• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اندر خانے سرکاری اداروں اور لوگوں کی سونے اور تانبے کی کھدائی کرکے ملک سے باہر لے جانے کی وارداتوں کے بڑھتے ہوئے رنگ اور اعداد کو دیکھ کر مجھے شامِ شفق میں ایک فون آیا۔ وہ فون بند نہ ہوا اور ڈیڑھ گھنٹے تک مجھے یہ کہتا رہا کہ ہمیں حکم ملا ہے کہ آپ کا فون بند کردیا جائے۔ پوچھا کس نے حکم دیا ہے، سرکار کا حکم ہے، میں نے کہا میں خود سرکاررہی ہوں۔ مجھے کسی نے نہیں لکھا ہوا بھیجا۔ آخر اسی کج بحثی میں ڈیڑھ گھنٹہ گزر گیا۔ میں نے تنگ آکر این ۔آر۔ایس۔ پی میں نعیم کا نام بتایا کہ دیگر تفصیلات اس سے لے لو۔ جب اُسے انہوں نے فون کیا تو وہ پرانا گھاگ اور سرکارکی ساری کارکردگی کو جانتا تھا اس نے فوراً مجھے اور منصور کو فون کیا اور مجھے کہا، آپ فون کو ہاتھ مت لگائیں۔ منصور تکنیکی راز جانتا ہے۔ وہ آرہا ہے ۔ عزیزی منصور بچوں کو بازار لیکر جارہا تھا۔ میری دہائی سنی تو ان کو رستے میں چھوڑ کر میرے فلیٹ پر آکے فون پکڑ کر بیٹھ گیا ۔تھوڑی دیر بعد منصور اور نعیم نے مجھے بتایا کہ آپ کا فون ہیک ہوگیا تھا۔ انہوں نے نعیم کو کہا ’’آپ انکے اکاؤنٹس کا حساب رکھتے ہیں۔ وہ پچاس ہزار روپے فوری مانگ رہی ہیں،نعیم تو پہلے ہی انکے کرتوت سمجھ گیا تھا اتنے میں عاصمہ شیرازی کا فون آیا‘‘ آپ کا فون ہیک ہوگیاہے۔ میں سائبر کرائم والوں کو فون کرتی ہوں۔ آخر ان سب کی توجہ اور محنت کے بعد یعنی دو گھنٹے بعدفون ٹھیک کرکے، منصور بچوں کو لیکر انکی کتابیں لینے چلا گیا اور اسکے بعد راشد صاحب سے لیکر جسٹس اطہر اور اعتزاز احسن تک کے لگاتار رات دس بجے تک فون آتے رہے۔ذہنی طور پر تھکن کے باوجود میں نعیم اور عاصمہ کی شکر گزار رہی کہ ایک عذاب جو پورے ملک پر’’ فون ہیک‘‘ کرنے کاآیا ہوا ہے، جس نے مجھے جکڑلیا تھا اس سے جان چھوٹی۔ ادھرپہلے ہی ریکوڈک کی آوازیں تھیں۔ اب کے ۔پی اور بلوچستان کے لوگ اپنی مدد آپ کے تحت معدنی ذخائر کی لوٹ مار میںیکے بعد دیگرے پکڑے جارہے ہیں سونے کے بلاکس کی نیلامی میں بے ضابطگیوں کا اظہارسرکار اب خود کررہی ہے، بالکل اسطرح جیسے ہر صوبے کی آڈٹ رپورٹ میں کچھ بے ضابطگیوں کا حوالہ دیا جارہا ہے۔ اسکا جواب ہے۔ آئندہ احتیاط کرینگے ۔یہ ہر طرف کھربوں روپے کی بے ضابطگی پہلی دفعہ نہیں۔ قیام پاکستان کے وقت جو سروسز کے لوگ آئے تھے۔ انہوں نےایسے کھیل کھیلنا شروع کیے تھے۔ جو اب تک نام بدل بدل کرجاری ہیں۔ تبھی تو تین سال سے سارے اعلانات کے باوجود روپے کی قیمت گرتی ہی جارہی ہے اور ساری دنیا کی کرنسیاں بڑھ رہی ہیں اور ہم خوشی کا اظہار کرتے نہیں تھکتے کہ ہمیں ملکوں ملکوں اجلاس میں بلایا جارہا ہے۔ وعدے کئے جارہے ہیں ہم نے تین سوکسانوں کو چین تربیت کیلئے بھیجا، کیا ہی اچھا ہوتا اگرکہ زراعت میں ایم۔ ایس۔سی کئے ہوئے تین سو نو جوانوں کی مہارت اور اسکلز کو بہتر کرنے پر فنڈز خرچ کرتے۔ ہمارے ہر شہر میںعطائی ڈاکٹرز ، گردے خریدنے اور بیچنے والے دولت بنارہے ہیں۔ دوسرے ملکوں کے گردوں کے مریضوں کو لاکھوں لیکریہ عطائی گردے لگارہے ہیں۔ کبھی کوئی کام خراب ہوجائے تو اخبار میں خبر ہوتی ہے، عمل اس پر کبھی نہیں دیکھا۔ ابھی دیکھیں نا ،دریائے سندھ اور دریائے کابل کے کنارے سونے کے بلاکس کی نیلامی میں حکومت وقت کو کھربوں روپے کانقصان ہوا، اگلے دس سال تک یہ فروخت قانونی رہے گی؟ کیا کے۔ پی کے وزیراعلیٰ نےکوئی ایکشن لیا ۔شمالی علاقوں میںچرواہوں کی آواز ، نئی دنیا کا محضر نامہ ہے۔ انکو آپ وزیراعظم ہاؤس بلاکر، چھوڑ مت دیجیے گا۔انکو معدنیات کی کھدائی میں اپنی ایمانداری کے ساتھ باقاعدہ روزی دیں۔ مجھے خبر ہے سوکھی روٹی کھانے والوں کو یہ سرکاری چونچلے پسند نہیں آتے۔ وہ اپنے روزمرہ چرواہے کی زندگی سے آپ کے ساتھ ایک گھنٹے کو بیٹھنے پر اپنا پیشہ تیاگ نہ دیں۔

