کے مابین تاریخی دفاعی معاہدہ طے نہیں پایا، (جس کے مطابق کسی ایک پر حملہ، دونوں پرحملے کے مترادف ہوگا) اسرائیل اور حماس کے درمیان ہونے والے’’غزہ امن منصوبے‘‘ میں پاکستان کی اہمیت تسلیم کی گئی اور ’’سُپرپاور‘‘ کے صدر، وزیرِاعظم پاکستان اور افواجِ پاکستان کے سربراہ، چیف آف ڈیفینس فورسز، فیلڈ مارشل سیّد عاصم منیر کو بھرپور پروٹوکول دیتے رہے۔ وہ کیا ہے کہ ’’دنیا ہمیشہ زورآور ہی کے ساتھ ہوتی ہے۔ متوجّہ کرنے، نظروں میں آنے کے لیے پہلے خُود کو منوانا، تسلیم کروانا پڑتا ہے۔‘‘
تو اب سال کے اختتام پر بلاخوفِ تردید کہاجاسکتا ہےکہ 2025ء عالمی سطح پراگر ’’ٹرمپ کا سال‘‘ تھا، تو مُلکی سطح پر’’فیلڈ مارشل سیّد عاصم منیر‘‘ کا سال۔ اور بلاشبہ، سیّد عاصم منیر کو یہ عزت و توفیق اللہ رب العزت ہی نے دی۔ جس کا وعدہ ہے’’وہ جسے چاہے سلطنت دے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لے اور جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے، ذلّت۔‘‘ جیسا کہ سال کے اختتام پر بھارت میں مفتی شمائل ندوی اورمعروف شاعر، نغمہ نگار جاوید اختر کے مابین ''Does God exist" کے موضوع پرایک لائیو مباحثہ ہوا، جسے دنیا بھرمیں لاکھوں لوگوں نے دیکھا اور اِس لگ بھگ دو گھنٹے کے مباحثے نے مفتی شمائل کوراتوں رات وہ نیک نامی و سُرخ رُوئی عطا کردی، جو بعض اوقات پورا جیون تیاگ کر بھی کم ہی کسی کو نصیب ہوتی ہے۔
بین الاقوامی حالات و واقعات کا سرسری تذکرہ کیا جائے، تو سال کے آغاز میں ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کے47 ویں صدر کا عہدہ سنبھالا، تو مقبول کینیڈین وزیرِاعظم جسٹن ٹروڈو نے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا۔ جنوری میں تبت کے ہول ناک زلزلے، امریکا میں برفانی طوفان، لاس اینجلس کی خوف ناک آگ سے قدرتی آفات، سانحات کا سلسلہ شروع ہوا، تو زمینی آفات مثلاً نہتّے، مظلوم فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی وحشیانہ کارروائیوں کا سلسلہ تو لگ بھگ دو سال سے جاری ہی تھا، جو بڑھتے بڑھتے ایران، یمن اور لبنان تک دراز ہوگیا، بلکہ اسرائیل کی ایران کے ساتھ 12 روزہ جنگ کو تو سالِ رفتہ کا اہم ترین بین الاقوامی واقعہ قرار دیا گیا کہ بعد ازاں اس میں امریکا اور اتحادی افواج بھی کود پڑیں اور ’’آپریشن رف رائیڈر‘‘ کے ذریعے ایرانی نیوکلیئرتنصیبات کوناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا گیا۔
روس، یوکرین جنگ تین سال پورے ہونے کے بعد بھی جاری رہی، تو شام میں بشارالاسد حکومت کےخاتمے کے باوجود خانہ جنگی کے اثرات برقرار تھے، مُلک دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ گیا۔ سوڈان کے متحارب گروپس کے مابین مسلح تصادم اور یمن، لبنان، ترکیہ میں سیاسی و معاشی عدم استحکام کی خبریں بھی وقتاً فوقتاً سامنےآتی رہیں۔
کئی امن معاہدوں کی گونج بھی ساراسال سُنی جاتی رہی۔ خصوصاً غزہ، اسرائیل اور پاک، بھارت جنگ بندی معاہدہ۔ مگر،10ماہ میں8جنگیں رُکوانے کے دعوے کے باوجود امریکی صدر کی نوبل پیس پرائز کے حصول کی شدید خواہش تشنہ ہی رہی اور انعام کی حق دار، وینزویلا کی ماریہ کورینا ٹھہرادی گئیں۔ عالمی سطح پر قوم پرستی کی لہرنے مزید زور پکڑا، مگر ڈیمو کریٹک سوشلسٹ مسلمان امیدوار، ظہران ممدانی نے نیویارک کی میئرشپ حاصل کر کے تاریخ رقم کردی۔
صدر ٹرمپ کے دورۂ سعودی عرب، قطر اور شہزادہ محمّد بن سلمان کے دورۂ واشنگٹن میں اربوں ڈالرز کے تجارتی معاہدے ہوئے، تو نیپال، مڈغاسکر میں حکومتوں کا دھڑن تختہ اور بنگلادیش کی مفرور وزیرِاعظم حسینہ واجد کو سزائے موت سُنائی گئی۔ دنیا کے 10 امیر ترین افراد کی دولت 2.5 ٹریلین سے تجاوز کر گئی، جن میں ایلون مسک 638 بلین کے ساتھ سرِفہرست رہے۔
مُلکی حالات و واقعات میں سب سے اہم، نمایاں ترین تو ’’آپریشن بنیان مرصوص‘‘ (معرکۂ حق) کی تاریخی کام یابی ہی تھی کہ الحمدُللہ، محض پونے چار گھنٹے کی جوابی کارروائی سے پاکستان دنیا کی آنکھ سے آنکھ ملانے کے قابل ہی نہیں ہوا، خطّے کی پوری تاریخ بھی بدل کے رکھ دی۔ بھارت کا سارا غرورخاک میں مل گیا۔ بقول شاعر ؎ کروا دیا خُوب دشمن کو محسوس.....ہوتی ہے کیا چیز ’’بنیان مرصوص‘‘۔ جب کہ رہی سہی کسرسال کے آخر میں 19 سال سےکم عُمر بچّوں نےکرکٹ کے میدان میں (انڈر19ایشیا کپ میں)بدترین شکست سےدوچارکر کے پوری کردی۔
قلزمِ سیاست میں حسبِ دستور مدّوجزر ہی کا عالم رہا، معیشت کی ڈانواں ڈول کشتی، آئی ایم ایف کے سہارے ڈوبتی، اُبھرتی رہی۔ حکومت کے وہی روایتی ہتھکنڈے، کارناموں، کام یابیوں کے ڈونگرے اور اپوزیشن کی وہی ’’مَیں نہ مانوں‘‘ کی رٹ، جس کا اُسے خاصا نقصان کیسز میں سزاؤں، نوکمپرومائز اور ’’ذہنی مریض‘‘ کا ٹائٹل حاصل کرنے کی صُورت اُٹھانا پڑا۔
پھر مُلکی تاریخ کی بدترین سیلاب نے پنجاب اور خیبرپختون خوا میں شدید تباہ مچائی، تو دہشت گردی کی لہر نے بھی ایک بار پھر شدّت سے سُر اٹھایا۔ کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس کی ہائی جیکنگ جیسے المیے سے دوچار ہونا پڑا۔ افغان طالبان، فتنتہ الخوارج اور بھارتی گٹھ جوڑ کے نتیجے میں سال بھر دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رہیں، تو سیکیوریٹی فورسز کی طرف سے ’’آپریشن عزمِ استحکام‘‘ کی صُورت اُنہیں سختی سے کُچلا بھی جاتا رہا۔