انکو ہنر سکھانے پہ کچھ ہنر مندوں کے ساتھ کام سیکھنے اورکرانے پر لگائیں۔ ان سارے غریبوں کو چند لمحوں کی عزت کی آڑ میں، روزگار کے خاص کر اب جو سونے، تانبے کے ذخائر کھودنے والے ہیں۔ وہ تو چرواہے ہیں۔ انکو پہاڑوں پر چڑھنا آتا ہے ۔ یعنی مشکل کام جو کان کنی ہے، وہ بھی آسانی سے کرسکتے ہیں۔ یہ وہ چرواہے ہیں جنہیں فون استعمال کرنا آتا ہے۔ انہوں نے فون کے ذریعے تین سو گھرانوں کو بچالیا۔ وزیراعظم کی محض تعریف ، ایک دن چلتی ہے۔ کام کرنے والے ہیں یہ لوگ، انکو اپناسمجھ کر، اپنےعلاقے میں تباہ شدہ گھروں کو دوبارہ تعمیر کرنے کی محنت میں شامل کریں۔

اب مصیبت یہ ہے کہ فی الوقت ، پاکستان کے کئی پرائیویٹ چینل کسی نہ کسی وزیر ،کسی ریٹائرڈافسر یا مل والے کی شراکت سے جو مرضی چاہیں کہلوادیتے ہیں،وہی بولنے والوں کی گفتار چیک کرتےہیں، وہ جو نکالے گئے، انکا پروفیشن جاری ہے۔ نقصان پھر سرکارکا ہورہا ہے کہ وضاحتیں کبھی 12صوبوں پہ اور کبھی چینی کی قیمت پر مگر سب سے زیادہ منہ کھول کے معدنیات کو لوٹنے والوں کی پیش بینی نہ کی گئی تو ہم غریب کے غریب رہیں گے۔ زمرد کی کانوں کی طرح یہ سب لوٹا جائے گا۔

تازہ ترین