اِسی طرح تحریکِ لبیک پاکستان کے ایک احتجاج نے جب پُرتشدد رُخ اختیار کیا، تو اُسے کالعدم قرار دینے میں بھی تاخیر نہیں کی گئی۔ 26 ویں،27ویں آئینی ترامیم، عدالتی نظام کی ری اسٹرکچرنگ، لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کی 14 سال قید بامشقّت، سوشل میڈیا پرحکومتی کنٹرول، سُست انٹرنیٹ سروس، نیو گوادر ایئر پورٹ کی مکمل فعالیت، پی آئی اے کی نج کاری، کینال منصوبے کے خلاف تحریک، کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف کارروائیاں، ادویہ کی قیمتوں میں اضافہ، سُپر فلو، پولیوکیسز، سگ گزیدگی کے بڑھتے واقعات، آزاد کشمیر حکومت اور وزیراعلیٰ کے پی کے کی تبدیلی، 29 برس بعد چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی، مُلک کے حب، سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے والے شہر کی حالتِ زار، (جابجا کچرے کے ڈھیر، ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، کُھلے مین ہولز، ٹریفک حادثات اور اسٹریٹ کرائمز جس کی شناخت بن چکے ہیں) اور وزیرِاعلیٰ پنجاب، مریم نوازشریف کی شان دار کارکردگی (اَن گنت بہترین اقدامات سے عوام ہی فیض یاب نہیں ہوئے، کچھ منصوبوں، خصوصاً ’’سُتھرا پنجاب‘‘ کی بازگشت تو بیرونِ مُلک تک سُنی گئی)وہ موضوعات تھے، جو سالِ رفتہ یکے بعد دیگرے میڈیا سے لے کر آفسز، گلی محلوں اور گھروں کے ڈرائنگ رومز تک میں ڈسکس ہوتے رہے۔
سوشل میڈیا پر حسبِ سابق جھوٹ کا بازار خُوب گرم رہا، تو کئی اہم ایشوز کو ہائی لائٹ کرنے میں اِس کے اہم کردار سے انکار بھی ممکن نہیں۔ دنیا کا چیٹ جی پی ٹی، جیمینائی پر انحصار مزید بڑھا، تو کئی اے۔ آئی اینکرز، انفلوئنیسرز بھی میدان میں آگئے، ’’رِیلز ٹیب‘‘ اسکرولنگ بڑوں، بچّوں، بوڑھوں، خواتین کا پسندیدہ ترین شغل ٹھہرا، تو فیس بُک نے ایکس پرسبقت حاصل کیے رکھی۔ اے۔ آئی جنریٹڈ، ڈیپ فیک ویڈیوز کے ذریعے بعض معروف شخصیات کی پگڑیاں اچھالی گئیں، تو ’’پوڈ کاسٹ کلچر‘‘ نے بھی کسی کو شہرتِ دوام بخش دی، تو کسی کی بنی بنائی ساکھ بھی تباہ کر ڈالی۔
بانو بی بی قتل، اداکارہ عائشہ خان، حمیرا اصغرکی اندوہ ناک اموات، ڈکی بھائی کیس، ڈاکٹر نبیحہ کی شادی، لبوبوڈول کی بےسبب مقبولیت، فرشی شلوار کا بخار، گٹر کے ڈھکن، ٹینکرمافیا، بونڈائی بیچ پرمسلمان پھل فروش احمدالاحمد کی جراتِ رندانہ، انڈر19 ٹیم کے ہیرو سمیر منہاس، بھارت کاچیمپئنز ٹرافی کھیلنے کے لیے پاکستان آنے اور بعد ازاں محسن نقوی سے ایشیا کپ ٹرافی لینے سے انکار، بولی وُڈ کی’’لوگرو، دیمک، نیلوفر‘‘لولی وُڈ کی’’دُھرندر‘‘ اور ہالی وُڈ کی ’’پریڈیٹر‘‘ کے چرچے، گلوکارہ ٹیلرسوئفٹ، ٹریوس کیلس کی منگنی، کیٹی پیری کا خلائی سفر، کچھ پاکستانی ڈراموں، اداکاروں کی سرحد پاربھی حد درجہ مقبولیت مثلاً میم سے محبّت، پرورش، قرضِ جاں، مَیں منٹو نہیں ہوں(اوور ریٹڈ)جمع تقسیم، شرپسند، پامال اور اِن سب میں سرِفہرست معروف میڈیا اینکر، شاہ زیب خانزادہ کا تحریر کردہ پہلا ڈراما ’’کیس نمبر 9‘‘ (جب کہ اُن کا ٹاک شو تو پچھلے کئی برس سے پاکستان کا ٹاپ ریٹڈ شو ہے ہی) اور 2013-14ء کے بعد ’’پاکستان آئیڈل‘‘ کا دوسرا سیزن (جس نے مقبولیت میں بھارت کے بڑے بڑے شوز کو پیچھے چھوڑ دیا) وغیرہ۔ کچھ ایسے ہاٹ ایشوز ٹھہرے، جنہوں نے وقتاً فوقتاً مین اسٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمزبشمول یو ٹیوب، واٹس ایپ، ٹک ٹاک، انسٹا وغیرہ پر جگہ بنائے رکھی، خصوصاً 79.9 ملین پاکستانی سوشل میڈیا صارفین کی تو بھرپور توجّہ سمیٹی۔
یوں بھی اب تو پورا جہاں گویا ایک اسمارٹ فون ہی کی گرفت میں ہے۔ بہرحال، اکیسویں صدی کا چوتھائی حصّہ، سال 2025ء بھی تمام شُد۔ وہ کیا ہے کہ ؎ یوں مِرے دھیان سے گزرے کئی گزرے ہوئے دن.....جیسے اِک ٹُوٹے ہوئے پُل سے مسافر گزریں۔ گرچہ اِس الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کی دھکامُکی نے روایتی، شریف ومسکین سے پرنٹ میڈیا کو خاصا پیچھے دھکیل دیا ہے، لیکن بہرطور ہم حسبِ روایت اپنی ذمّےداری پوری کرتے ہوئے آپ کے لیے ایک بار پھر’’سال نامہ 2026ء‘‘ کی شکل میں سالِ گزشتہ کےلگ بھگ ہر شعبۂ ہائے زندگی کے مکمل، جامع اور غیرجانب دارانہ تجزیات، تبصروں کے ساتھ حاضرِ خدمت ہیں۔
اخبارات و جرائد کے حالاتِ کار آپ کے سامنے ہیں، مگرانتہائی محدود وسائل، بیش بہا مسائل کے باوجود بھی ہم نے 2025ء کو ایک دستاویز کی شکل میں مرتب کرہی ڈالا ہے، جس کا ’’حصّہ اوّل‘‘ آج آپ کے رُوبرو ہے۔ اُمید ہے، ہمیشہ کی طرح آپ کی طرف سے پسندیدگی و پذیرائی کی سند حاصل ہوگی۔ واضح رہے، تمام تر حالات و واقعات، اعدادوشمار وغیرہ 26 دسمبر 2025ء، کاپی پریس جانے تک کے ہیں۔ اور اب آخری بات وہی دہرائے دیتے ہیں کہ کچھ سیکھیں، حاصل کریں تو داد کے ساتھ جہاد بالقلم کے رستے پرگام زن ادارے اور کارکنانِ ادارہ کےلیے دستِ دُعا ضرور بلند کیجیے گا۔
نذیر نادر کی اِس خوب صُورت مناجات کے ساتھ ہماری طرف سے سالِ نو کی تہنیت قبول فرمائیں۔ ؎ ہو سالِ نو بہشت کا درپن خدا کرے.....ہر گھر مسرتوں کا ہو مسکن خدا کرے..... جاگ اُٹھیں اب دِلوں میں محبّت کے ولولے..... ٹھنڈا ہو نفرتوں کا یہ ایندھن خدا کرے..... ہر شخص، ہر غریب کی پوری مُراد ہو.....ہوں زندگی کے راستے چندن خدا کرے..... احساس اور شعور کے تنور جل اُٹھیں.....جل کر ہمارے شہری ہوں کندن خدا کرے.....ہر قافلے کو خیر کی منزل مِلے سدا.....ہر بَن ہو، اُس کی راہ میں گلشن خدا کرے.....نیکی کے راستے سے ہوں دشواریاں بھی دُور.....ساری برائیوں پہ ہو قدغن خدا کرے۔
نرجس ملک
ایڈیٹر، جنگ، ’’سنڈے میگزین‘‘